skip to Main Content

چھن

راحیل یوسف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دم سے ایک آواز آئی جسے شاید وہ پہلے بھی کہیں سن چکا تھا۔

معاشرے کے ایک المیے کو اجاگر کرتی ایک پر اثر تحریر۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’چھن۔۔۔!‘‘ ایک چھناکے کے ساتھ کھڑکی کا شیشہ کرچی کرچی ہوگیا۔ ایک لمحہ کے لئے تو میں ہکا بکا رہ گیا، مگر اگلے ہی لمحے کمرے میں پھدکتی کرکٹ بال نے پورا ماجرا بیان کردیا۔

’’اوہ تو یہ کرکٹ کا کمال ہے‘‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا، مگر میری مدہم آواز بھائی جان کی طیش میں بھری چیخ و پکار تلے دب گئی۔

’’غضب خدا کا۔۔۔! کس قدر ڈھیٹ ہیں یہ بچے۔ منع کرنے کے باوجود بھی اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔۔ پچھلے ہفتے صحن کا بلب توڑ دیا تھا۔ آج کھڑکی کا شیشہ۔۔۔‘‘

ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ کال بیل کی آواز نے بھائی جان کے غصے کو کچھ دیر کے لئے بریک لگادیا۔

اس دن تو واقعی گلی کے بچوں کی شامت آگئی تھی۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ دروازہ بھی بھائی جان نے ہی کھولا۔ ایک لڑکا مسمسی صورت لئے کھڑا تھا۔

’’کیا ہے۔۔۔؟‘‘ بھائی جان نے کاٹ کھانے والے انداز میں پوچھا۔

’’انکل۔۔۔ وہ۔۔۔ آپ کے گھر بال آگئی ہے‘‘۔

پھر تو جیسے کسی نے جلتی پر تیل چھڑک دیا۔

’’بے شرمو۔۔۔ ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔۔ کس قدر دھڑلے سے گیند مانگ رہے ہو۔ ہمارا شیشہ کون لگوا کے دے گا؟ جب شیشہ لگوادو تو گیند بھی لے جانا‘‘۔ بھائی جان نے دروازے کو زور سے بند کیا اور بڑبڑاتے ہوئے اندر آگئے۔

’’بھائی جان‘‘۔ میں نے انہیں مخاطب کیا۔

’’ہوں۔۔۔ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے جواب دیا۔

’’میرے خیال میں اگر بچوں کو نرمی سے سمجھا دیا جاتا تو بہتر تھا‘‘۔

’’یار! کیسی نرمی۔۔۔ دیکھا نہیں کتنی ڈھٹائی سے گیند مانگ رہا تھا۔ پہلے جب بلب توڑا تھا تب بھی میں نے انہیں سمجھایا تھا ’’بیٹا میدان میں کھیلو۔۔۔ گلی محلہ کوئی کھیلنے کی جگہ ہے۔ لیکن ان پر ذرا بھی اثر نہیں ہوا!‘‘

’’ہاں آپ کی اس بات میں تو وزن ہے۔ انہیں میدان جاکر کھیلنا چاہئے‘‘۔ میں نے ان کی تائید کی۔ اسی دوران ٹیلی فون کی بجتی گھنٹی نے گفتگو کا سلسلہ موقوف کردیا۔

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس واقعہ کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے میں اپنے کمرے میں امتحانات کی تیاری میں مصروف تھا کہ اچانک پھر وہی گیند بلائے ناگہانی کی طرح کھڑکی کا شیشہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوگئی، اس بار تو اس نے شیشے پر تؤقف نہیں کیا، بلکہ ٹپا کھا کر ٹیوب لائٹ سے ٹکرائی اور ٹیوب لائن ایک چھناکے کے ساتھ لاتعداد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ اب مجھے بھی کچھ غصہ آنے لگا۔ ’’ان بچوں کو سبق سکھانا ہی پڑے گا‘‘۔ میں بڑبڑاتا ہوا باہر کی جانب بڑھا۔ اس سے پہلے کہ میں دروازہ کھولتا۔ کال بیل نے اپنا سریلا راگ الاپا۔

’’کیا ہے؟‘‘ میں نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا۔ سامنے وہی اس دن والا لڑکا کھڑا تھا جس کی عمر یہی کوئی بارہ، تیرہ سال ہوگی۔

’’انکل! آپ کے ہاں ہماری بال آگئی ہے‘‘۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔

’’یار مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ تم لوگ آخر میدان میں کیوں نہیں کھیلتے۔ گلی میں کھیل کر دوسروں کا نقصان کرنا تمہیں اچھا لگتا ہے‘‘۔ میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اسے سمجھایا۔

’’انکل کس میدان میں کھیلیں؟ محلے کے واحد میدان پر کسی نے فلیٹس بنانے شروع کردیئے ہیں۔ ایک پارک ہے وہاں لوگوں نے کچرے کا ڈھیر لگادیا ہے۔ اب تو وہاں جرائم پیشہ لوگ بیٹھنا شروع ہوگئے ہیں‘‘۔ اس نے اپنی مجبوری بیان کی۔

’’ہوں تمہاری بات میں وزن ہے۔ آؤ اندر آکر اپنی گیند لے لو‘‘۔ مجھے بے اختیار ان بچوں پر ترس آنے لگا۔ اس نے حیرت سے میری جانب دیکھا اور تھوڑا جھجھکا۔

’’گھبراؤ نہیں، بھائی جان گھر پر نہیں ہیں، اندر آکر اپنی گیند لے لو‘‘۔ میں اس کی پریشانی کی وجہ بھانپ گیا تھا۔

میری بات سنتے ہی وہ بلاتاخیر اندر داخل ہوگیا اور کچھ ہی دیر بعد وہ گیند کے ہمراہ باہر موجود تھا۔

’’شکریہ انکل‘‘۔ اس نے ہانک لگائی۔

’’کوئی بات نہیں۔۔۔ لیکن اپنا نام تو بتاتے جاؤ؟‘‘

’’جمال۔۔۔ جمال احمد۔۔۔‘‘ اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا اور میں دروازہ بند کرکے پھر اپنے کمرے میں امتحانات کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنا بڑا حادثہ بھائی جان کی نظروں سے اوجھل رہے۔ شام کو گھر واپس آتے ہی انہوں نے تفتیشی دفتر سجالیا۔

’’طاہر ادھر آؤ‘‘۔ انہوں نے مجھے آواز دی۔

’’جی بھائی جان‘‘۔

’’یہ شیشہ کب ٹوٹا ہے؟‘‘

’’صبح کوئی 11 بجے کا ٹائم تھا‘‘۔

’’پھر تم نے لڑکوں کے گھر والوں سے شکایت کی؟‘‘

’’پہلے تو میرا یہی ارادہ تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اُن کو اُن کی گیند واپس کردی‘‘۔

’’کیا۔۔۔ تم نے گیند واپس کردی، تاکہ وہ دوبارہ توڑ پھوڑ مچائیں‘‘۔ ان کی آواز سے غصہ صاف جھلک رہا تھا۔

’’اصل میں وہ بھی صحیح کہتے ہیں، ان کے کھیلنے کے میدان پلازہ بنانے والے بلڈرز اور جرائم پیشہ لوگوں کی نذر ہوگئے ہیں۔ وہ بے چارے گلی میں نہیں تو پھر کہاں کھیلیں؟‘‘

’’یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے محلے کے دوسرے لوگوں سے بات کرلی ہے، سب اس پر راضی ہیں کہ ان کا کھیل اب بند کروادیا جائے، ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کا بلب یا شیشہ ان کے کھیل کے باعث ٹوٹ جاتا ہے‘‘۔

’’میری بات مانیں انہیں کرکٹ کھیلنے سے نہ روکیں، اگر ان کی کرکٹ بند ہوگئی تو جانے وہ کون کون سے کھیل کھیلیں گے‘‘۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

’’کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ تمہیں کیمسٹری کے بجائے فلسفے میں ماسٹرز کرنا چاہئے۔ تمہاری باتیں فلسفے کی طرح ہی پیچیدہ ہیں‘‘۔ 

وہ بڑبڑائے اور پھر دوبارہ گویا ہوئے ’’بہرحال کچھ بھی ہو کل سے محلے میں کرکٹ نہیں ہوگی‘‘۔ انہوں نے اپنا فیصلہ سنادیا۔ مجھے بھی معلوم تھا کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہوں گے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

پھر کیا تھا محلے میں اس دن کے بعد کرکٹ بند ہوگئی۔ گلیاں ایسی سونی ہوگئیں جیسے وہاں کوئی نہ ہو۔ پھر وقت کا پنچھی کب کس کا لحاظ کرتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے کتنے ہی ماہ و سال گزر گئے۔ میں نے تعلیم مکمل کرکے ایک نجی ادارے میں نوکری شروع کردی۔ بھائی جان اپنی پرانی ملازمت کو خیرباد کہہ کر ایک سرکاری ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہوگئے تھے۔ اس دن ہم دونوں ایک عزیز کے گھر سے تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔

’’لگتا ہے کہ حالات کچھ خراب ہوگئے ہیں۔ سڑکیں بہت ویران ہورہی ہیں‘‘۔ میں نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھائی جان سے کہا۔

’’ہاں۔۔۔ محسوس تو ایسا ہی ہورہا ہے۔۔۔ اللہ خیر کرے جانے اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ کچھ پتہ نہیں کب حالات گڑبڑ ہوجائیں‘‘۔ بھائی جان نے دردمندانہ لہجے میں کہا۔

اب ہماری گاڑی اپنے محلے میں داخل ہوچکی تھی۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میرا شک بالکل صحیح تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سڑکوں کو رکاوٹیں ڈال کر بند کردیا گیا تھا۔ جگہ جگہ ادھ جلے ٹائر فضا کو مزید خراب کررہے تھے۔ بدمعاش لڑکے کسی بھی دکان کو نہیں بخش رہے تھے۔

’’طاہر ذرا دھیان سے‘‘۔ بھائی جان نے فکرمندانہ لہجے میں کہا۔

’’بھائی جان ہماری گلی کے کونے پر قوم پرست بلوائیوں کا ہجوم ٹائر جلا رہا ہے۔ کیا کریں۔۔۔؟‘‘ میں نے پریشانی سے دریافت کی۔

’’دوسرے راستے سے لے لو‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا۔

’’دوسرا راستہ بند پڑا ہے‘‘۔

’’اللہ کا نام لے کر یہیں سے چلتے ہیں‘‘۔ ان کے لہجے میں فکر نمایاں تھی۔

میں نے بھی گاڑی آگے بڑھائی، لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بلوائیوں کے ہجوم سے کوئی نکل کر گاڑی کی جانب لپکا، ایک چھناکہ ہوا اور گاڑی کا شیشہ اس کے ہاتھ سے نکلے پتھر کے آگے آکر چور چور ہوگیا۔

میں نے حواس قابو میں کرکے گاڑی آگے بڑھائی۔۔۔ اسی اثناء میں میری نظر پتھر پھینکنے والے پر پڑی۔ میں دم بخود رہ گیا۔ وہ کوئی اور نہیں جمال تھا۔۔۔ آہ۔۔۔ پھر ایک اور چھن کی آواز آئی۔۔۔ میرا دل بھی کرچی کرچی ہوگیا تھا۔

’’چھن۔۔۔!‘‘ ایک چھناکے کے ساتھ کھڑکی کا شیشہ کرچی کرچی ہوگیا۔ ایک لمحہ کے لئے تو میں ہکا بکا رہ گیا، مگر اگلے ہی لمحے کمرے میں پھدکتی کرکٹ بال نے پورا ماجرا بیان کردیا۔
’’اوہ تو یہ کرکٹ کا کمال ہے‘‘۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا، مگر میری مدہم آواز بھائی جان کی طیش میں بھری چیخ و پکار تلے دب گئی۔
’’غضب خدا کا۔۔۔! کس قدر ڈھیٹ ہیں یہ بچے۔ منع کرنے کے باوجود بھی اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔۔ پچھلے ہفتے صحن کا بلب توڑ دیا تھا۔ آج کھڑکی کا شیشہ۔۔۔‘‘
ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ کال بیل کی آواز نے بھائی جان کے غصے کو کچھ دیر کے لئے بریک لگادیا۔
اس دن تو واقعی گلی کے بچوں کی شامت آگئی تھی۔ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ دروازہ بھی بھائی جان نے ہی کھولا۔ ایک لڑکا مسمسی صورت لئے کھڑا تھا۔
’’کیا ہے۔۔۔؟‘‘ بھائی جان نے کاٹ کھانے والے انداز میں پوچھا۔
’’انکل۔۔۔ وہ۔۔۔ آپ کے گھر بال آگئی ہے‘‘۔
پھر تو جیسے کسی نے جلتی پر تیل چھڑک دیا۔
’’بے شرمو۔۔۔ ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔۔ کس قدر دھڑلے سے گیند مانگ رہے ہو۔ ہمارا شیشہ کون لگوا کے دے گا؟ جب شیشہ لگوادو تو گیند بھی لے جانا‘‘۔ بھائی جان نے دروازے کو زور سے بند کیا اور بڑبڑاتے ہوئے اندر آگئے۔
’’بھائی جان‘‘۔ میں نے انہیں مخاطب کیا۔
’’ہوں۔۔۔ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے جواب دیا۔
’’میرے خیال میں اگر بچوں کو نرمی سے سمجھا دیا جاتا تو بہتر تھا‘‘۔
’’یار! کیسی نرمی۔۔۔ دیکھا نہیں کتنی ڈھٹائی سے گیند مانگ رہا تھا۔ پہلے جب بلب توڑا تھا تب بھی میں نے انہیں سمجھایا تھا ’’بیٹا میدان میں کھیلو۔۔۔ گلی محلہ کوئی کھیلنے کی جگہ ہے۔ لیکن ان پر ذرا بھی اثر نہیں ہوا!‘‘
’’ہاں آپ کی اس بات میں تو وزن ہے۔ انہیں میدان جاکر کھیلنا چاہئے‘‘۔ میں نے ان کی تائید کی۔ اسی دوران ٹیلی فون کی بجتی گھنٹی نے گفتگو کا سلسلہ موقوف کردیا۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اس واقعہ کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے میں اپنے کمرے میں امتحانات کی تیاری میں مصروف تھا کہ اچانک پھر وہی گیند بلائے ناگہانی کی طرح کھڑکی کا شیشہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوگئی، اس بار تو اس نے شیشے پر تؤقف نہیں کیا، بلکہ ٹپا کھا کر ٹیوب لائٹ سے ٹکرائی اور ٹیوب لائن ایک چھناکے کے ساتھ لاتعداد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ اب مجھے بھی کچھ غصہ آنے لگا۔ ’’ان بچوں کو سبق سکھانا ہی پڑے گا‘‘۔ میں بڑبڑاتا ہوا باہر کی جانب بڑھا۔ اس سے پہلے کہ میں دروازہ کھولتا۔ کال بیل نے اپنا سریلا راگ الاپا۔
’’کیا ہے؟‘‘ میں نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا۔ سامنے وہی اس دن والا لڑکا کھڑا تھا جس کی عمر یہی کوئی بارہ، تیرہ سال ہوگی۔
’’انکل! آپ کے ہاں ہماری بال آگئی ہے‘‘۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔
’’یار مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ تم لوگ آخر میدان میں کیوں نہیں کھیلتے۔ گلی میں کھیل کر دوسروں کا نقصان کرنا تمہیں اچھا لگتا ہے‘‘۔ میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اسے سمجھایا۔
’’انکل کس میدان میں کھیلیں؟ محلے کے واحد میدان پر کسی نے فلیٹس بنانے شروع کردیئے ہیں۔ ایک پارک ہے وہاں لوگوں نے کچرے کا ڈھیر لگادیا ہے۔ اب تو وہاں جرائم پیشہ لوگ بیٹھنا شروع ہوگئے ہیں‘‘۔ اس نے اپنی مجبوری بیان کی۔
’’ہوں تمہاری بات میں وزن ہے۔ آؤ اندر آکر اپنی گیند لے لو‘‘۔ مجھے بے اختیار ان بچوں پر ترس آنے لگا۔ اس نے حیرت سے میری جانب دیکھا اور تھوڑا جھجھکا۔
’’گھبراؤ نہیں، بھائی جان گھر پر نہیں ہیں، اندر آکر اپنی گیند لے لو‘‘۔ میں اس کی پریشانی کی وجہ بھانپ گیا تھا۔
میری بات سنتے ہی وہ بلاتاخیر اندر داخل ہوگیا اور کچھ ہی دیر بعد وہ گیند کے ہمراہ باہر موجود تھا۔
’’شکریہ انکل‘‘۔ اس نے ہانک لگائی۔
’’کوئی بات نہیں۔۔۔ لیکن اپنا نام تو بتاتے جاؤ؟‘‘
’’جمال۔۔۔ جمال احمد۔۔۔‘‘ اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا اور میں دروازہ بند کرکے پھر اپنے کمرے میں امتحانات کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنا بڑا حادثہ بھائی جان کی نظروں سے اوجھل رہے۔ شام کو گھر واپس آتے ہی انہوں نے تفتیشی دفتر سجالیا۔
’’طاہر ادھر آؤ‘‘۔ انہوں نے مجھے آواز دی۔
’’جی بھائی جان‘‘۔
’’یہ شیشہ کب ٹوٹا ہے؟‘‘
’’صبح کوئی 11 بجے کا ٹائم تھا‘‘۔
’’پھر تم نے لڑکوں کے گھر والوں سے شکایت کی؟‘‘
’’پہلے تو میرا یہی ارادہ تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ اُن کو اُن کی گیند واپس کردی‘‘۔
’’کیا۔۔۔ تم نے گیند واپس کردی، تاکہ وہ دوبارہ توڑ پھوڑ مچائیں‘‘۔ ان کی آواز سے غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
’’اصل میں وہ بھی صحیح کہتے ہیں، ان کے کھیلنے کے میدان پلازہ بنانے والے بلڈرز اور جرائم پیشہ لوگوں کی نذر ہوگئے ہیں۔ وہ بے چارے گلی میں نہیں تو پھر کہاں کھیلیں؟‘‘
’’یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے محلے کے دوسرے لوگوں سے بات کرلی ہے، سب اس پر راضی ہیں کہ ان کا کھیل اب بند کروادیا جائے، ہر دوسرے دن کسی نہ کسی کا بلب یا شیشہ ان کے کھیل کے باعث ٹوٹ جاتا ہے‘‘۔
’’میری بات مانیں انہیں کرکٹ کھیلنے سے نہ روکیں، اگر ان کی کرکٹ بند ہوگئی تو جانے وہ کون کون سے کھیل کھیلیں گے‘‘۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
’’کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ تمہیں کیمسٹری کے بجائے فلسفے میں ماسٹرز کرنا چاہئے۔ تمہاری باتیں فلسفے کی طرح ہی پیچیدہ ہیں‘‘۔ 
وہ بڑبڑائے اور پھر دوبارہ گویا ہوئے ’’بہرحال کچھ بھی ہو کل سے محلے میں کرکٹ نہیں ہوگی‘‘۔ انہوں نے اپنا فیصلہ سنادیا۔ مجھے بھی معلوم تھا کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہوں گے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
پھر کیا تھا محلے میں اس دن کے بعد کرکٹ بند ہوگئی۔ گلیاں ایسی سونی ہوگئیں جیسے وہاں کوئی نہ ہو۔ پھر وقت کا پنچھی کب کس کا لحاظ کرتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے کتنے ہی ماہ و سال گزر گئے۔ میں نے تعلیم مکمل کرکے ایک نجی ادارے میں نوکری شروع کردی۔ بھائی جان اپنی پرانی ملازمت کو خیرباد کہہ کر ایک سرکاری ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہوگئے تھے۔ اس دن ہم دونوں ایک عزیز کے گھر سے تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔
’’لگتا ہے کہ حالات کچھ خراب ہوگئے ہیں۔ سڑکیں بہت ویران ہورہی ہیں‘‘۔ میں نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھائی جان سے کہا۔
’’ہاں۔۔۔ محسوس تو ایسا ہی ہورہا ہے۔۔۔ اللہ خیر کرے جانے اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ کچھ پتہ نہیں کب حالات گڑبڑ ہوجائیں‘‘۔ بھائی جان نے دردمندانہ لہجے میں کہا۔
اب ہماری گاڑی اپنے محلے میں داخل ہوچکی تھی۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میرا شک بالکل صحیح تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سڑکوں کو رکاوٹیں ڈال کر بند کردیا گیا تھا۔ جگہ جگہ ادھ جلے ٹائر فضا کو مزید خراب کررہے تھے۔ بدمعاش لڑکے کسی بھی دکان کو نہیں بخش رہے تھے۔
’’طاہر ذرا دھیان سے‘‘۔ بھائی جان نے فکرمندانہ لہجے میں کہا۔
’’بھائی جان ہماری گلی کے کونے پر قوم پرست بلوائیوں کا ہجوم ٹائر جلا رہا ہے۔ کیا کریں۔۔۔؟‘‘ میں نے پریشانی سے دریافت کی۔
’’دوسرے راستے سے لے لو‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا۔
’’دوسرا راستہ بند پڑا ہے‘‘۔
’’اللہ کا نام لے کر یہیں سے چلتے ہیں‘‘۔ ان کے لہجے میں فکر نمایاں تھی۔
میں نے بھی گاڑی آگے بڑھائی، لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ بلوائیوں کے ہجوم سے کوئی نکل کر گاڑی کی جانب لپکا، ایک چھناکہ ہوا اور گاڑی کا شیشہ اس کے ہاتھ سے نکلے پتھر کے آگے آکر چور چور ہوگیا۔
میں نے حواس قابو میں کرکے گاڑی آگے بڑھائی۔۔۔ اسی اثناء میں میری نظر پتھر پھینکنے والے پر پڑی۔ میں دم بخود رہ گیا۔ وہ کوئی اور نہیں جمال تھا۔۔۔ آہ۔۔۔ پھر ایک اور چھن کی آواز آئی۔۔۔ میرا دل بھی کرچی کرچی ہوگیا تھا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top