skip to Main Content

اندھی بڑھیا کی مدد

خواجہ عابد نظامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں ایک دن جارہے تھے نبی
نظرآئی رستے میں اک بھیڑ سی
وہاں ایک تھی بوڑھی عورت غریب
مصیبت کی ماری ہوئی بدنصیب
وہ بے آسرا تھی، وہ مظلوم تھی
وہ آنکھوں کی نعمت سے محروم تھی
اسے چلتے چلتے جو ٹھوکر لگی
توبازار میں منہ کے بل گرگئی
اسے دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے
شرارت سے آوازے کسنے لگے
کسی کو بھی اس پر نہ آیا ترس
لگے پھینکنے اس پہ خاراور خس
وہ اشکوں سے منہ اپنا دھوتی رہی
بہت دیر تک یونہی روتی رہی
جو یہ ماجرا دیکھا سرکار نے
تو آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
یہ فرمایا:لوگو! خدا سے ڈرو
تم اس کو نہ اس طرح رسوا کرو
گئے پھر نبی اس ضعیفہ کے پاس
کیا دور باتوں سے خوف اور ہراس
تسلی اسے دی کہ گھبرا نہ تو
ہے محفوظ اب جاں اور آبرو
نبی لے گئے اس کوپھراس کے گھر
مدد اس کی فرمائی مقدوربھر
کیا ایسا اچھا سلوک اس کے ساتھ
دعاء کے لیے اٹھ گئے اس کے ہاتھ
نبی ابر رحمت تھے سب کے لیے
سراپا محبت تھے سب کے لیے
وہ آتے تھے دکھیوں غریبوں کے کام
محمدؐ پہ لاکھوں درود اور سلام

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top