skip to Main Content

۴ ۔ داعیٔ حق

محمد حمید شاہد

۔۔۔۔۔۔

اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّ النَّبِیِّنَ مِنْ بَعْدِہٖ
اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُن کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف بھیجی تھی۔

(النساء: ۱۶۳، ۱۶۴)

دعوئے حق
رات کی سیاہ اور دراز زلفیں اپنے دامن کو سمیٹ رہی تھیں اور صبح کا اجالا رفتہ رفتہ اپنے پر پھیلا رہا تھا۔ کہ کوہ صفا سے آوازہ بلند ہوا:
یا صباحاہ ’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘
یا صباحاہ ’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘
’’یا بنی عبدالمطلب، یا بنی ہاشم، یا بنی قریش، یا بنی کعب بن لوئی، یا بنی مرّہ، یا آل قصّی، یا بنی عبد مناف، یا بنی عبد شمس۔‘‘
یوں قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام پکارے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر صدا بلند ہوئی:
یا صباحاہ ’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘
یا صباحاہ ’’ہائے صبح کا خطرہ‘‘
جس نے صدا سنی کانپ اُٹھا، صدا تھی بھی دِل دہلا دینے والی، مکہ کا ہر باسی واقف تھا کہ یوں تڑکے تڑکے جب بھی کوہ صفا سے صدا بلند ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کسی اچانک حملے کا خطرہ ہے۔ صدا لگانے والا اس خطرے سے آگاہ ہوگیا ہے اور اب مکہ کے ایک ایک فرد کو اس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے توسبھی بھاگم بھاگ کوہ صفا کی جانب چل پڑے۔ پھر نظریں اُٹھا کر سب نے جو سامنے دیکھا، تو عرب کے صادق و امین محمدؐ کو صدا لگاتے پایا۔ سب لوگ دامنِ صفا میں جمع ہوچکے تھے۔ سبھی ہمہ تن گوش، دلوں کی دھڑکنیں تیز تر، اذہان بے شمار خیالات کی آماجگاہ، پورے مجمعے پر موت کی سی خاموشی، وہی آواز جو لوگوں کو کوہ صفا کے دامن میں جمع کرنے کا سبب بنی تھی۔ ایک مرتبہ پھر گونجنے لگی:
’’یا بنی ہاشم، یا بنی عبدالمطلب، یا بنی فہر، یا بنی عبد مناف! اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑی فوج تم پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار کھڑی ہے، تو کیا تم میری اس بات کو تسلیم کرو گے؟‘‘
پورا مجمع چیخ اُٹھا:’’یقینا، بے شک! اس لیے کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا۔‘‘
آپؐ پھر مخاطب ہوئے:
’’تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے، مجھے خداوند کریم کی جانب سے یہ حکم ملا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر وں۔ اے اہل قریش! تم میرے قریب کے لوگ ہو، لیکن مجھے اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ آخرت میں تمہیں کچھ دلوا سکوں، یا تمہاری مغفرت کروا سکوں۔ مغفرت کی راہ یہی ہے کہ دل و زبان سے تم کہہ دو:
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ
اِسی صورت میں میں تمہارے حق میں آخرت کے روز شہادت دوں گا اور اسی حکم کی تعمیل کی بدولت عرب و عجم تمہارے تابع ہوجائیں گے۔‘‘
یہ سنا تو ابو۱؂لہب قہر آلود آواز میں چلانے لگے:
تَبًا لَکَ اِلہٰذَا جَمِعْتَنَا؟
تیرا بُرا ہو، کیا اِس لیے تو نے ہمیں جمع کیا تھا؟
پھر نیچے جھکا، اور ایک پتھر اُٹھا لیا، تاکہ محمدؐ پر کھینچ مارے، مگر اُس نے دیکھا کہ جس بات پر وہ پتھر برسا رہا ہے اور دوسرے لوگ طنز و مزاح کے تیر برسا رہے ہیں۔ اُن میں سے کئی ایسے بھی ہیں کہ جن کے دل خوف سے دہل گئے ہیں اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جو حق و صداقت کے معترف ہوگئے ہیں۲؂۔
یہ صبر۔۔۔ اللہ اکبر
یہ منظر بھی دیدنی ہے۔
محمدؐ کی جانب سے دی جانے والی کھانے کی دعوت میں قریش کے لگ بھگ پینتالیس (۴۵) افراد شریک ہیں۔ دعوت کھائی جا چکتی ہے تو محمدؐ اُٹھتے ہیں اور کچھ کہنا چاہتے ہیں، مگر ابولہب پہلے ہی پکار اُٹھتا ہے:
’’یہاں تمہارے چچا اور چچا زاد بھائی موجود ہیں، جو تمہارے جی میں آئے کہو، مگر دین سے پھرنے کی بات نہ کرو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہاری قوم تمام عرب سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتی اور تمہیں روکنے اور تمہارا ہاتھ روکنے کے سب سے زیادہ حق دار تمہارے اپنے خاندان کے لوگ ہیں۔ اگر تم اپنی روش پر قائم رہے تو تمہیں روکنا ہمارا فرض ہوگا۔ تم ہمارے خاندان پر آفت لائے ہو! اور یہ کہ تم نے ہمیں دعوت پر بلایا تھا۔ وعظ پر نہیں، اس لیے رات خاصی بیت چکی ہے، ہمیں اجازت دو۔‘‘
یوں یہ محفل ابولہب کی مکاری کی نذر ہوجاتی ہے۔ مگر محمدؐ حوصلہ نہیں ہارتے اور اگلے روز پھر خاندان والوں کو دعوت پر بُلا بھیجتے ہیں۔
دسترخوان بڑھایا جاتا ہے۔
کھانے چنے جاتے ہیں۔
اور کھائے جاتے ہیں۔
ایک مرتبہ پھر محمدؐ کھڑے ہوکر پکارنے لگتے ہیں۔
یا بنی عبدالمطلب، یا عبّاس، یا صفیۃ عمۃ رسول اللّٰہ، یا فاطمۃ بنت محمدؐ، انقذو انفسکم من النّار، فانی لا املک لکم من اللّٰہ شیءًا سلونی من مالی شئتم
’’اے اولادِ عبدالمطلب، اے عبا۳؂سؓ، اے صفیہ۴؂ رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ۵؂ محمدؐ کی بیٹی! تم لوگ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ البتہ میرے مال سے جو تم چاہو مانگ سکتے ہو۔‘‘
یہ دعوت اصولی دعوت ہے۔ صرف عام لوگوں یا خاص لوگوں کے لیے نہیں۔ ہر ایک کے لیے ہے۔ اسی لیے تو آپؐ اپنی بیٹی اور پھوپھی کا نام لے کر انھیں بھی عذابِ الٰہی سے ڈرا رہے ہیں۔ آپؐ کہہ رہے ہیں:
’’لوگو! خداوند کریم کی جانب سے تم پر مبعوث کیا گیا ہوں، اس لیے میںآپ کو اُس ہستی کی طرف بُلا رہا ہوں جو تمام کائنات کی خالق و مالک ہے، آپ میں سے کون ہے۔ جو آئے اور میری اس دعوت پر لبیک کہے۔‘‘
محفل پر موت کا سا سناٹا چھا جاتا ہے۔ اس سکوت کو دیکھ کر ابولہب جی ہی جی میں بہت خوش ہوتا ہے۔ مگر دفعتاً اس سکوت کو توڑتے ہوئے ایک دُبلا پتلا لڑکا علیؓ پکار اُٹھتا ہے:
’’یا رسولؐ اللہ! میں وہ شخص بنوں گا۔ میں آپؐ کی مشکلات میں شریک رہوں گا۔ میں آپؐ کے دشمنوں سے لڑوں گا اور میں اس مہم میں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔‘‘
آپؐ آگے بڑھتے ہیں اور ننھے علیؓ کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر شرکا محفل کی جانب سے بھرپور قہقہہ لگایا جاتا ہے۔آہ! دعوتِ حق کا جواب طنز و قہقہہ، مگر پھر بھی میرِکاروانِ حق کی پیشانی شکن آلود نہیں ہوتی۔ کتنی اعلیٰ و ارفع مثال ہے یہ صبر کی۔۔۔ اللہ اللہ!
راہ کے کانٹے
وقت نے ایک اور انگڑائی لی۔اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جب اپنوں کو دعوتِ حق دینے کے بعد ایک ایک فردکو اس دعوت کی طرف بلانا ہے۔ آپؐ نے شب و روز اِس کے لیے وقت کر دیے ہیں۔ مکّہ کے ایک ایک باسی تک پہنچ کر اُسے دعوتِ حق سے روشناس کرا رہے ہیں۔ کبھی اُن قافلوں تک پہنچتے ہیں جو منیٰ، عکاظ، مجنہ، ذی المجاز۶؂ وغیرہ مقامات پر پڑاؤ ڈالے ہیں۔ تو کبھی حرم کی دیواروں کے سایے اور مکّہ کے بازاروں میں نورِ حق پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ مگر عقل کے اندھے آپؐ کی راہ میں بے شمار مشکلات پیدا کیے چلے جا رہے ہیں۔ آپؐ ایک ایک گھر، ایک ایک مجمعے اور ایک ایک مجلس میں جا کر دعوتِ دیتے ہیں کہ:
’’لوگو! کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،فلاح پاؤ گے۔‘‘
مگر ابوجہل۷؂ پیچھے پیچھے کہتا جاتا کہ:
’’یہ جھوٹا ہے صابی ہے دینِ آبائی سے پھر گیا ہے۔‘‘
گھر پر موجود ہوتے تو ابولہب طرح طرح سے تنگ کرتا۔ ہنڈیا چڑھ رہی ہوتی تو اس پر غلاظت پھینک دیتا، نماز پڑھ رہے ہوتے تو بکری کی اوجھ پھینک دیتا۔ ابولہب کی بیوی اُمِّ جمیل۸؂ روزانہ گھر کے باہر راستہ روکنے کے لیے کانٹے بچھا دیتی۔ آپؐ جدھر جاتے طعنے دیے جاتے، آوازے کسے جاتے، لیکن اس کے باوجود کفار اپنے سارے حربوں کو ناکام ہوتے دیکھتے ہیں تو ایک اور داؤ آزماتے ہیں۔ صلح کے پیامبر بھیجے جاتے ہیں۔ کبھی سرداری، دولت اور شادی کا لالچ دیا جاتا ہے۔ تو کبھی ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ ابوطالب کی جانب سے بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے، مگر آپؐ بس ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ:
’’اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے تو بھی میں دعوتِ حق سے باز نہ آؤ ں گا۔‘‘
اس جانب سے بھی ناکامی ہوتی ہے تو آپؐ جدھر جاتے اور قرآن سناتے ہیں تو سننے کے بجائے شور مچا دیا جاتا ہے۔ عجیب و غریب سوالات کیے جاتے اور مسلمانوں کو لایعنی بحثوں میں الجھایا جاتا ہے۔ تضحیک و تذلیل کی جاتی ہے، مگر اس مرتبہ بھی کفار کو مایوس ہونا پڑتا ہے تو وہ بپھر جاتے ہیں اور ظلم و تشدد کے پہاڑ ڈھانے لگتے ہیں۔
تشدد کا جوبن
یہ ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ دعوتِ حق کا اعلان کرتے ہیں تو بے تحاشہ پٹتے ہیں۔ اس طرح کہ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے پٹتے پٹتے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یہ خبا۹؂بؓ بن ارت ہیں۔ جنہیں جلتے ہوئے انگاروں پر لٹایا جا رہا ہے اور چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا ہے۔ تاکہ پہلو نہ بدل سکیں۔
یہ بلا۱۰؂لؓ بن رباح ہیں۔ سورج نصف النہار پر ہے۔ گلے میں رسّی ڈال کر زمین پر گھسیٹا جا رہا ہے، مگر پھر بھی ’’احد، احد‘‘ پکارے جا رہے ہیں۔
یہ عما۱۱؂رؓ بن یاسر ہیں۔ ٹانگوں کو رسی سے باندھ کر اس قدر جلتی زمین پر گھسیٹا جا رہا ہے کہ بار بار بے ہوش ہوجاتے ہیں۔
یہ سمّیہؓ ہیں۔ جنہیں زہرآلود نیزے سے وحشیانہ طریقے سے شہید کیا جاتا ہے۔
یہ یا۱۲؂سر عنسیٰؓ ہیں۔ جو اس راہ میں شہید ہوجاتے ہیں۔
یہ ۱۳؂صہیبؓ ہیں۔ جنہیں اس قدر پیٹا جاتا ہے کہ الامان و الحفیظ، مگر پھر بھی دعوتِ حق سے باز نہیں آتے۔
یہ ابوفکہیہؓ جہنی ہیں۔ پاؤں میں رسّی ہے اور گلیوں میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ شہر کے آوارہ لوگ طعنوں کے تیر برسا رہے ہیں۔
یہ بنستہؓ، نہدیہؓ اور اُم عبسؓ ہیں۔ جنہیں بے تحاشہ پیٹا جا رہا ہے۔
یہ عثما۱۴؂نؓ بن مظعون اور زنیرہؓ ہیں کہ جن کی آنکھیں پھوڑ دی جاتی ہیں۔
یہ عثما۱۵؂نؓ بن عفان اور ز۱۶؂بیرؓ بن عوام ہیں۔ جنہیں چٹان کے ساتھ باندھ کر پیٹا جا رہا ہے۔
یہ ابوذ۱۷؂رؓغفاری ہیں کہ جن پر وحشیانہ طریقے سے تشدد کیا جا رہاہے۔یہ خالدؓبن العاص ہیں کہ جن کا سرپھوڑ دیا گیا ہے۔یہ خالدؓ بن سعید ہیں۔ اس قدر پٹتے ہیں کہ لہولہان ہوجاتے ہیں۔یہ ۱۸؂سعیدؓ بن زید ہیں۔ جو رسیّوں سے بندھے کراہ رہے ہیں۔یہ سعید بن وقاص ؎۱۹اور عبداللہؓ بن مسعود  ۲۰؂ ہیں۔ جو تشدد کا شکار ہیں۔الغرض ستم کا ایک بازار گرم ہے۔ گلی گلی اور کوچہ کوچہ خونِ مسلم سے نہائی ہوئی ہے۔ قریش یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید یوں ہی دعوت حق رُک جائے، مگر یہاں معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ یہ تشدد دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں نرم گوشے پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ:

۱۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ چہرہ نہایت سُرخ و سپید، سُرخی ایسی جیسے آگ کے شعلے، اسی لیے لوگ اُسے ابولہب یعنی شعلے والا کہتے تھے۔ مکّہ کا نہایت متمول اور مالدار شخص تھا۔ لیکن کمینہ فطرت تھا۔ حسد و غرور، حرص و خودغرضی، بخل و زرپرستی، فتنہ پردازی اور اوچھا پن اس کی شخصیت کا حصہ تھا۔ بزدل ایسا کہ قریش کے ساتھ کسی جنگ میں شریک نہ ہوا۔ سب سے پہلے اِسی ظالم نے دعوت حق کی مخالفت کی اور ساری عمر پیغمبر خدا کی راہ میں مشکلات پیدا کیں۔

۲۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر وغیرہ کے حوالہ سے سرور عالم میں نقل ہے۔

۳۔ نام عباس، والد کا نام عبدالمطلب حضورؐ سے دو(۲)سال بڑے تھے۔ حضرت عباس دورِ جاہلیت میں بھی رئیس تھے۔ عمارۃ المسجد الحرام اور سقایہ انہی کے ذمہ تھیں۔ جنگ بدر میں یہ قریش کی جانب تھے۔ اور پکڑے گئے بعض کے نزدیک عباس قدیم الاسلام تھے اور انہوں نے اسلام چھپا رکھا تھا۔ کفار کی خبریں حضورؐ تک پہنچایا کرتے تھے۔ اظہارِ اسلام کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ ۳۲ ہجری میں اٹھاسی(۸۸) سال کی عمر میں وفات پائی۔ حضرت عثمانؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔

۴۔ حضورؐ کی پھوپھی صفیہؓ عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ اسلام سے قبل حارث بن حرب کی زوجیت میں تھیں۔ وہ ہلاک ہوگیا تو عوام بن خویلد نے اُن سے نکاح کیا۔ اِن سے زبیرؓ پیدا ہوئے۔ یہ طویل مدت تک زندہ رہیں اور عمرؓ کے دورِ خلافت میں ۲۰ ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ وفات کے وقت ان کی عمر تہتر(۷۳) سال تھی۔

۵۔ فاطمہ نام، زہر القب سن ولادت میں اختلاف ہے۔ ایک روایت کے مطابق ۱ہجری نبوی میں پیدا ہوئیں۔ لیکن ابن اسحاق کے مطابق ابراہیمؓ کے علاوہ حضورؐ کی تمام اولاد قبلِ نبوت پیدا ہوئی۔ اِن کا عقد ساڑھے پندرہ سال کی عمر میں حضرت علیؓ سے ہوا، جب کہ علیؓ اُس وقت اکیس(۲۱) برس کے تھے۔ حضرت فاطمہؓ سے پانچ اولادیں ہوئیں۔ حسنؓ، حسینؓ،محسنؓ، اُمِّ کلثومؓ، زینبؓ ۔ محسنؓ نے بچپن میں انتقال کیا۔ حضرت زینبؓ، امام حسنؓ، امام حسینؓ اور اُمِّ کلثوم اہم واقعات کے لحاظ سے تاریخِ اسلام میں مشہور ہیں۔ فاطمہؓ کا رمضان ۱۱؍ہجری میں انتقال ہوا۔

۶۔ مکّہ معظمہ کے اردگرد مختلف مقامات کے نام۔

۷۔ ابوجہل کا اصل نام عمرو بن ہشام تھا مکہ میں حکیم ودانا تسلیم کیا جاتا تھا۔اِسی مناسبت سے کنیت ابو الحکم تھی۔لیکن اسلام جیسی روشنی کا انکار کیا تو ابو جہل کے نام سے مشہور ہُوا۔دُبلا پتلا،تیز مزاج،تیز زبان اور تیز نظر تھا۔ مکہ کے لوگ ابو جہل کو قریش کا ہیرو سمجھتے تھے۔دلیر اور بہادر آدمی تھا۔انہی ذاتی صفات کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی۔کہ ’’اے خدا ابوالحکم بن ہشام یا عمر بن خطاب کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما‘‘۔حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا مگر ابو جہل اپنی اکڑ اور انانیت کی وجہ سے دعوتِ حق سے محروم رہا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آنکھوں کا کانٹا بن گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف منظم سازشوں کی رہنمائی یہی کیا کرتا تھا۔

۸- ابو لہب کی بیوی اُمِ جمیل مکہ کی مالدار مغرور چھیل چھبیلی خاتون تھی۔جِسے حمالۃ الحطب کا لقب دیا گیا تھا۔حضورؐ کی راہ میں کانٹے بچھاتی۔تاکہ آپؐاور آپؐکے بچوں کے پاؤں میں کانٹے چُبھیں۔اُمِ جمیل پورے مکہ میں لگائی بجھائی کرنے والی عورت مشہور تھی۔ زبان دراز اور منہ پھٹ تھی اِس کو ٹوکنے کی کسِی کو ہمت نہ ہوتی۔ابو لہب کی طرح اِسے بھی قرآن میں سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

۹۔ خبابؓ بن ارت کی کنیت ابوعبداللہ تمیمی ہے۔ ان کو زمانہ جاہلیت میں قید کر دیا گیا تھا۔ ایک خزاعیہ عورت نے خرید کر آزاد کرایا تھا۔ حضورؐ کے دارارقم میں تشریف لانے سے قبل اسلام لائے تھے۔ کفارِ مکّہ کے بے پناہ ظلم و ستم برداشت کیے اور صبر سے کام لیا۔ کوفہ میں ۳۷ہجری میں وفات پائی۔ اُس وقت ان کی عمر تہتر(۷۳) سال تھی۔

۱۰۔ حضرت ابوبکرؓصدیق کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آغاز میں اسلام قبول کیا۔ غزوہ بدر اور بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے۔ مکّہ میں اُنھیں اذیت ناک تکالیف دی جاتیں۔ امیّہ بن خلف حجمی اِن پر بہت تشدد کیا کرتا تھا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ ظالم جنگ بدر میں بلالؓ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ بلالؓ کے بارے میں حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں۔ اور ہمارے سردار (بلالؓ) کو آزاد کرنے والے ہیں۔ آخری عمر میں شام میں رہنے لگے تھے۔ ۲۰ ہجری کو انتقال ہوا۔ اُس وقت ان کی عمر ۶۳سال تھی۔

۱۱۔ عمارؓ، یاسر عنسیٰؓ کے صاحبزادے، بنی مخزوم کے آزاد کردہ اور حلیف تھے۔ عمارؓ ابتداء ہی میں اسلام لے آئے۔ یہ اُن کمزور صحابیوں میں سے ہیں جن کو مکّہ میں راہِ خدا میں بہت تکالیف اُٹھانی پڑیں۔ اور دہکتے انگاروں تک پر لٹایا گیا۔ ایک مرتبہ حضورؐ کا گزر اُس جانب سے ہوا، جہاں عمارؓ مشق ستم بنے ہوئے تھے۔ تو عمارؓ پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے کہا: ’’اے آگ! تو عمارؓ کے لیے ٹھنڈک، عافیت اور سلامتی بن جا جس طرح کہ تو ابراہیم ؑ کے لیے بن گئی تھی۔‘‘ اوّلین مہاجرین میں عمارؓ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور بہت تکالیف اُٹھائیں۔ حضورؐ نے عمارؓ کا نام ’’الطیّب المُطَیّب‘‘ ر کھا۔ یہ جنگ صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے۔ اور وہاں ۲۷ ہجری میں جب کہ ان کی عمر ۹۳ سال تھی، شہید ہوئے۔

۱۲۔ یہ حضرت عمارؓ کے والد اور حضرت سمیہؓ کے خاوند تھے۔ مکّہ میں مع اپنے دو بھائیوں کے جن کا نام حارث اور مالک تھا۔ اپنے چوتھے بھائی کی تلاش میں تشریف لائے۔ پھر حارث اور مالک تو یمن واپس پلٹ گئے مگر یاسرؓ مکہ ہی میں مقیم ہوگئے اور ابوحذیفہؓ بن المغیرہ کے حلیف بن گئے۔ ابوحذیفہؓ نے اُن کا نکاح اپنی باندی سمیہؓ سے کر دیا۔ بعد میں ابوحذیفہؓ نے انھیں رہا کر دیا۔ راہِ خدا میں اُنھیں بھی مکہ کے پُرتشدد دور میں شہادت نصیب ہوئی۔

۱۳۔ صہیبؓ سنان کے بیٹے اور عبداللہ بن تیمی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کی کنیت ابویحییٰ ہے۔ دجلہ اور فرات کے درمیان شہر موصل میں ان کے مکانات تھے۔ رومیوں نے اِن اطراف میں یورش کی اور ان کو قید کر لیا۔ ابھی چھوٹے سے بچے تھے۔ لہٰذا نشوونما روم میں ہوئی۔ رومیوں سے ان کو ’’کلب‘‘ خرید کر مکہ لائے اور عبداللہ بن جدعان کے ہاتھ فروخت کردیا۔ عبداللہ بن جدعان نے اگرچہ آزاد کر دیا، لیکن آپ مرتے دم تک اُن کے ساتھ رہے۔ عمارؓ بن یاسر اور انہوں نے ایک ہی دن اسلام قبول کیا۔ مکہ میں بہت تکالیف اُٹھائیں۔ اس لیے مدینہ کو ہجرت کی۔ ۸۰ ہجری میں مدینہ میں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں جگہ پائی، انتقال کے وقت ان کی عمر۹۰ سال تھی۔

۱۴۔ ان کی کنیت ابوسائب تھی۔ تیرہ(۱۳) آدمیوں کے بعد اسلام لائے۔ ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ دونوں انھوں نے کیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی شراب سے دور رہتے تھے۔ یہ مہاجرین میں سے سب سے پہلے شخص ہیں، جن کی وفات مدینہ میں شعبان کے مہینہ میں ہجرت کے پورے تیس ماہ گزرنے پر واقع ہوئی۔ حضورؐ نے ان کی میت کی پیشانی کو بوسہ دیا تھا اور جب یہ دفن کیے گئے تو فرمایا: ’’یہ شخص گزرنے والوں میں سے ہمارے لیے بہترین شخص تھا‘‘۔ جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔

۱۵۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ قریشی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھوں پر اوّل دور میں حضورؐ کے دارارقم میں تشریف لے جانے سے قبل اسلام لائے۔ ہجرت حبشہ دو مرتبہ کی۔ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ کیونکہ حضرت رقیہؓ بیمار تھیں۔ ان کو ذوالنورین بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے عقد میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دو نورِ نظر یعنی صاحبزادیاں رقیہؓ اور اُمِ کلثومؓ یکے بعد دیگرے آئیں۔ ۲۴ھ میں محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو حضرت عمرؓ کے بعد خلیفہ بنے۔ ان کا دورِ خلافت ۱۲؍ سال سے کچھ دن کم رہا۔ ایک مصری نے آپ کو شہید کیا، شہادت کے وقت عمر۸۲ یا ۸۸ سال تھی۔ جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔

۱۶۔ زبیرؓ بن عوام کی کنیت ابوعبداللہ قریشی تھی۔ ان کی والدہ صفیہ، عبدالمطلب کی بیٹی اور حضورؐ کی پھوپھی ہیں۔ یہ اور اِن کے والد آغاز میں ہی اسلام لے آئے تھے۔ اُس وقت اِن کی عمر ۱۶سال تھی۔ اِنھیں مکّہ میں بہت تکلیف پہنچائی گئی۔ ان کے چچا نے انھیں دھوئیں سے دم گھونٹ کر تکلیف دی۔ تاکہ اسلام چھوڑ جائیں۔ مگر یہ ثابت قدم رہے۔ تمام غزوات میں حضورؐکے ساتھ رہے۔ یہ وہ ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تلوار سونتی۔ اور ’’حواریِ رسول‘‘ کا لقب پایا۔ عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ایک ہیں۔ ان کو مقام سفوان اجرہ میں عمرو بن جرموز نے ۳۶ہجری میں شہید کیا۔ اُس وقت ان کی عمر چونسٹھ(۶۴) سال تھی۔

۱۷۔ اصل نام جندب تھا، مگر ابوذر غفاری کے نام سے مشہور ہیں۔ والد کا نام جنادہ تھا۔ یہ بلند مرتبہ تاریک الدنیا مہاجر صحابہ میں سے ہیں۔ آغاز میں ہی اسلام قبول کیا۔ پھر اپنی قوم کے پاس آئے اور ایک مدّت تک ان کے ساتھ رہے۔ غزوہ خندق کے بعد مدینہ میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔ ۳۲ ہجری میں زبذہ کے مقام پر خلافت عثمانؓ میں وفات پائی۔

۱۸۔ ان کی کنیت ابواعوار ہے۔ عددی قریشی تھے۔ عشرہ مبشرہ اصحاب میں شمار ہوتا ہے۔ قدیم الاسلام میں تمام غزوات سوائے غزوہ بدر کے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ شرکت کی۔ غزوہ بدر میں یہ سعیدؓبن زید، طلحہ بن عبداللہ کے ساتھ تھے جو قریش کے غلّہ والے قافلے کی کھوج لگانے کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مالِ غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا۔ حضرت عمرؓ کی بہن فاطمہؓ ان کے نکاح میں تھیں۔ یہی وہ فاطمہؓ ہیں، جن کی وجہ سے عمرؓ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ۵۱ ہجری میں مقام عتیق میں وفات پائی اور وہاں سے مدینہ لائے گئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ ستر(۷۰) سال سے زائد عمر پائی۔

۱۹۔ یہ قریشی ہیں۔ ہجرت والے سال ان کی پیدائش ہوئی۔ قریش کے سرداروں میں سے تھے۔ جن صحابہؓ نے حضرت عثمانؓ کے حکم سے قرآن کی کتابت کی اُن میں سے ایک ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے ان کو کوفہ کا گورنر بنایا تھا۔ اُنسٹھ(۵۹ ) ہجری میں وفات پائی۔

۲۰۔ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔ حضورؐ کے دارارقم میں داخلہ سے قبل اسلام لائے۔ یہ حضورؐ کے خاص خدّام میں داخل ہوگئے۔ حضورؐ کے گہرے رازداں تھے۔ حبش کی طرف ہجرت کی۔ غزوہ بدر کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ حضورؐ نے ان کے لیے جنت کی بشارت دی۔ ان کی ظاہری صورت اور حلم وقار حضورؐ سے بہت مشابہہ تھا۔ ۳۲ ہجری میں وفات پائی۔ جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ(۶۰) سال سے زائد تھی۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top