skip to Main Content

۹ ۔ عقبہ میں

محمد حمید شاہد

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دانائے سُبل مولائے کُل ختم الرُسُل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سِینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسین وہی طٰہٰ
اقبالؔ

اُمید کی کرنیں
۱۱ بعد نبوت
اور
موسم حج
محمد(ﷺ)اپنے فرض کی بجا آوری میں پہلے کی طرح اب بھی سرگرم عمل ہیں۔ لیکن اب مقامی لوگوں کے بجائے اُن کا اصل ’’ٹارگٹ‘‘ وہ لوگ ہیں جو دوسری بستیوں سے مکہ حج کا مقصد لیے پہنچتے ہیں۔ دن کو تو کفار پیچھا نہیں چھوڑتے۔ جہاں جاتے ہیں، سایے کی طرح پیچھے لگ جاتے ہیں اور دعوتِ حق دینے لگتے ہیں تو شورمچا دیا جاتا ہے۔ اس لیے محمد(ﷺ) فیصلہ کرتے ہیں کہ:
’’رات مکہ سے نکل کر باہر لوگوں سے رابطہ قائم کیا جائے۔‘‘
جب رات کی سیاہی گھنیری ہوجاتی ہے۔ آکاش پر آفتاب کے بجائے ماہتاب اپنے چمکتے دمکتے ہم جولیوں کے ساتھ اپنا کھیل شروع کر دیتا ہے۔ تو آپ(ﷺ) چھپتے چھپاتے مکہ سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور منٰی کی جانب چل پڑتے ہیں۔ عقبہ کے مقام پر پہنچتے ہیں تو کچھ لوگوں کی گفتگو کی آواز سنائی دیتی ہے۔ آپ(ﷺ) آواز کی جانب بڑھتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں چھ ۱؂افراد موجود ہیں اور کسی مسئلے پر بحث کر رہے ہیں۔ قریب پہنچ کر آپؐ پوچھتے ہیں:
مَنْ اَنْتُمْ
’’آپ کون ہیں؟‘‘
جواب ملتا ہے:
’’ہم یثرب سے آئے ہیں اور قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
آپ(ﷺ) فرماتے ہیں:
’’کیا آپ لوگ تھوڑی دیر کے لیے تشریف رکھیں گے میں آپ سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں؟‘‘
اہل گروہ کہتے ہیں:
’’کیوں نہیں۔۔۔ فرمائیے!‘‘
یہ کہہ کر وہیں بیٹھ جاتے ہیں اور ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں۔ آپ(ﷺ) ان کے سامنے خدا کی عظمت و کبریائی بیان کرکے اُن کی محبت کو خدا کے ساتھ گرماتے ہیں اور بتوں سے نفرت دلاتے ہیں۔ نیکیوں اور پاکیزگی کی تعلیم دے کر برائیوں اور گناہوں سے رُک جانے کو کہتے ہیں۔ اسلام کی دعوت اُن کے سامنے رکھنے کے بعد خداوندِ کریم کا کلام قرآن مجید نہایت پُر سوز آواز میں اُنھیں سناتے ہیں۔ قرآنِ مجید اور دعوتِ حق سن کر سب بہت متأثر ہوتے ہیں۔ اُن میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگتا ہے:
’’بھائیو، جان لو! یہ تو وہی نبی ہے جس کی آمد کے ڈراو۲؂ے یہودی تمھیں دیا کرتے تھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم پر سبقت لے جائیں۔‘‘
پھر پورے اطمینان اور حضوری قلب کے ساتھ دعوتِ حق قبول کر لیتے ہیں اور خوشی خوشی یثرب پلٹ جاتے ہیں۔ یثرب پہنچتے ہی وہ دعوتِ حق کے سچے مناد بن جاتے ہیں اور ہر ایک کو خوش خبری سناتے پھر رہے ہیں کہ:
’’وہ نبی جس کا تم کو انتظار تھا وہ تو آ گیا ہے۔ ہم نے اُس نبی کا کلام اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے اُس کا دیدار کیا۔ اُس نے ہمارے سامنے اُس خدا کا کلام پڑھا جو زندہ رہنے والا ہے۔ جو کچھ اُس نے ہمارے سامنے رکھا۔ خدا کی قسم! اُس کے سامنے زندگی اور موت ہیچ ہیں۔‘‘
یہ لوگ گلی گلی اور گھر گھر دعوت محمد(ﷺ) کا چرچا کرتے اور نبی کے آنے کی خوش خبری سناتے پھرتے ہیں۔ نتیجتاً اگلے سال یثرب کے بارہ۳؂ باشندے مکہ حاضر ہوتے ہیں اور عقبہ کے ہی مقام پر محمد(ﷺ) سے ملاقات کرتے ہیں۔ محمد(ﷺ) پہلے کی طرح ان کے سامنے بھی دعوتِ حق رکھتے ہیں۔ تو یہ بھی کھلے دل سے اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اسی موقع پر محمد(ﷺ) دعوتِ حق قبول کرنے والوں سے حلف لیتے ہیں۔ یہ کہ
اِن لا نشرکَ باللّٰہ شیءًا ولا نسرِق ولا نزنی ولا نقتُل اولادَنَا ولا فاتی ببہتانِ نقتریہ اَیْدِیْنا وارجلنا ولا نعصیہ فی معروفٍ و نعطیہ السمع والطاعغ فی العُسرِوالیُسرِ والمنشط والمکرہ وَاثَرۃٍ عَلَیْنَا و ان لاننازع الامر اہلہ و ان نقول بالحقّ حیث کنا لاتحافُ یومۃَ لائمٍ
’’ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ چوری نہ کریں گے نہ زنا کریں گے۔ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گے۔ اور یہ کہ کسی معروف میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اور آپؐ کا حکم سنیں گے اور مانیں گے۔ خواہ ہم خوش حال ہوں یا تنگ حال خواہ ہمیں وہ حکم گوار ہویا ناگوار اور خواہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے اور ہم اَمر کے معاملے میں اہل اَمَر سے نزاع نہ کریں گے اور یہ کہ ہم جہاں اور جس حال میں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔‘‘
عہد لے چکنے کے بعد محمد(ﷺ) فرماتے ہیں:
فان وفیتم فلکم الجنہ و من غشی من ذالک کان امرہ الی اللّٰہ اِن شاء عذبہ و ان شاء عفا عنہٗ
’’اگر تم نے اس عہد کو وفا کیا تو تمھارے لیے جنت ہے۔ اور اگر کسی نے ممنوع کاموں میں سے کسی کو اختیار کیا تو اُس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ چاہے تو عذاب دے، چاہے تو معاف کر دے۔‘‘
ایمان کی دولت سے مالامال ہو کر اہل یثرب واپس پلٹنے لگتے ہیں تو محمد(ﷺ) مصعب۴؂ بن عمیر کو حکم دیتے ہیں کہ:
’’تم بھی ان کے ہمراہ یثرب جاؤ۔ انھیں قرآن سکھاؤ اور اِسلام کی تعلیم دو۔‘‘
مصعبؓ بن عمیر اس قافلے کے ہمراہ یثرب جا پہنچتے ہیں۔ اور خوب جانفشانی سے دعوتِ حق ایک ایک فرد تک پہنچاتے ہیں۔ بالآخر مصعبؓ بن عمیر کی کوشش برگ و بار لاتی ہیں اور اسلام کا چرچا پورے یثرب میں ہوجاتا ہے۔ مصعبؓ بن عمیربڑے حکیمانہ انداز سے دعوتِ حق سردارانِ یثرب کے سامنے رکھتے ہیں تو بنی عبدالاشہل کے دو سردار سعد ۵؂بن معاذ اور اسید ۶؂بن حضیر مسلمان ہوجاتے ہیں۔ ان کے مسلمان ہوتے ہی پورا قبیلہ ایک روز کے اندر اندر مسلمان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انصار کے تمام قبیلے بھی اسلام سے متأثر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مصعبؓ بن عمیر کی کاوشوں کے نتیجے میں اگلے سال ۱۳ بعد نبوت تہتر مردوں اور دو عورتوں پر مشتمل ایک بہت بڑا قافلہ محمد(ﷺ) کو یثرب لانے کے لیے یثرب سے چل پڑتا ہے۔
عہد
چمکتے دمکتے ستاروں کی مدہم مدہم روشنی میں محمد(ﷺ) اپنے چچا عبا۷؂سؓ بن عبدالمطلب کے ہمراہ عقبہ کے نشیبی مقام کی جانب لمبے لمبے قدم اُٹھاتے، بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ جونہی نشیب میں پہنچتے ہیں۔ ایک بہت بڑا قافلہ وہاں موجود پاتے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو محمد(ﷺ) کو ظلم و جبر کی بستی مکّہ سے نکال کر پیارو الفت کی بستی یثرب لے جانا چاہتے ہیں۔ سلام و دعا کے بعدعباسؓ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں:
’’اے یثرب کے لوگو! تمھیں معلوم ہے کہ قریش محمد(ﷺ) کے جانی دشمن ہیں لیکن ہم حسب نسب اور شرف کی بنا پر ان کی حفاظت کر رہے ہیں اورا س وجہ سے یہ اپنی قوم کے اندر ایک محفوظ مقام رکھتے ہیں۔ مگر محمد(ﷺ) سب کو چھوڑ کر تمھارے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ سوچ لو، کہ یہ ایک بہت نازک اور مشکل کام ہے۔ محمد(ﷺ) سے عہد لینا سر۸؂خ و سیاہ لڑائیوں کو دعوت دینا ہے۔ ان کی ذمہ داری اُٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ تم پورے عرب کو اپنا دشمن بنا رہے ہو۔ کیا تمھارے اندر اتنی طاقت ہے کہ تم اہل عرب کی عداوت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکو۔ لہٰذا سوچ سمجھ کر رائے قائم کرو۔ ورنہ یہی بہتر کہ تم کچھ بھی نہ کرو۔‘‘
اہل یثرب کہتے ہیں:
’’عباسؓ! ہم نے آپ کی بات سن لی۔‘‘
پھر محمد(ﷺ) سے مخاطب ہوکر عرض کرتے ہیں:
’’یا رسول اللہ! کچھ آپؐ ارشاد فرمائیں!‘‘
محمد(ﷺ) قرآنِ پاک کی چند آیات اہل یثرب کے سامنے رکھتے ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور اللہ عزوجل کی کبریائی بیان کرتے ہیں۔ پھر اہل یثرب سے بیعت لیتے ہیں کہ
’’تم میری اِسی طرح حفاظت کرو گے جس طرح تم اپنے بال بچوں کی حفاظت کیا کرتے ہو‘‘
اہل یثرب سے براءؓ بن۹؂ معرور اُٹھ کر آگے بڑھتے ہیں اور محمد(ﷺ) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کرتے ہیں:
’’جی ہاں! اُس خدا کی قسم کہ جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ ہم آپ کی اس سے بھی زیادہ حفاظت کریں گے۔ جتنی خود اپنی جان اور اپنی اولاد کی کرتے ہیں۔ پس یا رسول اللہ! ہم سے عہد لے لیجیے۔ ہم جنگجو لوگ ہیں۔ اور یہ بات ہمیں باپ دادا کے ورثہ میں ملی ہے۔‘‘
ابوالہیثم بن التہان درمیان میں بات کاٹ کر استفسار کرتا ہے:
’’یا رسول اللہ! ہمارے اور دوسر۱۰؂ے لوگوں کے درمیان حلیفانہ تعلقات ہیں، جن کو ہم توڑ دینے والے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب آپؐ کو غلبہ عطا ہو تو آپؐ ہمیں چھوڑ کر اپنے قبیلے کے پاس واپس چلے جائیں۔‘‘
محمد(ﷺ) یہ سن کر مسکرا دیتے ہیں اور جواب دیتے ہیں:
’’نہیں، اب تو خون کے ساتھ خون اورقبر کے ساتھ قبر۱۱؂ ہے۔ میں تمھارا ہوں اور تم میرے ہو جس سے تمھاری لڑائی اُس سے میری لڑائی، جس سے تمھاری صلح اُس سے میری صلح۔‘‘
’’یا رسول اللہ! ہمیں اس کا اجر کیا ملے گا؟‘‘
یثرب والوں میں سے کسی نے پوچھا تو محمدؐ فرماتے ہیں:
’’اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی سبھی کے سبھی اُٹھ کر محمد(ﷺ) کی جانب عہد کی غرض سے بڑھتے ہیں کہ اِسی گروہ کا سب سے کم سِن اسد بن زُرارہ محمد(ﷺ) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور چیخ کر کہتا ہے:
’’یثرب والو! ٹھہر جاؤ!ہم اونٹ دوڑاتے ہوئے ان کے پاس اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں آئے کہ ہم جانتے تھے۔ یہ اللہ کے رسولؐ ہیں اور آج ان کو نکال کر ساتھ لے جانا ہے اور تمام عرب کی دشمنی کو مول لینا ہے۔ اس کے نتیجے میں تمھارے نونہال قتل کیے جائیں گے اور تلواریں تمھارا خون پی جائیں گی۔ لہٰذا تم اپنے اندر اگر اس کو برداشت کرنے کی طاقت پاتے ہو تو ان کا ہاتھ تھام لو اور تمھارا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ لیکن اگر تمھیں اپنی زندگیوں کا ڈر ہے تو پھر ابھی چھوڑ دو اور واضح طور پر عذر کر دو۔ کیونکہ اس وقت کا عذر اللہ کے ہاں زیادہ قابلِ قبول ہوگا۔‘‘
یہ سن کر سب بیک زبان کہتے ہیں:
’’ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ، اللہ کی قسم! ہم اس بات کو ہرگز نہ چھوڑیں گے اور نہ اس سے ہاتھ کھینچیں گے۔‘‘
ایک شیطان پہاڑ کی چوٹی سے یہ نظارہ دیکھ کر چیخ چیخ کر مکّہ والوں کو پکارتا ہے:
’’لوگو آؤ! دیکھو محمد(ﷺ) اور اُس کے فرقے کے لوگ تم سے لڑائی کے مشورے کر رہے ہیں۔‘‘
محمد(ﷺ) یہ آوازہ سن کر فرماتے ہیں:
’’تم اس صدا کی پرواہ نہ کرو۔‘‘
عباسؓ بن عباد، شدّتِ جذبات میں آکر کہتے ہیں:
’’یا رسول اللہ! اگر آپؐ اجازت دیں تو ہم کل ہی مکہ والوں کو اپنی تلوار کے جوہر دکھلا دیں۔‘‘
لیکن محمد(ﷺ) فرماتے ہیں:
’’نہیں، مجھے ابھی جنگ کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ:

۱۔ چھ افراد یہ تھے: (۱) ابوالہیثم بن تہیان۔ (۲) ابوامامہ اسعدبن زرارہ۔ (۳) عوف بن حارث۔ (۴) رافع بن مالک بن عملان۔ (۵) قطبہ بن عامر بن حدیدہ۔ (۶) صابر بن عبداللہ۔

۲۔ اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کو اسلام کے لیے تیار کر دیا تھا۔ وہ اس طرح کہ یہ یہودیوں کے ساتھ یثرب میں رہتے تھے۔ اور یہودی اہل کتاب اور اہل علم تھے۔ جبکہ یہ لوگ بت پرست اور مشرک تھے۔ اپنی بستیوں میں یہودیوں کو غلبہ حاصل تھا۔ جب ان میں کوئی جھگڑا ہوتا تو یہودی ان سے کہتے: ’’ابھی چند روز میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے، جس کا زمانہ بہت قریب آ چکا ہے۔ ہم اُس کی پیروی کریں گے اور اُس کے ساتھ رہ کر تمھیں عاد و ارم کی طرح قتل کریں گے۔ حضورؐ نے جب اُن لوگوں کے سامنے دعوت رکھی تو فوراً ان کے ذہنوں میں اہل یہود کی پیش گوئیاں آ گئیں اور یوں یہ سبقت لے گئے۔ (ابن ہشام بحوالہ ابن اسحاق)

۳۔ اسید بن حضیر، ابولہیثم بن تہیان، سعد بن خثمیہ، اسد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، سعید بن عبادہ، منذربن عمرو، براء بن معرور، عبداللہ بن عمرو، عبادہ بن الصامت، رافع بن مالک۔

۴۔ یہ بزرگ اور اہل فضل صحابہ میں سے ہیں۔ پہلی ہجرت حبشہ میں پہلے قافلے کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ پھر بدر میں شریک و حاضر ہوئے۔ حضورؐ نے بیعت عقبہ کے موقع پر مدینہ روانہ فرمایا۔ تاکہ اہل ایمان کو قرآن کی تعلیمدیں۔ سب سے پہلے انھوں نے ہی حضورؐ کی ہجرت سے پہلے مدینہ میں جمعہ قائم کیا۔ زمانہ جاہلیت میں نہایت آرام کی زندگی گزارتے تھے۔ اور نہایت باریک لباس استعمال فرماتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے تو دنیا سے بے نیاز ہوگئے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری جلد سانپ کی طرح کھردری ہوگئی۔ مدینہ میں یہ انصار کے مکانوں پر جاتے ہیں اور اُنھیں دعوت دیتے۔ جب اسلام کی اشاعت ہوگئی تو حضورؐ سے بذریعہ خط و کتابت جمعہ قائم کرنے کی اجازت حاصل کی۔ بیعت عقبہ ثانی کے موقع پر ستر افراد لے کر حاضر ہوئے۔ اور مکہ میں مختصر عرصہ قیام فرمایا۔ پھر آپؐ کی ہجرت سے قبل ہی مدینہ لوٹ گئے۔ مدینہ میں سب سے پہلے پہنچے۔ جنگِ اُحد میں شہادت پائی۔ مصعبؓ بن عمیر کی عمر شہادت کے وقت چالیس سال سے کچھ زائد تھی۔ قرآن کی آیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صدقوا ما عاہد و اللّٰہ علیہ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کے معاہدہ کو سچائی کے ساتھ پُورا کیا۔‘‘ انہی کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضورؐ کے دارارقم میں داخلہ کے بعد ایمان لائے۔

۵۔ انصاری ہیں۔ مدینہ میں عقبہ اولیٰ اور ثانیہ کے درمیانی عرصہ میں اسلام قبول کیا۔ ان کے اسلام لانے کو دیکھ کر عبدالاشہل کے بیٹے اور خاندان والوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انصار کے تمام خاندانوں میں یہ پہلا خاندان تھا۔ جو اسلام لایا۔ حضور ﷺ نے اِن کو ’’سیدانصار‘‘ کا خطاب دیا۔ یہ اپنی قوم میں بڑے بزرگ اور سردار تسلیم کیے جاتے تھے۔ غزوہ بدر اور اُحد میں شریک رہے۔ جنگ خندق میں کہنی کی اگلی جانب تیر لگا جس سے رگ اکحل کٹ گئی اور اس زخم کی وجہ سے مہینہ بھر زندہ رہ کر شہید ہوگئے۔ جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ شہادت کے وقت ان کی عمر ۳۷ سال تھی۔

۶۔ یہ بھی بنی عبدالاشہل کے سردار تھے جو مصعبؓ بن عمیر کے ہاتھ پر اسلام لائے۔

۷۔ حضورؐ سے دو سال بڑے تھے۔ عباسؓ دورِ جاہلیت میں بہت بڑے سردار تھے۔ مسجد حرام کی عمارت یعنی آبادی و احترام اور سقایہ کی ذمّہ داری انہی پر تھی عباسؓ نے اپنی موت کے وقت ستر غلام آزاد کیے۔ ۱۲؍رجب ۲۲ہجری میں وفات پائی۔ اُس وقت عمر ۸۸سال تھی۔ جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ ابتدا ہی میں اسلام لے آئے تھے مگر اسلام کو چھپائے رکھا۔ چنانچہ بدر میں مشرکین کے مجبور کرنے پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر حضورؐ نے فرمایا: ’’جو عباس کو ملے اُس کو قتل نہ کرے کیونکہ وہ زبردستی جنگ میں شریک کیے گئے ہیں۔‘‘ ان کو ابی کعب بن عمر نے قید کیا۔ تو عباسؓ نے اپنے نفس کا فدیہ دے کر رہائی حاصل کی اور مکّہ واپس ہوگئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد مدینہ کی جانب چل پڑے۔

۸۔ سرخ لڑائیوں سے مراد خونی لڑائیاں اور سیاہ لڑائیوں سے مراد تباہی و بربادی والی لڑائیاں ہیں۔

۹۔ خزرجی انصاری ہیں۔ حضورؐ کی ہجرت سے ایک ماہ قبل انتقال ہوا۔ آپ صحابہ میں سے پہلے ہیں، جنھوں نے حضورؐ کے لیے کوئی جائداد وقف کی۔ آپ نے اپنی ثلث جائداد حضورؐ کے لیے وصیتاً وقف کی، لیکن حضورؐ نے کمال شفقت سے یہ جائداد ان کی اولاد کو لوٹا دی۔

۱۰۔ یعنی یہودیوں کے دوسرے قبائل۔

۱۱۔ یعنی زندگی اور موت کا ساتھ ہے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top