skip to Main Content

بد ذات بلی

ڈاکٹر جمیل جالبی
۔۔۔۔۔۔

بچو! یہ اس گھنے جنگل کا قصہ ہے جس میں ایک بہت پرانا،سایہ دار اونچا درخت تھا۔اس درخت کی ایک اونچی سی شاخ پر عقاب کا گھونسلا تھا۔ جہاں وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ آرام سے رہتا تھا۔اسی درخت کی جڑ میں ایک سور نی بھی اپنے بچوں سمیت اطمینان سے رہتی تھی۔
ایک دن ایک بلی بھاگتی ہوئی وہاں آئی اور تیزی سے اس درخت پر چڑھ کر،پتوں اور شاخوں میں دبک کر بیٹھ گئی۔بلی کو وہ گھنادرخت بہت پسند آیا اور وہ بھی اس کے ایک موکھے(بڑے سے سوراخ) میں رہنے لگی۔کچھ دن بعد اسی موکھے میں اس نے بچے دیے۔
جب بلی کو وہاں رہتے رہتے کچھ دن گزر گئے تو بلی کی نیت میں فتور آیا اور وہ عقاب کے پاس گئی اور کہا،”اے بھائی! اے میرے پڑوسی! ہم پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد بڑی آفت آنے والی ہے۔ہم سب ہلاک ہو جائیں گے۔وہ بد ذات سورنی ہمیشہ درخت کی جڑ کھودتی رہتی ہے۔میں سمجھتی ہوں وہ اس درخت کو گرانا چاہتی ہے تاکہ ہمارے بچے آسانی سے پکڑ کر کھا جائے۔میں نے اس لیے اپنے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے اور ہر وقت گھر میں بیٹھی سورنی کو دیکھتی اور اپنے بچوں کی خبر داری کرتی رہتی ہوں۔اگر مجھے اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے اسی طرح ایک مہینہ بھی گھر میں رہنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں۔بھائی! میں تو بہت ڈری ہوئی ہوں۔“
عقاب سے یہ بات کرکے بلی اپنے گھر آگئی اور کچھ دیر بعد نظریں بچا کر سورنی کے پاس گئی اور رونی صورت بنا کر بولی،”اے بہن! آج باہر مت جانا۔میں نے عقاب کو اپنے بچوں سے کہتے سنا ہے کہ جب یہ سورنی باہر جائے گی تو میں اس کا بچہ لا کر تم کو کھلاؤں گا۔میں تو خود بہت ڈری ہوئی ہوں۔کہیں عقاب میرا بچہ ہی نہ لے جائے۔“یہ کہہ کر وہ پیڑ پر چڑھ گئی اور اپنے بچوں کے پاس چلی گئی۔
اب یہ ہوا کہ عقاب سورنی کے ڈر سے سے اور سورنی عقاب کے ڈر سے باہر نہ جاتے اور اپنی اپنی جگہ بیٹھے ایک دوسرے کو تاکتے جھانکتے رہتے،بلی بھی دن بھر گھر میں بیٹھی اپنے موکھے سے جھانکتی رہتی لیکن جب رات ہوتی تو وہ چپکے سے دبے پاؤں باہر جاتی اور اپنے بچوں کے لئے غذا لے آتی مگر دن کو وہ اپنی جگہ سے نہ ہلتی۔
اسی طرح کئی دن گزر گئے۔عقاب اور سورنی کے بچے بھوک سے ایک ایک کرکے مرنے لگے اور چند ہی دنوں میں عقاب اور سورنی بھی بھوک اور پیاس سے مر گئے۔
بلی نے جب دیکھا کہ وہ سب ہلاک ہو گئے ہیں تو اس نے ان سب کو ایک ایک کرکے خود بھی کھایا اور اپنے بچوں کو بھی کھلایا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top