skip to Main Content

پڑوسی

بینا صدیقی

 ……………..
اگر آپ اپنے پڑوسیوں سے تنگ ہیںتو یہ کہانی آپ کے لیے ہی ہے

……………..

’’گھر تو آسانی سے مل گیا تھا ناں؟ بھئی ہمارا گھر پورے محلے میں دور سے پہچانا جاتا ہے۔ محلے کا سب سے صاف ستھرا اور چمکتا دمکتا گھر ہمارا ہے۔‘‘ فرحان صاحب نے فخر سے کہا۔ 
’’جی ہاں اور جس گھر کے برابر والے گھر کے سامنے سب سے زیادہ کچرے کا ڈھیر لگا ہو وہ ہمارا گھر ہے کیوں کہ ہم اپنا سارا کچرا پڑوسیوں کے گھر کے سامنے پھینکنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔‘‘ صارم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ 
’’اب یہ تو ماسی اور جمعدار پر ہے کہ وہ کچرا گھر سے اُٹھا کر کہاں پھینکتے ہیں؟ ہم بھلا انسپکٹر جمشید تھوڑی ہیں کہ ماسی اور جمعدار کوڑا کچرا اُٹھا کر گھر سے نکلیں تو ہم ان کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں۔ ‘‘ فائزہ نے صفائی پیش کی۔ 
’’ویسے بھی اگر سب لوگ اپنا اپنا کچرا اپنے سے آگے والے گھر کے آگے ڈالتے جائیں گے تو ایک ایک کرکے ہر گھر سے کچرا بالآخر محلے سے باہر نکل جائے گا۔‘‘ سائرہ نے فلسفہ پیش کیا۔ 
’’چلیے چھوڑیے معظم صاحب! یہ بتائیے کہ سب خیریت ہے نا آپ کے گھر؟‘‘ فرحان صاحب نے مہمان کے سامنے بچوں کو لڑتا دیکھ کر بچوں کی توجہ خاموش بیٹھے معظم صاحب کی جانب دلوائی جو آج ان سے ملنے پہلی بار ان کے گھر آئے تھے۔ 
’’شکر ہے مالک کا۔ بس بجلی بہت جاتی ہے ہماری طرف۔ اس سے بڑی پریشانی ہے۔‘‘ معظم صاحب نے پہلی بار زبان کھولی۔ 
’’لو بھئی ہمارے ہاں تو کبھی بجلی نہیں جاتی۔ چاہے سارا شہر ہاے ہاے کررہا ہو۔‘‘ فرحان صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں اور اس کی وجہ بھی ہمارے نیک پڑوسی ہیں۔ ہم نے آگے اور پیچھے سے کنڈا ڈال کر دو فیز (phase)سے بجلی چُرا رکھی ہے۔ پڑوسیوں کی نیکی ہے کہ وہ ہماری بجلی نہیں چُراتے اور اپنی بجلی ہمیں چوری کرنے دیتے ہیں۔ اس لیے جب ایک کمرے کی بجلی چلی جائے تو ہم سڑک کی طرف والے کمرے میں چلے جاتے ہیں جہاں سڑک والے پڑوسی کی بجلی سے گھر روشن ہوتا ہے۔ جب اُدھر کی جائے تو اندر والے حصے میں جا بیٹھتے ہیں۔‘‘ صارم نے کندھے اُچکا کر کہا۔ 
’’بھئی اسے ہی عقل مندی، حکمت عملی اور منصوبہ بندی کہتے ہیں تاکہ ہر مسئلے کا دوہرا انتظام ہو۔‘‘ فرحان صاحب مہمان کے سامنے شرمندہ ہونے کو تیار نہ تھے۔ سادہ الفاظ میں اسے بجلی چوری کہتے ہیں۔ آپ اس کام کے لیے حکمت عملی اور منصوبہ بندی جیسے مشکل لفظ نہ تلاش کیجیے ۔۔۔ابوجان۔‘‘ صارم چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے خشک لہجے میں بولا۔ 
’’چلیے اس کا مطلب ہے پڑوسی اچھے ہیں آپ کے۔ دراصل میں آپ کے علاقے میں مکان لے رہا ہوں کراے پر۔ اس لیے ذرا معلومات حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔‘‘ معظم صاحب نے بات سنبھالی۔ 
’’ارے بہت اچھے پڑوسی ہیں۔ آٹا، دال، چاول ،چینی اور چاے کی پتی ہمارے گھر کی بھی وہی بے چارے خریدتے ہیں۔ ہم ان سے ہر وقت مانگتے جورہتے ہیں۔‘‘ صارم طنزیہ لہجے میں بول پڑا۔ 
’’افوہ معاف کیجیے گا معظم صاحب۔ میرے بچے بہت بدتمیز ہیں۔‘‘ فرحان صاحب شرمندہ ہو گئے۔ 
’’ارے نہیں یہ تو بہت سچے اور اچھے بچے ہیں۔ ایک شعر یاد آگیا
’’چھوٹے چھوٹے بچے مجھ کو اچھے لگتے ہیں
سارے شہر میں یہی تو سچے لگتے ہیں‘‘
معظم صاحب نے صارم کا پھولا چہرہ چھو کر پیار سے کہا۔ 
’’معظم بھائی، کھانا تیار ہے۔‘‘ امی اندر آکر بولیں۔ ’’ہاں ہاں چلیے معظم صاحب۔‘‘ فرحان صاحب کھڑے ہو گئے۔
’’فائزہ بیٹا۔ ذرا محمود صاحب کے گھر سے دو سبز الائچی لیتی آنا۔ حلوہ بنانے جا رہی ہوں۔‘‘ امی نے فرج سے دودھ کی پتیلی نکالتے ہوئے کہا۔ 
’’ہاں اور یہ بھی بتاتی آنا کہ ان کی الائچی سے بھون کر جو حلوہ بنایا جائے گا ۔وہ جب باسی ہوجائے گا اور ہم کھا کھا کر بور ہو جائیں گے تو ہم ضرور پھینکنے کے بجاے ان کے گھر بھجوا دیں گے۔‘‘ صارم نے موٹی سی کتاب کا ورق اُلٹتے ہوئے ہنس کر کہا۔ 
’’حد ہوگئی۔ بھلا حلوہ بھی کبھی باسی ہوا ہے؟ روز مائکرو ویومیں گرم کرو، روز تازہ ہوجائے اور پھر میں نے بھلا پڑوسیوں میں کون سی باسی اور سڑی ہوئی چیز بھیجی ہے کبھی؟ جو تم طنز کررہے ہو۔‘‘ امی کوغصہ آگیا۔ 
’’امی جان پچھلی بار آپ حلوے میں چینی ڈالنا بھول گئی تھیں۔ پھیکا حلوہ سارا کا سارا ابراہیم صاحب کے گھر چلا گیا اور ہاں پچھلے ماہ ابو بازار سے نہاری لائے تھے۔ سب نے کھا کھا کر پیٹ میں درد کرلیا تو بدبودار باسی نہاری فرج سے نکال کر آپ نے ہی میرے ہاتھ اکرام صاحب کے گھر بجھوائی تھی اور یاد آیا وہ کھٹی کھیر جس میں آپ نے عرق گلاب کی جگہ سرکہ ڈال دیا تھا وہ بھی تو جمال صاحب بے چارے کو بھیج دی گئی تھی چاندی کے ورق لگا کر۔‘‘ صارم چشمہ ناک پر جما کر بولتا چلا گیا۔ 
’’چپ کرو بدتمیز۔ ورنہ آج نہ حلوہ ملے گا نہ کوفتے۔ آج نرگسی کوفتے بنا رہی ہوں اور چنے کی دال کا حلوہ۔ دونوں نہیں ملیں گے تمھیں۔‘‘ امی گرج اُٹھیں۔ 
’’سوری امی۔ اب نہیں بولوں گا۔ ہاں کوفتے اور حلوہ کھانے کے بعد بولوں گا۔‘‘ صارم نے جلدی سے کہا۔ امی اسے گھورنے لگیں۔

*۔۔۔*

’’ابو۔۔۔ ابو مجھے صحیح بخاری پڑھنی ہے۔ گھر میں تو ہے نہیں۔ بازار میں معلوم کیا تو پانچ ہزار ہدیہ ہے پورے سیٹ کا۔ اگر آپ مجھے تین ہزار دے دیں تو میں اگلے تین مہینے تک پاکٹ منی نہیں لوں گا۔ دو ہزار میرے پاس ہیں۔‘‘ صارم ناک پر چشمہ جماتے ہوئے التجائیہ لہجے میں بولا۔ ابو جی کھڑکی میں بیٹھے باہر کا نظارہ کررہے تھے، ہنس دیے۔ 
’’سن لو بیگم! بیٹے کو کتابیں خریدنی ہیں۔ یہاں مہینے کی پچیس تاریخ چل رہی ہے۔ تنخواہ دار ہاتھ جھاڑے بیٹھے ہیں۔ اب ہم کوئی ابراہیم صاحب تو ہیں نہیں کہ اوپر کی آمدنی آئے۔ اب اس وقت بھی ان کے گھر گاڑی سے آم اور تربوز کی پیٹیاں اُتر رہی ہیں۔ رشوت بھیجی ہوگی کسی نے یقینا۔‘‘ ابو حسرت بھری آواز میں بولے۔ 
’’ابو ہو سکتا ہے یہ پیٹیاں اُنھوں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہوں یا ان کی گاؤں میں زمینیں وغیرہ ہوں اور پھل وہاں سے آیا ہو۔ ہمارے پیارے نبیؐ نے بدگمانی سے منع فرمایا ہے۔‘‘ صارم نرم لہجے میں بولا۔
’’ جو بھی ہو۔ تم کسی لائبریری سے حدیث کی کتابیں لے کر پڑھ لو۔ میں تنخواہ ملنے کے بعد بھی تمھیں تین ہزار نہیں دے سکوں گا۔‘‘ ابو نے اُکتا کر کہا۔ 
’’ابو لائبریری والے کہتے ہیں حدیث کی کتابیں ایشو نہیں ہوتیں۔ یہیں بیٹھ کر پڑھو۔‘‘ صارم مایوسی سے بولا۔ 
’’بھائی میری سہیلی کے دادا کے گھر حدیث کی ساری کتابیں ہیں۔ میں فرح سے بات کرکے آپ کو صحیح بخاری کی جلدیں باری باری لاکر دے دوں گی۔ آپ پڑھ کے واپس کر دیجیے گا۔‘‘ فائزہ نے باپ بیٹے کی بحث میں ایک حل کے ساتھ مداخلت کی۔ 
’’واقعی؟‘‘ صارم خوش ہوگیا۔ ’’میں اپنی پاکٹ منی سے تم کو گفٹ لا کر دوں گا۔‘‘ صارم کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا۔ 
’’اس کی ضرورت نہیں۔ آپ کا پڑھنے کا شوق سلامت رہے۔‘‘ فائزہ مسکرا دی۔ ابو بھی مسکرانے لگے۔

*۔۔۔*

’’ابو مجھے ہمسائیوں کے حقوق پر مضمون لکھنا ہے۔ آپ لکھوا دیجیے ناں۔‘‘ سائرہ کاپی قلم اٹھا کر باپ کے پاس چلی آئی۔ 
’’ہاں ہاں بہت ہی آسان سا موضوع ہے۔ میں لکھواتا ہوں۔ تم لکھو۔ پڑوسی کو ہمسایہ کہتے ہیں۔ ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کو ہماری ذات سے کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے اور وہ‘‘ ۔۔۔ اتنے میں ابو کا فون بج اُٹھا اور وہ بولے۔ 
’’میاں فلسفی! ہر وقت موٹی کتابوں میں گم رہتے ہو۔ اپنی عمر کے بچوں سے آگے کی کتابیں پڑھتے ہو۔ خلیل جبران کوئی تمھاری سمجھ کی باتیں کرتا تھا؟ چھوڑو یہ کتاب اور چھوٹی بہن کو مضمون لکھواؤ۔ میں نے آدھا لکھوا دیا ہے۔‘‘ ابو فون اُٹھا کر کمرے میں چلے گئے۔ صارم نے خلیل جبران کی موٹی سی کتاب بند کی اور کہا۔
’’لکھو سائرہ۔۔۔ ہمیں پڑوسیوں کی مدد کرنی چاہیے۔ خاص طور پر ان کے گھر کا راشن ختم کرنے میں ضرور مدد کرنی چاہیے اور وقتاً فوقتاً آٹا، چاول ، چینی اور گھی منگواتے رہنا چاہیے۔ ہمیں پڑوسیوں میں صبر شکر کی عادت ڈالنے کے لیے ان کی بجلی چرانی چاہیے۔ تاکہ زیادہ بل آنے پر وہ صبر شکر کرسکیں اور اس طرح فضول خرچی سے بھی باز رہیں۔ کیونکہ بجلی کا لمبا چوڑا بل بھرنے کے بعد ان کے پاس فضول خرچ کرنے کے لیے پیسہ بچے گا ہی نہیں۔ ہمیں پڑوسیوں کو صفائی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ جس کے لیے لازمی ہے کہ ہم اپنا کچرا ان کے گھر کے آگے پھینک دیں تاکہ وہ صفائی کے لیے مجبور ہوجائیں۔ ہمیں پڑوسیوں کی صحت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے اور ان کے گھر باسی اورخراب کھانے اور سڑے ہوئے پھل بھیجتے رہنا چاہییں۔ تاکہ وہ پیٹ کے درد کا شکار ہو کے ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ ڈرپ لگا کر صحت مند ہوکر واپس آئیں۔ ہمیں پڑوسیوں کی جاسوسی بھی کرنی چاہیے جو ان کا خیال رکھنے کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ ان کے آنے جانے پر نظر رکھنے اور ان کے بارے میں خبریں پھیلانے سے ہم ان کی مدد کرسکتے ہیں تاکہ وہ محلے میں مشہور ہو سکیں اور سب لوگ ان ہی کے بارے میں باتیں کریں ۔ یہ وہ حقوق ہیں جو ہم بڑی ہی توجہ اور باقاعدگی سے ادا کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔‘‘ صارم کہتا چلا گیا اور فون سن کر پلٹ کر آتے ابو ہاتھ میں فون لیے گم سم کھڑے رہ گئے۔ 
اسلامیات کی کتاب میں لکھی، بچپن میں پڑھی گئی حدیث مبارکہ گویا ان کے کانوں میں کوئی دہرانے لگا۔
’’تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ رہے۔‘‘
’’ میرے رب ، میں بچپن کی پڑھی اس حدیث کو بچپن میں ہی چھوڑ آیا ۔ میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔ ننھے سے صارم نے صحاح ستہ سے لے کر سیرت النبیؐ اور کتنے مفکروں کو پڑھ رکھا ہے۔ شاید یہ بچہ میرے لیے اﷲ کی ہدایت ہے۔ ہدایت ۔‘‘ ابو نے نگاہوں نگاہوں میں صارم کا منھ چوم لیا۔

*۔۔۔*

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top