skip to Main Content

۸ ۔ سفرنامہ معراج

محمد حمید شاہد

۔۔۔۔۔۔

مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰیO اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰیO وَ لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰیOلا عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰیO عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَأوٰی Oط اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰیOلا مَا زَاغَ البَصَرُ وَمَا طَغٰیO لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰیO
(النجم۱۱ ۔ ۱۸)
نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟ اور ایک مرتبہ پھر اُس نے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا، جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔ اُس وقت سدرۃ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اُس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔

مبارک رات
رات کی گھنیری سیاہی چہارسو پھیلی ہوئی ہے۔ محمد (ﷺ) حر۱؂م کعبہ میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسی لمحے جبرا۲؂ئیل آ کر جگاتا ہے اور زمزم کے پاس لے جاتا ہے۔ وہاں آپ(ﷺ) کا سینہ شق کرنے کے بعد اُسے زمزم کے پانی سے دھوتا ہے۔ پھر علم، بردباری، دانائی اور ایمان و یقین اس میں بھر دیتا ہے اور اُنھیں ایک ’’برا۳؂ق‘‘ پر بٹھا کر یثرب لے جاتا ہے۔ جہاں محمد(ﷺ) نماز ادا کرتے ہیں۔ اِس مقام پر جبرائیل کہتا ہے:
’’یہاں آپؐ ہجرت کرکے آئیں گے۔‘‘
دوسری منزل طورِ سینا ہے۔ اس مقام پر خداوندِ کریم نے عیسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کی تھی۔ پھر اس مقام پر پہنچتے ہیں۔ یہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام کا نام ’’بیت اللحم‘‘ ہے۔ یہاں سے ’’بیت المقدس‘‘ پہنچ کر براق کا سفر ختم ہوجاتا ہے۔
محمد(ﷺ) بیت المقدس میں داخل ہوتے ہیں تو ماضی میں جتنے بھی انبیا اس روئے زمین پر تشریف لائے تھے۔ اُنھیں یہاں موجود پاتے ہیں۔ محمد(ﷺ) کے پہنچتے ہی صفیں بندھ جاتی ہیں۔ جبرائیل محمد (ﷺ) کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ محمد(ﷺ) کی امامت میں تمام انبیائے کرام نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز سے فارغ ہوکر جبرائیل محمد(ﷺ) کو آسمان کی جانب لے جاتا ہے۴؂۔ آسمان پر محمد(ﷺ) حیرت انگیز مناظر کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہی کہ کچھ لوگ اپنے بدن کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ پوچھا:
’’یہ کون ہیں؟‘‘
کہا جاتا ہے:
’’یہ دنیا میں دوسروں پر زبانِ طعن دراز کرتے تھے۔‘‘
پھر ایسے لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں۔ جن کی زبانیں اور ہونٹ بار بار کاٹ دیے جاتے ہیں اور جب کٹ چکتے ہیں تو پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے پہلے تھے۔ دریافت کیا:
’’یہ کون؟‘‘
بتایا جاتا ہے:
’’یہ آپ کی اُمّت کے وہ خطیب اور علما ہیں جو دوسروں کو تو لمبی چوڑی نصیحتیں کرتے تھے۔ مگر خود اُس پر عمل نہیں کرتے تھے۔‘‘
ان کے قریب کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ جن کے ناخن تانبے کے بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے منہ اور سینے کو ان تانبے کے ناخنوں سے نوچ رہے ہیں۔ سوال کیا:
’’یہ کون ؟‘‘
جواب دیا جاتا ہے:
’’یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی پیٹھ پیچھے بُرائیاں کرتے تھے اور اُن کی عزت پر حملے کرتے تھے۔‘‘
پھر یہ منظر بھی دیکھتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا پتھر ہے جس سے ایک بڑا بیل پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہ بیل اُسی پتھر میں جانا چاہتا ہے مگر جا نہیں سکتا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘
جواب ملتا ہے:
’’یہ وہ شخص ہے جو بُری بات منہ سے نکال کر شرمندہ ہوتا ہے مگر واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتا۔‘‘
انہی مناظر کو ملاحظہ کرتے کرتے آپ(ﷺ) مزید بلند درجات پر پہنچتے ہیں۔ حتیٰ کہ ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کا مقام آ جاتا ہے۔ یہاں جبرائیل رک جاتا ہے۔ لیکن آپ(ﷺ) تنہا ہی آگے بڑھے چلے جاتے ہیں۔ سامنے بلند اور ہموار سطح ہے۔ یہاں خداوند عزوجل اپنے محبوب بندے اور پیغمبر محمد(ﷺ) سے ہم کلام ہوتے ہیں اور مزید علم سے نوازتے ہیں۔ پھر مختلف مقامات پر مختلف انبیا سے ملاقاتیں کرتے نبی کریم (ﷺ) اُسی طرح مکہ پلٹ آتے ہیں اور یہ سارا معاملہ ایک ہی رات میں طے پا جاتا ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرOط
تصدیق
شب کا سیاہ دامن تار ہوتا ہے تو سورج کی روشن کرنیں پورے عالم کو منور کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
آج صبح ہی صبح پورے مکہ میں عجب خبر چہار جانب پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی تعجب سے سرپر ہاتھ رکھے ہے تو کوئی اسے انہونی بات قرار دے رہا ہے۔ لوگ گلیوں بازاروں اور چوراہوں میں اِس موضوع پر گرما گرم بحث کر رہے ہیں۔
اہل مکہ کا ایک گروہ بحث کرتے کرتے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ:
’’چلو ابوبکرؓ کے پاس، وہ محمد(ﷺ)کی رفاقت کا دم بھرتا ہے۔ ہم اُسے محمد(ﷺ) کا یہ عجیب و غریب دعویٰ بتائیں گے تو تعجب نہیں کہ وہ محمد(ﷺ) کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ آ ملے۔‘‘
ابوبکرؓ ملتے ہیں تو گروہ کا ایک فرد کہتا ہے:
’’ابوبکر، لو دیکھو! تمھارے محمد(ﷺ)اب تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اُنھوں نے راتوں رات بیت المقدس کی سیر کی اور آسمانوں سے بھی ہو آئے۔‘‘
ابوبکرؓ جواباً فرماتے ہیں:
’’اگر محمد(ﷺ) نے ایسا کہا ہے تو یہ بات یقیناًٹھیک ہوگی میں تو اس سے بھی زیادہ پر ایمان رکھتا ہوں کہ فرشتے اُن کے پاس آیا کرتے ہیں۔‘‘
ابوبکرؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی تمسخر اُڑا رہا ہے تو کوئی طعنے دے رہا ہے اور کوئی پے درپے سوالات کے ذریعے محمد(ﷺ) کا امتحان لے رہا ہے۔
’’اچھابتلائیے تو! بیت المقدس کی تعمیر اور ہیئت کیسی ہے؟‘‘
’’پہاڑ کتنے فاصلے پر ہیں؟‘‘
محمد(ﷺ) ہر سوال کا جواب بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ دے رہے ہیں۔ بیت المقدس کا پورا نقشہ کھینچ کر اہل قریش کے سامنے رکھ دیتے ہیں، لیکن اہل قریش محمد(ﷺ) کو زک کرنے کے لیے بہت پیچیدہ سوالات پر اُتر آتے ہیں۔
’’دروازے کتنے تھے؟‘‘
’’کتنے طاق لگے ہوئے تھے؟‘‘
یہ اس قدر پیچیدہ سوالات ہیں کہ ایک مرتبہ دیکھ لینے سے کوئی فرد جواب نہیں دے سکتا۔ مگر ربِّ کائنات اپنے بندے کو پریشان ہوتے دیکھتے ہیں تو بیت المقدس کا پورا نقشہ نظروں کے سامنے کر دیتے ہیں۔
محمد(ﷺ) بیت المقدس کو دیکھ دیکھ کر ساری معلومات کفارِ مکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ ابوبکرؓ یہ عالم دیکھ کر پکار اُٹھتے ہیں:
اَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ
قریش اپنے پیچیدہ سوالات کے بھی صحیح جواب سنتے ہیں، تو خاموش ہوجاتے ہیں۔ پھر ابوبکرؓکی جانب متوجہ ہوکر کہتے ہیں:
’’کیا تم بھی اس کی تصدیق کرتے ہو کہ محمد(ﷺ) ایک رات میں بیت المقدس تک پہنچ گئے اور پھر واپس بھی پلٹ آئے۔‘‘
ابوبکرؓ جواب دیتے ہیں:
’’ہاں! میں ایمان لاتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں!‘‘
کفار لاجواب ہوکر ایک مرتبہ پھر سلسلہ سوالات دراز کر دیتے ہیں۔ پوچھنے لگتے ہیں:
’’محمد(ﷺ) یہ تو بتلاؤ کہ ہمارا فلاں قافلہ جو شام گیا تھا وہ اِس وقت کہاں ہے؟‘‘
محمد(ﷺ) فرماتے ہیں:
’’فلاں قبیلے کے تجارتی مقام روحا میں میرا گزر ہوا تھا۔ اُن کا اونٹ گم ہوگیا تھا۔ وہ سب کے سب اُونٹ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ میں اُن کے کجاووں کے پاس گیا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ وہاں موجود کوزے کا پانی میں نے پی لیا۔
اس کے بعد فلاں قبیلے کے تجارتی قافلے پر فلاں مقام پر ہمارا گزر ہوا جب میری سوا۵؂ری قریب پہنچی تو اُونٹ دہشت سے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُن اونٹوں میں ایک سرخ اونٹ بھی تھا جو بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ اس کے بعد فلاں قبیلے کے تجارتی قافلے سے فلاں فلاں مقام میں ہمارا گزر ہوا۔ اس قافلے کے آگے آگے خاکی رنگ کا اُونٹ تھا۔ یہ قافلہ عنقریب تمھارے پاس آنے والا ہے۔‘‘
اہل قریش استفسار کرتے ہیں:
’’کب تلک؟‘‘
محمد(ﷺ) جواب دیتے ہیں:
’’بدھ کے روز تک مکہ پہنچ جائے گا۔‘‘
محمد(ﷺ) جو کچھ فرماتے ہیں۔ بعد کے شواہد اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ قافلے والے پہنچتے ہیں تو محمد(ﷺ) کے بیانات کو درست قرار دیتے ہیں۔ جب اس محیرالعقول سفر کی شہادت اِن ہی کی قوم کے افراد دے دیتے ہیں تو اہل قریش اس پروپیگنڈے پر اُتر آتے ہیں کہ:
’’محمد(ﷺ) تو جادوگر ہیں اور یہ ساری باتیں محض جادو کی غرض سے انھوں نے گھڑ لی ہیں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ:

۱،۲۔ بخاری و مسلم میں رقم ہے کہ اسراء کا آغاز حضورؐ کی چچا زاد بہن اُمِّ ہانی بنت ابی طالب کے گھر سے ہوا تھا۔ جہاں آپؐ عشا کی نماز پڑھ کر سوئے ہوئے تھے۔ طبقات ابن سعد میں واقدی کی روایت ہے کہ آغاز شعب ابی طالب سے ہوا تھا۔ بخاری و مسلم میں ابوذرؓ سے روایت ہے کہ مکان کی چھت کھول کر جبرائیل اُترے اور آپؐ کو لے کر گئے تھے۔ لیکن دراصل اِن روایات میں تضاد نہیں اُم ہانی کا گھر شعب ابی طالب میں تھا۔ اُس گھر کی چھت کھول کر جبرائیل اُترے اور نیند ہی کی حالت میں مسجد حرام لے گئے۔ جہاں آپؐ کو بیدار کیا گیا۔ (س۔ع۔مؤلف)

۳۔ براق سفید رنگ کا تھا۔ قد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ برق جیسی رفتار تھی۔ ہر قدم حدِ نگاہ پر جا کر پڑتا تھا۔ اِسی مناسبت سے نام براق رکھا۔

۴۔ بیت المقدس سے آسمان تک کا سفر ایک نورانی سیڑھی کے ذریعے کیاجاتا ہے۔ جو خداوند کریم کے حکم سے اُس وقت بن گئی تھی۔

۵۔ حضورﷺ اُس وقت براق پر سوار تھے۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top