skip to Main Content

بدلہ

ساجدہ غلام محمد

۔۔۔۔۔۔

اولاد تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے….!
ہوا کے دوش پر اُڑتا ہوا ایک ننھا سا بیج دھیرے دھیرے نیچے کی جانب آنے لگا۔
”بسم اللہ، بسم اللہ….!!“دھرتی ماں نے اُس بیج کے لیے جیسے اپنی بانھیں پھیلا دیں۔ننھے، کمزور اور بے بس سے بیج نے زمین پر گرتے ہی سہم کر اپنے اطراف میں دیکھا۔
”ماں کے پاس آئے ہو اور ماں کو تم بہت پیارے ہو۔ “دھرتی ماں نے مسکراتے ہوئے اس ننھے سے وجود کو اپنی نرم گرم سی مٹی میں چھپا لیا۔ مٹی میں چھپے بیج نے بھی پرسکون ہو کر اپنی آنکھیں موند لیں اور اپنے ارد گرد موجود دنیا کو محسوس کرنے لگا۔

….٭….

”ماشا اللہ! ہمارا بیٹا کتنا پیارا ہے۔“ انصر نے نرمی سے اپنے نومولود بیٹے کا ماتھا چوما۔
تحریم مسکرا دی۔ ابھی وہ ایک دن کا تھا
”نو سالوں کے بعد اللہ نے ہمارے آنگن میں پھول کھلایا ہے۔ اللہ اس پھول کو، میرے پیارے حسان کو، یونہی میرے گلشن میں آباد رکھے، آمین!“
انصر نے ایک بار پھر اپنے بیٹے کی پیشانی کو چوما تھا۔

….٭….

سورج کی روشنی چار سو پھیلی تو دھرتی نے اُس جانب نظر کی جہاں اس نے دس دن پہلے ایک بیج کو اپنی آغوش میں لیا تھا۔
”سبحان اللہ!….میرے رب کی قدرت۔دیکھو تو پیاری چڑیو!آج میری آغوش میں چھپے بیج سے ننھا سا پودا نکل آیا ہے۔“ دیوار پر بیٹھی چڑیوں نے دھرتی ماںکی آواز سن کر ننھے پودے کی جانب دیکھا اور خوشی سے چہچہانے لگیں۔
ننھا پودا اُن کی آواز سن کر سہم سا گیا۔
”ڈرو نہیں، یہ سب تمھارا استقبال کر رہی ہیں۔ تم خوشیوں کی نوید ہو،تم اُن کی زندگی کے ضامن ہو۔ تم بڑے ہو گے تو وہ تمھاری شاخوں کے درمیان گھر بنائیں گی۔“
ہوا نے ننھے پودے کو گدگداتے ہوئے کہا تو وہ شرما کر ایک جانب کو تھوڑا سا جھک گیا۔
”لیکن میں تو ابھی بہت کمزور ہوں۔ میری شاخوں پر گھر کیسے بنائیں گی؟ “
ننھے پودے نے فکرمندی سے کہا تو ہوا اور چڑیاں ہنس پڑیں جب کہ ماں مسکرا دی۔
”بڑے تو ہو جاو¿، پھر شاخیں بھی بنیں گی اور ان شاخوں پر پیارے پرندوں کے گھر بھی بنیں گے ان شاءاللہ! پھر تم اِن گھروں کی حفاظت کرنا لیکن فی الحال میں تمھاری دیکھ بھال کروں گی کیوں کہ تم مجھے بہت پیارے ہو۔ “
اس بار ننھے پودے نے قدرے اعتماد کے ساتھ دیوار پر پھدکتی چڑیوں کو دیکھا تھا۔

….٭….

”حسان! دھیان سے….گر نہ جانا!“ تین سالہ حسان صحن میں فٹ بال کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک اس نے فٹ بال کو کِک لگائی اور وہ سیدھی جا کر صحن کے کونے میں اگے تین سال کے چھوٹے پودے کو لگی۔
”آہ….!“ پودے نے بے اختیار سسکی لی لیکن اس کی آواز حسان نہ سن سکا۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور پودے کے قریب ہی گری ہوئی فٹ بال اٹھا کر واپس بھاگ گیا۔
”کوئی بات نہیں۔ تمھارا تنا دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ جلد ہی تمھیں ایسی معمولی چوٹوں سے درد نہیں ہو گا…. لو، اب پانی پیو۔“
دھرتی ماں نے پودے کی جڑوں کی جانب پانی بھیجتے ہوئے کہا تومنہ بسورتا پودا مسکرا اٹھا۔

….٭….

پودے اور حسان، دونوں نے ہی اپنا قد کاٹھ نکال لیا تھا۔
”میرا پیارا بچہ….! “دھرتی ماں ہر صبح اس کی بلائیں لیتی۔
”میرا پیارا بیٹا….!“تحریم اور انصر حسان پر صدقے واری جاتے۔
ننھے بیج سے اُگا ہوا پودا اب درخت بن چکا تھا اور اس پر پھول کھل گئے تھے۔
ایک دن کہیں سے ایک شہد کی مکھی اڑتی ہوئی آئی اور پھولوں کا رس پینے لگی۔ حسان حسبِ معمول فٹ بال کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک اس کے پاو¿ں کی ضرب سے اچھل کر فٹ بال پھولوں سے ٹکرائی۔ شہد کی مکھی گھبرا گئی اور اس نے حسان کے ماتھے پر کاٹ لیا۔ حسان کی چیخ سے گھر کے مکین دوڑے آئے۔
”یہ سب اِس منحوس درخت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نہ یہ یہاں اگتا اور نہ ہی شہد کی مکھی یہاں آتی۔“ انصر غصے سے درخت کی ٹہنیوں کو توڑتے ہوئے چلایا۔
حسان تحریم کے ساتھ لگا ہوا رو رہا تھا۔
”کٹوا دیں اسے۔ ابھی تو ایک مکھی آئی تھی۔ آگے نہ جانے کتنی آ جائیں گی۔ “
تحریم کے لہجے میں بھی درخت کے لیے نفرت سی تھی۔ درخت اور دھرتی ماں دَم سادھے دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔
”اماں!میرا کیا قصور ہے؟ مجھے یہ کیوں ماریں گے؟“
درخت نے نم لہجے میں دھرتی سے پوچھا لیکن وہ کوئی جواب نہ دے سکی۔
اگلے ہی روز ایک لکڑہارے کو بلوا کر وہ درخت کٹوا دیا گیا تھا۔
”اماں!انسانوں نے ایسا کیوں کیا؟…. اپنی اولاد کی خاطر تمھاری اولاد کو مار دیا؟“
وہ تمام چڑیاں اداس تھیں جن کا من پسند مشغلہ اِس درخت کی شاخوں پر پھدکنا تھا۔
”کیوں کہ انسان کو لگتا ہے کہ صرف اسے ہی اپنی اولاد سے پیار ہوتا ہے۔“
ماں غم سے چور تھی۔
”لیکن یہ انسان تو ہر روز ہی کہیں نہ کہیں تمھاری اولاد، تمھارے بیٹوں کو کاٹ دیتا ہے۔ کہیں نیا پلازا تعمیر کرنے کے بہانے، کہیں لکڑی حاصل کرنے کے بہانے۔“
ہوا بھی دھرتی ماں کے دکھ کو محسوس کر رہی تھی، اس لیے بالکل ساکت تھی۔ فضا میں حبس ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا تھا۔
”میں کتنے پیار سے،کتنی محبت سے انھیں پال پوس کر بڑا کرتی ہوں کہ یہ اللہ کے حکم سے میرے وجود کو طاقت دیں گے، میرے اوپر بسنے والی تمام مخلوقات کے لیے فائدہ مند بنیں گے لیکن یہ انسان….“ اچانک ماں کے لہجے میں سختی عود آئی۔ ”یہ انسان مجھے اور میری اولاد کو کچھ سمجھتا ہی نہیں ہے، لیکن بس!اب اور نہیں…. مجھے حکم ملا ہے کہ انھیں ہلکی سی سزا دوں۔“اتنا کہہ کر دھرتی ماں نے اپنے آپ کو بس ہلکا سا جھٹکا دیا تھا۔
اسی وقت اِس علاقے کے اکثر مکین اپنے گھروں سے باہر کی جانب بھاگے۔
”زلزلہ!….باہر نکلو، زلزلہ آ رہا ہے۔“
وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ زلزلہ اصل میں کادھرتی ماں کا غصہ تھا جو وہ اپنی اولاد کو مرتے دیکھ کر ضبطنہ کر سکی تھی۔
اور اولاد تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے….!

٭٭٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top