ترتیب روشنائی

کلام الہی
قرآنی آیات
قرانی معلومات
فرمان نبوی
احادیث نبوی
سنت نبوی
کہانیاں
آیت کہانیاں
ایک حدیث ایک کہانی
اسلامی کہانیاں
سچی کہانیاں
تاریخی کہانیاں
نصیحت آموز کہانیاں
گھرتوآخر۔۔۔۔!
لوک کہانیاں
اخلاقی کہانیاں
دلچسپ کہانیاں
سونے کی تین ڈلیاں
سبق آموز کہانیاں
سائنسی کہانیاں
معلوماتی کہانیاں
شکار کہانیاں
جاسوسی کہانیاں
مزاحیہ کہانیاں
جانوروں کی کہانیاں
جنوں پریوں کی کہانیاں
وطن کہانیاں
ٹارزن کی کہانیاں
بادشاہوں،شہزادوں کی کہانیاں
جادو کی کہانیاں
سیر کہانیاں
جرم کی کہانیاں
جنگی کہانیاں
عمروعیّارکی کہانیاں
شرارت کہانیاں
مضامین
دین
تاریخ
معلومات
سائنس
دلچسپ وعجیب
طنزومزاح
جنگ و سامان جنگ
متفرق
تہذیب واخلاق
فن و فنکار
زبان و بیان
حالات و واقعات
حیوانیات
علم وادب
حشرات الارض
کھیل
پرندے
عالم اسلام
تاریخِ اسلام
جغرافیہ
نظمیں
حمد
نعت
دیگر نظمیں
لطائف
ادبی لطائف
تاریخی لطائف
دیگر لطائف
ڈرامہ
ناول
اقوال زریں
دعائیں
قرآنی دعائیں
مسنون دعائیں
نبوی دعائیں
صحابہ کی دعائیں
دیگر دعائیں
سیرۃ نبی کریم
متفرق
ہمارے رسول پاکﷺ
اُجالا
موقع بہ موقع
۱۷ رمضان، غزوۂ بدر
رمضان المبارک
عید الفطر
۲۷ دسمبر، یوم قائد اعظم
۵ فروری، یوم کشمیر
۹ نومبر، یوم اقبال
۲۷ رجب، معراج مصطفیٰ ﷺ
۱۰ ذالحجہ،عید الاضحیٰ
قصے
حدیث کے قصے
قرآنی قصے
حکایات
حکایات شیخ سعدیؒ
حکایات شیخ سعدی
حکایات سعدیؒ
حکایات مولانا رومیؒ
حکایات مولانا رومی
حکایات رومیؒ
دیگر حکایات
دیگر حکایات
ملک اور شہر
ملک
شہر
ضرب المثل / کہاوتیں
شخصیات
انبیاء کرام
صحابہ کرام
مسلم شخصیات
تاریخی شخصیات
مغربی شخصیات
نامور شخصیات
دیگر شخصیات
صحابیات
پہیلیاں
اسلامی نام
بچیوں کے اسلامی نام
ث
ت
پ
ب
ا
بچوں کے اسلامی نام
قلمکار
اعظم طارق کوہستانی
حسام چندریگر
شمعون قیصر
محمد الیاس نواز
حماد ظہیر
فریال یاور
علّامہ محمد اقبال
صوفی غلام مصطفیٰ تبسم
مولوی اسماعیل میرٹھی
شوکت تھانوی
احمد حاطب صدیقی
اشفاق حسین
پطرس بخاری
سیما صدیقی
فوزیہ خلیل
طالب ہاشمی
اشتیاق احمد
نذیرانبالوی
حبیب حنفی(شان مسلم)
قاسم بن نظر
طالب ہاشمی
راحیل یوسف
میر شاہد حسین
عبد القادر
غلام مصطفیٰ سولنگی
راحیل یوسف
احمد عدنان طارق
نوشاد عادل
بینا صدیقی
راحت عائشہ
فاطمہ نور صدیقی
اخترعباس
نجیب احمد حنفی
گل رعنا
جاوید بسام
ضیاء اللہ محسن
نائلہ صدیقی
امتیاز علی تاج
سعید لخت
راحمہ خان
معروف احمد چشتی
معروف احمد چشتی
فہیم احمد
دیگر
عظمیٰ ابو نصر صدیقی
ہدیٰ محسن
نظر زیدی
ظفر شمیم
شریف شیوہ
احمد ندیم قاسمی
مستنصرحسین تارڑ
مسعود احمد برکاتی
منیر احمد راشد
ڈاکٹرعمران مشتاق
شازیہ فرحین
محمد علی
مولانا الطاف حسین حالیؔ
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر
عمیر صفدر
محمد علی ادیب
غلام عباس
رفیع الدین ہاشمی
کاشف شفیع
عافیہ رحمت
عافیہ رحمت
بن یامین
ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی
محمد فیصل شہزاد
فائزہ حمزہ
حفصہ صدیقی
ابن آس
کلیم چغتائی
مریم سرفراز
مبشر علی زیدی
نیّر کاشف
قانتہ رابعہ
رؤف پاریکھ
رومانہ عمر
خواجہ حسن نظامی
ویڈیوز
معلومات
گوشہ خصوصی
مساجد
تاریخی عمارات
اقبالؒ نے کہا۔۔۔
تحریر کیسے لکھیں؟
مشاعرے
اسلامی تصورات پر ڈرامے
مزاحیہ ڈرامے
کلیہ و دمنہ ۔ اردو
چھوٹے بچوں کے لئے تحریریں
لڑکیوں کےلئے تحریریں
چچا چھکن
شرلاک ہومزکی کہانیاں
سفرنامے
ملاقاتیں/انٹرویوز
آپ یہاں ہیں: سرورقکہانیاںایک حدیث ایک کہانیمیرا نام ہے......!

میرا نام ہے......!

نذیر انبالوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیصلہ آپ نے کرنا ہے آپ کا نام تو میں نے پوچھا ہی نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

منظرنمبر 1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اس وقت ایک بازار میں کھڑی ہوں ۔بازار میں خرید وفروخت کا عمل جاری ہے ۔ایک کونے میں پھل کی ریڑھی پر اس طرح کی گفتگو ہو رہی ہے۔
’’بھئی سیب کتنے کے کلو دے رہے ہو؟‘‘
’’بہت مناسب قیمت ہے۔‘‘
’’کتنی مناسب؟‘‘گاہک نے ایک سیب کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پو چھا۔
’’صرف پچاس روپے کلو۔‘‘
’’پچاس روپے کلو‘یہ تو بہت زیادہ قیمت ہے‘کچھ کم کرو۔‘‘
’’آپ سیب کتنے کلو لیں گے؟‘‘
’’دو کلو تو لوں گا۔‘‘
’’آپ پانچ روپے کلو کم دیں دیں۔‘‘
’’نہیں چالیس روپے دوں گا۔‘‘
’’یہ تو باؤ جی کم ہیں یہی ریڑھی لبر ٹی میں لگی ہو تو سیبوں کی قیمت ساٹھ روپے کلو ہو جائے۔‘‘
’’مرضی ہے تمہاری‘میں تو چالیس روپے ہی دوں گا۔‘‘
’’باؤ جی آپ پہلی بار میرے پاس آئے ہیں اس لیے خاص رعایت کر رہا ہوں۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے تیزی سے سیب شاپنگ بیگ میں ڈالنے شروع کر دئیے۔گاہک کو سامنے دکھائی دینے والے عمدہ سیبوں کے ساتھ سیبوں کے پیچھے رکھے ہوئے گلے سڑے بھی کئی سیب شاپنگ بیگ میں جا چکے تھے۔سیب ترازو پر تولنے کے بعد اس نے شاپنگ بیگ کی گرہ اتنی مضبوطی سے لگائی کہ گاہک اس کو کھول نہ سکے۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟......‘‘گاہک نے پیسے دیتے ہوئے پوچھا۔
’’عاشق جی ......محمد عاشق......میں اس جگہ ریڑھی لگاتا ہوں ۔‘‘گاہک کے جاتے ہی محمد عاشق خود سے بولا۔
’’چلو کچھ خراب سیب ڈال کر پیسے پورے ہو گئے ہیں‘سیبوں کی ایک پیٹی تو آج بالکل خراب نکلی ہے‘اب اس خراب پیٹی کے سیبوں کو اس طرح چلتا کرنا ہے۔‘‘


منظر نمبر 2

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں محمد عاشق کو گھورتی ہوئی ایک طرف چل پڑی۔ایک امتحانی سینٹر کے باہر طالب علم کھڑے تھے۔کچھ طلبہ باتوں میں مصروف تھے اور کچھ درخت کے نیچے کھڑے کتابیں کھولے کچھ پڑھنے میں لگے ہوئے تھے۔
’’عمران میں تو شاید انگلش میں فیل ہو جاؤں......‘‘سجاد بولا۔
’’کیوں ......‘‘شہزاد نے پوچھا۔
’’میری تیاری زیادہ اچھی نہیں ہے۔‘‘
’’تیاری اچھی نہیں ہے تو پھر کیا ہوا ‘سب ٹھیک ہو جائے گا۔
’’مگر کیسے؟‘‘
’’تم سب کچھ مجھ پر چھوڑ دو......‘‘
’’کچھ بتاؤ تو سہی......‘‘
’’جب سنٹر میں جاؤ گے تو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔‘‘
’’یار کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں یار سب کام محفوظ ہے۔‘‘
’’یار مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
’’ڈرو مت ‘بس دو تین سو روپے میں کام ہو جائے گا‘ اتنے پیسے تو تمہارے پاس ہوں گے۔‘‘
’’رات تک تو نہیں تھے مگر اب ہیں۔‘‘
’’اب پیسے کہاں سے آگئے؟‘‘
’’ابا جی کا بٹوا زندہ باد۔‘‘
’’اچھا تو یہ بات ہے۔‘‘
وقتِ مقررہ پر وہ اپنی اپنی سیٹوں پر موجود تھے۔سوالیہ پیپر ملتے ہی سجاد کے ماتھے پر تو پسینہ آ گیا۔اس کو صرف ایک سوال یاد تھا۔وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھا تھا کہ اس کے اور میرے کانوں نے سنا تھا۔
’’دام دو کام لو۔‘‘
یہ مختصر سا جملہ سجاد کو سب کچھ سمجھا گیا تھا۔اس نے دام سے کام نکالا۔ اس نے سبھی سوال حل کیے۔وہ بہت خوش تھا۔سجاد جب سنٹر سے باہر نکلنے لگا تو نگران نے اس کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
میرے ہوتے ہوئے گھبرانا مت ‘تمہارے سب پیپر اچھے ہو جائیں گے۔‘‘
’’آپ کا کیا نام ہے؟......‘‘سجاد نے پوچھا۔
’’عاشق ‘محمد عاشق‘ میرا نا م محمد عاشق ہے۔‘‘
’’یہ سن کر سجاد کے ساتھ میں بھی سنٹر سے باہر آگئی۔


منظر نمبر 3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت میں ایک بس میں سوار ہوں ۔کنڈیکٹر بار بار ’’ٹکٹ لے لیں‘ ٹکٹ لے لیں۔‘‘کی صدا لگا رہا ہے۔
’’آپ نے ٹکٹ لے لیا ہے؟‘‘
’’جی۔‘‘
یہ سن کر کنڈیکٹر آگے بڑھ گیا۔
دو سٹاپ کے بعد سفید وردی والا ایک شخص بس میں سوار ہوا۔
’’ڈرائیور بس ایک طرف روک لو۔‘‘ڈرائیور اور کنڈیکٹر سفید وردی والے کو پہچان چکے تھے ۔اس کے کہنے پر بس ایک طرف روک دی گئی۔
’’ایک مسافر بس سے اترنے لگا تو سفیدی وردی والے نے کنڈیکٹر سے کہا۔
’’بس کے دونوں دروازے بند کر دو۔‘‘
’’بس کیوں روکی گئی ہے اور اب دروازے بند کرنے کی کی کیا تک ہے......ایک مسافر چلاّیا۔
محترم یہ ہماری کمپنی کے ٹکٹ چیکر ہیں ‘سب مسافر اپنے اپنے ٹکٹ نکال لیں۔‘‘
ٹکٹ چیکر نے تھوری دیر بعد فرداً فرداً ٹکٹ دیکھنے کا عمل شروع کر دیا۔
’’محترم ٹکٹ دکھائیں۔‘‘ ٹکٹ چیکر نے کالی رنگت والے شخص کو مخاطب کیا۔
’’جی ابھی دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی جیبو ں کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔
’’بھئی جلدی کریں‘وقت ضائع مت کریں۔
’’میرا خیال ہے ٹکٹ کہیں گم ہو گیا ہے۔‘‘
’’کہاں گم ہو گیا ہے آپ تو ابھی بس کے اندر ہی ہیں آپ نے ٹکٹ لیا بھی تھا یا نہیں۔‘‘
’’جی ......جی لیا تھا ٹکٹ ......‘‘مسافر بولا۔
’’اس نے ٹکٹ نہیں لیا ۔‘‘کنڈیکٹر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ٹکٹ دکھا دیں ورنہ جرمانہ ہو گا۔‘‘
’’میں کیوں جرمانہ دوں‘میں نے ٹکٹ لیا تھا۔‘‘
’’کچھ مسافروں نے اس کی حمایت کرنے کی کوشش کی تو ٹکٹ چیکر بولا۔
’’آپ مداخلت مت کریں مجھے کارروائی کرنے دیں۔‘‘
’’آپ کہاں سے سوار ہوئے ہیں اور کہاں جانا ہے؟......‘‘کنڈیکٹر نے پوچھا۔
’’اسٹیشن سے بیٹھا ہوں اور اچھرہ جانا ہے۔‘‘
’’لائیے گیارہ گنا جرمانہ ادا کریں اور اپنا نام لکھوائیے۔‘‘ٹکٹ چیکر نے کہا۔
’’جی میرانام محمد عاشق ہے۔‘‘ کالی رنگت والے کا لہجہ شکست خوردہ تھا۔میں اگلے سٹاپ پر اتر کر ایک باغ میں داخل ہو گئی۔


منظر نمبر 4

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باغ کے ایک کونے میں کچھ نوجوان بیٹھے تھے۔سبھی بہت خوش تھے۔
’’میری آ ج کی دیہاڑی ہے دو سو روپے۔‘‘نوید نے یہ کہہ کر دو سو روپے زمین پر رکھ دئیے۔
’’میں آج کما سکا ہوں چھ سو روپے۔‘‘عدنان بھی بول پڑا۔
’’میں آج کچھ نہیں کما سکا۔‘‘اعجاز کا لہجہ افسردہ تھا۔
’’کیوں؟‘‘سب نے یک زبان ہو کر پوچھا۔
’’یارو! میرے علاقے میں پولیس نے ذرا زیادہ ہی سختی کی ہوئی ہے۔تم تو جانتے ہو لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالنا میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔‘‘
’’اور آج کل تمہارا بایاں ہاتھ چھٹی پر ہے ۔‘‘نوید کی یہ بات سن کر ایک قہقہہ پڑا۔
’’تم کیا لائے ہو؟ ۔‘‘راجہ نے تھوڑی دیر پہلے آنے والے نوجوان سے پوچھا ۔
’’میں ہزاروں لایا ہوں۔‘‘
’’ہزاروں۔۔۔۔۔۔سب ایک زبان ہو کر بولے۔
’’پندرہ ہزار‘ میرے اندازے کے مطابق رقم کم ہے‘ بٹوا تو خاصا بھاری دکھائی دیتا تھا مگر اس میں ہزار کے نو ٹوں کی جگہ صرف سو اور پچاس روپے والے نوٹ تھے۔اگر ہزار ہزار روپے والے نوٹ ہوتے تو موج ہو جاتی۔‘‘
’’ اب بھی یہ رقم کم نہیں ہے‘ہم سب مل کر اتنی رقم اکٹھی نہیں کر سکے جتنی تم اکیلے لے آئے ہو۔‘‘عدنان بولا۔
’’دولت تو اس پرعاشق ہے عاشق ۔‘‘اعجاز نے کہا۔
’کیونکہ میرا نام ہی عاشق ہے محمد عاشق دولت ہم پر بھی کیوں ناں ہو عاشق سب روپے آپس میں برابر بانٹ لو اور عیش کرو محمد عاشق کی بدولت۔‘‘
میں محمد عاشق جیب کترے کی اس کے دوستوں کی زبانی تعریف سنتے ہوئے باغ سے باہر آگئی ۔محمد عاشق کی باتوں پر مجھے غصہ آرہا تھا۔


منظر نمبر 5

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میرے قدم ایک گلی میں رک گئے۔گلی میں ایک آدمی اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔میں ایک طرف کھڑی اس کو تکنے لگی ۔آدمی نے جب تسلی کرلی کے اس وقت گلی میں کوئی آنکھ اس کو نہیں دیکھ رہی تو اس نے ایک گٹر کا لوہے کا ڈھکن اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کی تو کھڑکی سے جھانکتے ہوئے ایک خاتون نے شور مچایا۔
’’پکڑو......پکڑو ...... گٹر کا ڈھکن چور بھاگ رہا ہے۔‘‘
یہ شور سن کر قریبی کار خانے سے کئی کاریگر نکل کر چور کا تعاقب کرنے لگے ۔میں بھی ان کے ہمراہ تھی۔چور تھوڑی دیر بعد پکڑا جا چکا تھا۔اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔اس نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی ۔
’’مجھے معاف کر دیں۔‘‘
’’ہم تمہیں پولیس کے حوالے کریں گے۔‘‘ایک آواز ابھری۔
’’اللہ کے واسطے ایسا مت کرنا‘میں آئندہ ادھر کا رخ بھی نہیں کروں گا۔‘‘
’’تم یہاں سے جاؤ گے تو ادھر کا رخ کرو گے۔‘‘یہ کہہ کر ایک نوجوان نے چور کو مارنا شروع کر دیا۔اس کی دیکھا دیکھی کئی اور لوگ بھی چور کو مارنے لگے جب چور کی اچھی خاصی پٹائی ہو گئی تو ایک بزرگ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
’’مت مارو اس کو ‘چھوڑ دو اس کو۔‘‘
’’بزرگو یہ چور ہے پکا چور‘کئی بار یہ گٹر کے ڈھکن چوری کر چکا ہے۔‘‘ایک نوجوان نے جوشیلے انداز میں کہا۔
’’اسے چھوڑ دو یہ آئندہ ایسی بری حرکت نہیں کرے گا۔‘‘بزرگ نے کہا۔
’’ہاں ......ہاں میں یہ برا کام چھوڑ کر محنت مزدوری کروں گا میں آئندہ ایسی حرکت ہرگز نہیں کروں گا ۔‘‘چور نے رو ہانسی صورت بنا کر کہا۔
بزرگ کے سمجھانے اور چور کے التجا کرنے پر اس کو محلے والوں نے چھوڑ دیا۔جب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بڑھے تو بزرگ نے چور سے پوچھا۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’جی میرا نام ......؟
’’ہاں تمہار انام ......‘‘
’’میرا نام ہے جی‘ محمد عاشق ......‘‘
’’بہت خوبصورت ہے نام تمہارا‘اپنے نام کی لاج رکھو اور محمد ﷺ کے عاشق بنو۔‘‘
’’جی اپنے نام کی لاج رکھوں گا اور آئندہ چوری نہیں کروں گا۔‘‘محمد عاشق کی باتوں سے بزرگ کے چہرے کے ساتھ ساتھ میرے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔


منظر نمبر 6

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئیڈیل ہائی سکول میں چھٹی ہو چکی ہے۔میں گیٹ کے سامنے کھڑی سکول کے بچوں کو دیکھ رہی ہوں ۔سکول کے باہر کئی خوانچہ فروش آوازیں لگا لگا کر بچوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔دو بچے تیزی سے سکول سے نکل کر گولیوں ٹافیوں کی ایک ریڑھی کی طرف بڑھے۔ریڑھی پر طلبہ کا خاصہ رش تھا۔دونوں بچوں میں سے ایک نے چپکے سے ایک مرتبان سے کئی ٹافیاں نکال کر ان سے اپنے ہاتھ کو بھر لیا۔اس سے قبل کے وہ آگے بڑھتا۔ریڑھی والا اس کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
’’ابے بھاگ کر کہاں جاتا ہے؟‘‘
بچے نے ریڑھی والے کے ہاتھ پر دانت کاٹ کر خود کو چھرانے کی کوشش کی مگر بے سود، اس کا دوست تو موقع پاتے ہی نو دو گیارہ ہو گیا تھا۔
’’بولو کب سے ٹافیاں چرا رہے ہو؟‘‘
’’دوسری مرتبہ مرتبان سے ٹافیاں چرائی ہیں ۔‘‘
’’یہ مرتبان کی ساری ٹافیاں تمہاری بھی ہو سکتی ہیں ۔‘‘
’’وہ کیسے ؟‘‘
’’اگر آئندہ چوری کے لیے تمہارا ہاتھ مرتبان کی طرف نہ بڑھے تو ‘بولو منظور ہے۔‘‘
’’ہاں منظور ہے۔‘‘
’’لو اب ساری ٹافیاں تمہاری ہیں۔تمہارا نام کیا ہے؟۔‘‘
’’میرانام ہے محمد عاشق۔‘‘
’’محمد عاشق......‘‘ریڑھی والے نے دہرایا۔
’’جی میرا نام محمد عاشق ہے۔‘‘


منظر نمبر 7

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت ہے۔تین بچے گلے میں بستے ڈالے ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلے ہیں‘ میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔گول باغ کے قریب ایک بڑھیا سر پر ایک لوہے کا بکس اٹھائے بہت مشکل سے چل رہی ہے۔ایک بچے کو بڑھیا پر رحم آگیا۔اس نے اپنے دوستوں کو مخاطب کیا۔
’’ہمیں اس بڑھیا کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘
’’تو پھر کرو مدد منع کس نے کیا ہے۔‘‘ ایک دوست نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’ہم اس کی کیا مدد کر سکتے ہیں ہمیں تو ٹیوشن سے دیر ہو رہی ہے۔‘‘دوسرا دوست بھی بول پڑا۔
میں تو اس کا بکس اپنے سر پر اٹھا کر اسے منزل تک چھوڑ کر آؤں گا۔‘‘
’’قلی اوئے قلی۔‘‘ دوستوں نے اس کا مذاق اڑایا ۔اس نے اپنے دوستوں کے منع کرنے کے باوجود بکس اپنے سر پر اٹھایا اور خاموشی سے بڑھیا کے ساتھ ہو لیا۔جبکہ اس کے دوست ٹیوشن سنٹر کی طرف بڑھ گئے ۔بڑھیا آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔دو تین گلیوں کے بعد ایک گھر کے سامنے جا کر بڑھیا بولی ۔
’’بس بیٹا میرا گھر آگیا ہے۔‘‘
یہ سن کر بچے نے بکس اپنے سر سے اتار کر زمین پر رکھ دیا۔
’’بیٹا جیتے رہو‘خوش رہو‘ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’ماں جی ! میرا نام محمد عاشق ہے۔‘‘
’’بہت پیارا نام ہے‘تم بھی اپنے نام کی طرح بہت پیارے ہو‘ تم واقعی محمد عاشق ہو ‘محمد ﷺ بھی اسی طرح لوگوں کی مدد کیاکرتے تھے۔بیٹا اسی طرح لوگوں کی مدد کرتے رہنا ۔‘‘محمد عاشق بڑھیا کی دعائیں لیتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا۔اس کو ٹیوشن سے چند منٹوں کی دیر تو ہو گئی تھی مگر وہ خوش تھا کہ وہ ان منٹوں کو ایک نیکی کے لیے خرچ کر کے آیا ہے۔ننھے محمد عاشق نے مجھے خوش کر دیا ہے۔کیا آپ بھی مجھے خوش کرنا چاہتے ہیں۔ارے آپ نے میرے بارے میں تو پوچھا ہی نہیں کہ میں کون ہوں ؟بھلا بتاؤ تو سہی میں کون ہوں ؟ذرا سوچو‘غور کرو‘ ارے فکر مند مت ہو‘میں خود ہی اپنے بارے میں بتا دیتی ہوں ۔میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ سے ادا ہونے والی حدیث مبارکہ ہوں پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے ’’میری امت کے سارے ہی لوگ جنت میں جائیں گے سوا اُ ن کے جو انکار کریں گے ‘پوچھا گیا انکار کرنے والا کون ہیں؟ ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت(حکم ماننا) کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نا فرمانی کی تو حقیقت میں اس نے میرا انکار کیا۔’’آپ نے مختلف مناظر میں کئی محمد عاشق دیکھے ان میں سچا عاشق کون سا ہے؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے آپ کا نام تو میں نے پوچھا ہی نہیں ‘کیا نام ہے آپ کا ؟کیا کہا محمدعاشق بہت خوب ‘اپنے نام کی لاج رکھیں سچے محمد عاشق بنیں اس سے اللہ بھی خوش ہوگا اور اس کا نبی ﷺ بھی ‘اللہ کا نبی ﷺ خوش ہو گیا تو میں خوش ہو جاؤں گی۔