skip to Main Content
صرف ایک دن

صرف ایک دن

نذیرانبالوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اے مالکِ دو جہاں تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایک دن کی مہلت عطا کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد اور چاندزمین کے گرد اپنی مقرر ہ رفتار سے گردش کر رہے تھے۔زمین پر 29رمضان المبارک صبح آ ٹھ بجے کا وقت تھا ۔زمین چاند کو دیکھتی اور خوش ہوتی کہ جب غروبِ آفتاب کے بعد یہ نیلے آسمان پر چمکے گا تو انسان اسے دیکھ کر خوشی منائیں گے‘ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں گے‘ایک دوسرے کو گلے لگائیں گے اور مبارک باد دیں گے ۔زمین کی طرح چاند سورج کو یکھ رہا تھا ۔چاند کی خوبصورتی اس کی روشنی کی محتاج تھی ۔سورج اپنی روشنی چاند کو نہ د ے تو بھلا اسے پیارا چندا ماموں کون کہے گا ۔نظامِ شمسی کے سیارے چاند کی قسمت پر نازاں تھے۔
’’کتنا خوش قسمت ہے یہ چاند۔‘‘عطارد بولا۔
’’ہاں واقعی یہ بہت قسمت والا ہے ۔‘‘زہرہ نے جواب دیا۔
’’ایک ماہ پہلے جب اس نے آسمان پر اپنا چہرہ دکھایا تو رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تھا۔اب یہ شوال کا مہینہ لے کر زمین کے لوگوں کے لیے خوشیاں لے کر جائے گا۔انسان بے چینی سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔‘‘مریخ نے کہا۔
’’چاند کا انتظار کیا جاتاہے اور ایک ہم ہیں…………بے مقصد…………بے مصرف۔‘‘
’’بس ……….بس……….چپ رہو……….اس کائنات میں کوئی چیز بے مقصد نہیں ۔مالک جس حالت میں رکھے اسے خوش رہنا چاہیے………۔‘‘زہرہ نے عطارد کی بات کا فوراً جواب دیا۔زہرہ نے مزید کچھ نہ کہااور رشک بھری نظروں سے چاند کی طرف دیکھا۔اب سارے خاموشی سے گردش کرنے لگے۔ان سب کو اس وقت حیرت کا جھٹکا لگا جب سورج نے چاند کو مخاطب کیا تھا۔
’’چاند جی زمینی انسانوں کو اپنا مکھڑا دکھانے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔بس اب چند گھنٹوں کی تو بات ہے۔‘‘
’’میرا دل نہیں چاہتا۔‘‘
’’وہ کیوں……….؟…………سورج نے پوچھا۔
’’میں انہیں رمضان المبارک کے بجائے تیس رمضان المبارک کو آسمان پر نکلنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’وہ کس لیے؟…………اس کی کوئی وجہ تو ہوگی…………‘‘
’’میں جب شوال کا مہینہ لے کر زمین پر جاتا ہوں تو جہاں بہت سے انسانوں کے لیے خوشیاں لے کر جاتا ہوں وہاں بہت سے انسانوں کی محرومیاں مجھے دیکھ کر سر اٹھا لیتی ہیں۔کسی کو پیارے رمضان کی جدائی کا غم ہوتا ہے اور کسی کو اچھے کپڑے نہ ملنے کا دکھ۔میں ان کی حا لت دیکھتا ہوں اور دکھی ہوتا ہوں۔‘‘چاند بولتا چلا گیا۔
’’چاند بھی عجیب و غریب باتیں کرنے لگا ہے ……نا شکرا کہیں کا……‘‘مشتری نے کہا۔
میں چاند کی جگہ ہوتا تو انتیس کے بجائے پچیس تاریخ کو ہی آسمان پر چمکنے کی ضد کرتا ……انسانوں کی منتظر نگاہیں ہوتیں اور میرا چہرہ ہوتا۔‘‘عطارد بولا۔
’’تم بھلا چاند کی جگہ کیوں ہوتے ۔اپنا منہ تو دیکھو۔……کہاں چاند او رکہاں تم……‘‘زہرہ نے جل بھن کر کہا۔
’’تم تو اپنی بحث ختم کرو۔‘‘سورج نے انہیں ڈانٹ کر زمین کو مخاطب کیا۔
’’پیاری زمین تم کیا کہتی ہو؟‘‘
’’چاند بھیا ٹھیک کہتا ہے ۔میں اپنی بات کی تائید کے لیے آپ کو چند مناظر دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘زمین بولی۔
’’ہاں دکھاؤ مناظر ۔‘‘سورج بولا۔
’’سب مختلف مناظر دیکھنے کے لیے تیار ہو گئے۔
’’دس گیارہ سالہ جبران اپنے کمرے میں بیڈ پر آنسو بہا رہا تھا۔روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔اسے سکول سے چھٹی تھی۔
’’میرے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا ……مجھے کچھ بھی نہیں ملے گا……‘‘وہ یہ بڑ بڑا ہی رہا تھا کہ امی جان آگئیں۔
’’جبران بیٹے کیا ہوا ہے……تم رو کیوں رہے ہو……کیا چاہیے تمہیں؟……بولو……امی جان اسے پیار سے کہا۔
’’تمہیں کیا چاہیے؟‘‘
’’مجھے جو چاہیے تھاوہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا …… ‘‘
’’کیا مطلب؟……‘‘
’’امی جان اس بار جب رمضان المبارک کا آ غاز ہوا تو میں نے ارادہ کیا تھا کہ سارے نہیں تو آدھے روزے ضرور رکھوں گا۔‘‘
’’تم نے سولہ روزے تو رکھیں ہیں ۔آج سحری کے وقت تمہیں بخار تھا اس لیے تمہیں روزہ رکھنے نہیں دیا۔کیا اسی لئے رو رہے ہو؟پگلے کہیں کے۔‘‘
’’میں نے ایک روزہ بھی نہیں رکھا۔‘‘جبران کے اس انکشاف پر امی جا ن کا حیران ہونا فطری بات تھی۔‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘
’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔میں نے سولہ روزے رکھے تو ضرور ہیں مگر مجھے ان سے بھوک پیاس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔جن باتوں کا مجھے پہلے رمضان سے علم ہونا چاہیے تھا وہ آج مجھے معلوم ہو رہی ہیں کسی نے بھی تو مجھے رمضان کے بارے میں نہیں بتایا۔میں تو روزہ صرف اسی چیز کو سمجھتا تھا کہ سحری کے وقت کھانا کھا لیا اور سارا دن بھوکے رہ کر افطاری کر لی ۔روزہ تو اس سے بہت مختلف چیز ہے۔میں نے روزے رکھ کر جھوٹ بھی بولا‘غیبت بھی کی اور اپنے ہاتھوں سے دوسروں کو مارا پیٹا بھی۔اب مجھے بھلا پیارا رمضان کیا دے گا۔کچھ بھی تو نہیں۔کل شاید عید ہو جائے ۔میں ایک روزہ بھی صحیح طرح نہ رکھ سکا۔کاش آج چاند نظرنہ آئے ۔‘‘امی جان نے جبران کو دلاسہ دیتے ہوئے میز پر رکھی اس کتاب ک طرف دیکھا جس پر ’’رمضان کیسے گزاریں ‘‘لکھا تھا۔اسی کتاب میں جبران نے پیارے نبی صلی علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ پڑھی تھی کہ’’جس نے جھوٹ بولا اور اس پر عمل نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں ہے کہ روزہ رکھ کر کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘
’’اے میرے مالک آج چاند نظر نہ آئے ۔‘‘امی جان نے کہا۔
اب ایک اور گھر میں مختلف صورت حال تھی۔
’’امی ……امی…….کیا ابو آج آجائیں گے؟‘‘ننھی آصفہ بولی۔
’’نہیں ……‘‘
’’وہ کیوں ؟……..‘‘سروش بھی بول پڑا۔
’’تمہارے ابو جان کو ہوائی جہاز کا ٹکٹ جو نہیں ملا۔ان دنوں کویت سے بہت سے لوگ عید منانے کے لیے پاکستان آرہے ہیں ‘مسافروں کے رش کی وجہ سے تمہارے ابو کو سیٹ نہیں مل سکی ۔وہ کل دو بجے دوپہر آئیں گے۔‘‘
’’امی جان کل عید ہو گئی تو ابو جان کے آنے تک کافی دن گزر جائے گا‘تب خاک مزا آئے گا ۔‘‘سروش کا لہجہ افسردہ تھا۔
’’کاش آج عید کا چاند نظر نہ آئے۔‘‘آصفہ بولی۔
’’اللہ کرے ایسا ہی ہو……‘‘امی نے کہا۔
’’عید پرسوں ہو جائے تو مزا ہی آجائے ۔پیارے چندا ماموں آج ہمارے گھر مت آنا۔بات مان لو چندا ماموں ……اچھے ماموں……‘‘آصفہ کی اس بات پر امی جان مسکرا اٹھیں۔
’’اگلے منظر میں ایک بوڑھا نیم تاریک کمرے میں اپنی ٹوٹی پھوٹی چار پائی پر پڑا بری طرح کھانس رہا تھا ۔جب کھانسی کا دورہ اپنا زور کم کرتا تو اس کی زبان سے یہ کلمات ادا ہوتے۔
’’پیارے رمضان تو اب صرف چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔میں بھی اب اس دنیا میں مہمان ہوں ۔اگلے برس ہو سکتا ہے تم سے ملاقات نہ ہو۔‘‘یہ کہتے ہوئے پھر اس پر کھانسی نے غلبہ پا لیا۔کھانسی اتنی شدید تھی کہ اس کی سانسیں اکھڑ گئیں ۔چار پانچ منٹ کے بعد اسے کھانسی سے وقتی طور پر نجات ملی تو وہ دوبارہ بڑ بڑایا۔
’’کاش کل عید نہ ہو۔آج چاند دکھائی نہ دے۔پیارے رمضان تمہارے ساتھ مزید ایک دن گزارنا چاہتا ہوں……میرے ساتھ مل کر دعا کرو آج چاند دکھائی نہ دے……‘‘اسی آواز کے ساتھ کھانسی نے اسے پھر آلیا۔
سب ان مناظر کوخاموشی سے دیکھ رہے تھے انہیں تھوڑی دیر بعد مسجد کے ایک کونے سے سسکیوں کی آواز سنائی دی ۔ایک داڑھی والا شخص آگے بڑھا۔اس نے سسکیاں بھرتے شخص سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا۔
’’رمضان رخصت ہونے والا ہے……کاش ایک دن مزید مل جائے ……آج چاند نظر نہ آئے……‘‘
’’اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے……‘‘سورج بھیا اب کیا خیال ہے؟……‘‘چاند نے پوچھا۔
’’میں تمہیں روشنی تو دیتا ہوں مگر بے بس ہوں۔آؤ اسی کے سامنے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہیں جس نے ہمیں تخلیق کیا ہے ۔میرے ساتھ ہاتھ اٹھا دو……شاید وہ ذات تمہیں ایک دن کی مہلت دے دے۔‘‘
یہ سن کر سورج ‘چاند‘زمین اور گردش میں دوسرے سیاروں کے ساتھ ساتھ رمضان نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے ۔سب نے گڑ گڑ ا کر دعا مانگی۔دعاء مانگ کر سب خاموشی سے اپنے اپنے مقام پر گردش کرنے لگے۔29رمضان المبارک کو افطاری کے بعد لوگ چھتوں پر چڑھ کر چاند تلاش کرنے لگے۔کراچی میں رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری تھا۔لوگوں کی آنکھیں چاند دیکھنے کے لیے ترس رہی تھیں ۔چاند لوگوں کی بے چینی دیکھ رہاتھا۔وہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہا تھاکہ آج کی رات اس پر سورج کی روشنی نہ پڑے۔پہلی رات کا چاند چونکہ بہت کم وقت کے لیے آسمان پر نمودار ہوتا ہے اس لیے عشاء تک ٹیلی ویژن پر رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی حصہ میں چاند دکھائی نہیں دیا لہٰذا کل تیسواں روزہ ہوگا‘پرسوں انشاء اللہ عید ہوگی۔
تیسویں رمضان المبارک کے دن مغرب سے کچھ دیر پہلے چاند آسما ن پر نمودار ہونے کے لیے تیار تھا۔چاند تو پہلے ہی بہت خوبصورت ہے ‘اس د ن وہ اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا۔زہرہ نے گردش کرتے کہا۔
’’اللہ چاند بھیا کو نظر بد سے بچائے ……‘‘
’’چاند بھیا انسانوں کے لیے خوشیاں لیے کب جا رہے ہو ؟……‘‘زحل نے پوچھا۔بس تھوڑی دیر میں ……کیسا لگ رہاہوں؟‘‘
’’یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے……ہمیشہ کی طرح بہت پیارے……‘‘زحل نے جواب دیا۔
زمین پر مغرب کی اذانیں گونجیں تو سورج نے اپنی روشنی سے چاند کو منور کر دیا۔چاند پہلی رات کے ہلال کی صورت لیے آسمان پر موجود تھا۔جبران بہت خوش تھا کیونکہ اس نے پہلی بار حقیقی روزہ رکھتے ہوئے اس کے حقوق ادا کئے تھے۔سروش اور آصفہ اپنے ابو کی گود میں چڑھے چندا ماموں کو دیکھ رہے تھے۔
’’وہ ہے پیارا چندا ماموں……‘‘آصفہ نے ایک طرف انگلی کا اشارہ کرتے کہا۔
دونوں کی خوشی دیدنی تھی۔چاند نے آہستگی سے کہا۔
’’میں اگر کل نکل آتا تو یہ منظر نہ دیکھ پاتا۔اے مالکِ دو جہاں تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایک دن کی مہلت عطا کی۔میں تیرا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے۔‘‘

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top