skip to Main Content

۲ ۔ اللہ سے محبت

حکیم محمد سعید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کے پیارے
اللہ کے رسول ،حضرت محمّدﷺ ایسے انسا ن تھے جن کو اللہ نے ہر خوبی عطا کی تھی ۔جو آپﷺ کے پاس رہ لیتا وہ آپﷺ کا جاں نثار بن جاتا ۔آپ ﷺ جیسا نہ پہلے کبھی دیکھنے میں آیا اور نہ آپﷺ کے بعد ۔آپﷺ سے لوگوں کو بے پناہ سچّی محبّت تھی ۔لوگوں کے دل آپ ﷺ کی طرف اس طرح کھنچے چلے آتے تھے،جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے ۔
آپ ﷺ کے صحابہؓ نے آپﷺ سے ایسی محبت کی ہے ،ایسی جان فدا کی ہے اور ایسا آپﷺ کاحکم مانا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔آپﷺ پر اپنی جا ن اور اپنا مال قربان کرنے میں آپﷺ کے صحابہؓ ایک دوسرے سے آگے بڑھ گئے ۔آپﷺ کی خوشی سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی خوشی نہ تھی ،آپ ﷺ کے راضی ہونے سے بڑھ کر ان کے لیے کوئی دولت نہ تھی ۔ آپ ﷺ کی محبت اور آپﷺ کی اطاعت اللہ سے محبت اور اللہ کی اطاعت تھی۔آپﷺ راضی تھے تو اللہ بھی راضی تھا۔
حضورﷺ سے محبت
ایک روز رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ مسجدِ حرام تشریف لے گئے ۔وہاں حضرت ابو بکرؓ نے لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف دعوت د ی۔
یہ پہلاموقع تھا کہ کسی نے حرم شریف میں اس طرح کھل کر لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا ہو۔ مشرکین یہ سنتے ہی حضرت ابو بکرؓ پر ٹوٹ پڑے اور اُن کو گرا کر مارنے لگے۔عتبہ نے ان کے منھ پر اتنا مارا کہ ان کا منھ سوج گیا۔
یہ حال دیکھ کر اُن کے قبیلے والے آگے بڑھے اور انھیں چھُڑا کر گھر لے آئے ۔شام تک حضرت ابو بکرؓ بے ہو ش پڑے رہے ۔شام کو جب ہوش آیا تو پہلا سوال یہ کیا:
’’رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے ؟‘‘
ان کی والدہ نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں معلوم ۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا :
’’جائیے ،بہن سے پوچھ کر آئیے ۔‘‘
حضرت ابو بکرؓ کی بہن اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں ۔مگر انھوں نے کسی کو بتایا نہیں تھا ،ان کی والدہ تک کو معلوم نہیں تھا۔ان کی والدہ نے جا کر جب ان سے پوچھا تو وہ خود حضرت ابو بکرؓ کے پاس آگئیں ۔
حضرت ابو بکرؓ نے ان سے وہی سوال کیا :
’’رسول اللہ ﷺ کا کیاحال ہے ؟‘‘
انھوں نے بتایا ،’’حضورﷺ بالکل خیریت سے ہیں۔‘‘
حضرت ابو بکرؓ نے کہا:
’’واللہ ،میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گا،نہ پیوں گا جب تک حضورﷺ کو نہ دیکھ لوں ۔‘‘
ان کی بہن نے ان سے کہا:
’’ذرا ٹھیر جائیے ۔‘‘
پھر جب کچھ وقت گزر گیا تو وہ اور ان کی والدہ حضرت ابو بکرؓ کو سہارا دے کر حضورﷺ کے پاس دارِ ارقم میں لے گئیں ۔
حضرت ابو بکرؓ کاحال دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔آپﷺ نے جھک کر انھیں چوم لیا ۔حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا:
’’میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان !یہ میری ماں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہیں ۔آپ صاحب برکت ہیں ۔ان کو اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور دعا فرمائیے کہ اللہ ان کو دوزخ کی آگ سے بچا لے ۔‘‘
حضورﷺ نے ان کے لیے دعا کی اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہو گئیں ۔
انصار کی جاں نثاری
جنگِ بدر ،مسلمانوں کی کافروں سے پہلی جنگ تھی ۔رسول اللہ ﷺ جب اس جنگ کے لیے مدینے سے نکلے تو مسلمانوں کابُرا حال تھا ۔ابھی ہجرت کو دوسال ہوئے تھے اور وہ تنگد ستی کی حالت میں تھے ۔سارے لشکر میں دو گھوڑے اور چار اونٹ تھے جن پر لوگ باری باری سوار ہوتے ۔یہی حال سامانِ جنگ کا تھا۔
جب اللہ کے رسولﷺ بدر کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریش کابھاری لشکر مکّے سے آپہنچا ہے ۔یہ خبر سُن کر حضورﷺ نے اپنے صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے ۔
حضورﷺ کے ایک صحابی ،حضرت مِقداد بن عَمرو کھڑے ہو گئے اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ ہمیں جہاں چلنے کاحکم دیں گے،ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہوں گے ۔ہم آپ ﷺ کے ساتھ لڑیں گے۔اللہ کی قسم !اگر آپﷺ ہمیں زمین کے کناروں تک بھی چلنے کو کہیں گے تو ہم ہر گز انکار نہیں کریں گے اور جس مقصد کے لیے آپ ﷺ ہمیں لے جائیں گے ہم اسے پورا کر کے چھوڑیں گے ۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ نے بھی اسی طرح اپنی جاں نثاری کا اظہار کیا۔حضورﷺ نے ا س پر خوشی کا اظہار فرمایا،لیکن آپﷺ نے پھر وہی سوال دُہرایا:
’’لوگو، مجھے مشورہ دو، ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔‘‘
در حقیقت آپ ﷺیہ سوال انصارسے کر رہے تھے ۔مسلمانوں کے لشکر میں اُن ہی کی تعداد زیادہ تھی ۔لیکن جب ان کے نمائندوں نے مکّے آکر حضورﷺ سے بیعت کی تھی اور اسلام قبول کیاتھا تو انھوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر مدینے میں حضورﷺ کے خلاف کوئی حملہ ہوا تو انصار حضورﷺ کی حفاظت کریں گے اور کافروں سے لڑیں گے ۔ا ب جب حضورﷺ مدینے سے باہر نکل کر کافروں سے لڑنے آئے تھے تو آپﷺ کو یہ خیال ہواکہ کہیں انصار یہ نہ کہیں کہ وہ صرف مدینے ہی میں رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے ذمّے دار ہیں ، باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے پابند نہیں ۔
انصار سمجھ گئے کہ حضورﷺ ان کی رائے معلوم کرنا چاہ رہے ہیں ۔چناں چہ ان کے ایک سردار حضرت سَعد بن مُعاذؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ !شایدآپ ﷺ کی مُراد انصار سے ہے ۔‘‘
حضورﷺ نے فرمایا:’’ہاں ۔‘‘
سعدؓ نے کہا:
’’یا رسول اللہﷺ !ہم آپﷺ پر ایمان لائے ۔آپﷺ کی تصدیق کی او رگواہی دی کہ آپ ﷺ جو لائے ہیں ،وہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ہم نے آپﷺ سے وعدہ کیا ہے کہ آپﷺ کا ہر حکم مانیں گے اور آپﷺ کی اطاعت کریں گے ۔اس لیے اے اللہ کے رسولﷺ !آپ ﷺ جہاں جائیں گے ،ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں ۔اللہ کی قسم، اگر آپﷺ ہمیں سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں تو ہم بلا جھجک اس میں کود پڑیں گے اور ہمارا کوئی آدمی پیچھے نہیں رہے گا ۔ہم دشمن سے نہیں ڈرتے ۔آپﷺ ان شاء اللہ ہمیں لڑائی میں ثابت قدم پائیں گے ۔‘‘
رسول اللہ ﷺ کا چہرہ یہ تقریر سُن کر چمک اُٹھا اور آپﷺ نے خوش ہو کر فرمایا:
’’تو پھر اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو ،کیوں کہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ ہمیں کافروں پر ضرور غلبہ عطا کرے گا ۔اللہ کی قسم، میں گویا وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو ہوکر گریں گے۔‘‘
ہم رسول اللہﷺ کی بخشش پر راضی ہیں
قبیلہ ہُوازِن نے مسلمانوں کے خلاف کئی بار کافروں کا ساتھ دیا تھا۔مکّے کی فتح کے بعد اس قبیلے کے سردار نے مسلمانوں کے خلاف ایک بڑا لشکر جمع کرنا شروع کر دیااور کئی دوسرے قبیلوں کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
جب حضورﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپﷺ نے بھی روانگی کا ارادہ کر لیااور بارہ ہزار کا لشکر لے کر مکّے سے نکلے ۔حنین کی وادی میں اسلام کے دشمنوں سے مقابلہ ہوا ۔کافروں کو شکست ہوئی ۔
اس جنگ میں بہت سا مالِ غنیمت اور قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے ۔مال غنیمت میں چوبیس ہزار اونٹ اور چالیس ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں شامل تھیں ۔
اس مالِ غنیمت سے جو ہوازن سے حاصل ہواتھا ،رسولﷺ نے مکّے کے مسلمانوں کوا ن کی دل جوئی کے لیے زیادہ حصّہ دیا۔ قریش کے سرداروں کو سوسو اونٹ دیے ،بعض کو کم بھی دیے مگر انصار کو کچھ نہ دیا۔اس پر انصار کو رنج ہوااور بعض نوجوانوں نے تو کہہ بھی دیا کہ رسول ﷺ نے قریش کو انعام دیا اور ہمیں محرو م رکھا ،حال آنکہ ہم نے جہاد میں بھر پور حصّہ لیا۔
انصار کے ایک سردار ،حضرت سعد بن عبادہؓ ،حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا،’’یا رسول اللہ ﷺ !لوگ ایسا کہہ رہے ہیں ۔‘‘
حضورﷺ نے کہا:’’سعد !کیا تم بھی ؟‘‘
سعدؓ نے صاف صاف کہا ،’’حضورﷺ !میں بھی اپنی قوم کا ایک فرد ہوں ۔‘‘
حضورﷺ نے فرمایا ۔’’اچھا، تم تمام انصار کو ایک جگہ جمع کرو۔‘‘
سعدؓ گئے اور انھوں نے تمام انصار کو ایک جگہ جمع کیااور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کر دیا کہ حضورﷺ کے حکم کی تعمیل ہوگئی ہے ۔حضورﷺ اس جگہ تشریف لے گئے اور فرمایا:
’’اے انصار !مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کے دل میں میری طرف سے ا س قسم کے خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔کیایہ سچ نہیں ہے کہ میں تمھارے پاس اس وقت آیا جب تم گم راہ تھے؟پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے تمھیں سیدھا راستہ دِکھایا ۔تم غریب تھے ، اللہ نے میرے ذریعہ سے تمھیں دولت دی ۔تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ،اللہ نے میرے ذریعہ سے تم میں اتفاق پیدا کیا۔‘‘
انصار نے جواب دیا:
’’بے شک ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ہم پر بڑا احسان اور فضل کیا ہے ۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر تم مجھ کو یہ جواب دو تو دے سکتے ہو کہ :
’’اے محمد !ﷺ ،جب دوسرے لوگوں نے تمھیں جھٹلایا تو ہم نے تمھاری تصدیق کی۔جب دوسرے لوگوں نے تمھیں نکال دیا تو ہم نے تمھیں جگہ دی ۔جب تم رنجیدہ تھے تو ہم نے تمھاری دل جوئی کی۔
اے انصار !اگر تم یہ جواب دیتے جاؤ گے تو میں یہ کہتا جاؤں گا کہ تم سچ کہتے ہو۔لیکن کیا اس معمولی سے سازو سامان کے نہ دینے سے تمھارے دل میں ایسے خیالات آئے ؟یہ مالِ غنیمت میں نے ان لوگوں کو دیا ہے جن کو میں اسلام کی طرف مائل کرنا چاہتا ہوں اور تم کو میں نے تمھارے اسلام کے سپرد کیا ہے ۔
اے انصار!کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ کوئی اونٹ لے جائے اور کوئی بکری اور تم رسول اللہ ﷺ کوسا تھ لے کر گھر جاؤ ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصا ر ہی میں سے ایک شخص ہوتا۔اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار دوسرے راستے پر، تو میں انصار ہی کا راستہ اختیار کروں گا۔
اے اللہ ! انصار پر رحم فرما اور انصار کے بیٹوں اور بیٹیوں پر بھی رحم فرما۔‘‘
حضورﷺ کی اس تقریر کو سُن کر انصار اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں بھیک گئیں اور ان سب نے ایک زبان ہو کر کہا :
’’ہم رسول اللہ ﷺ کی بخشش اور تقسیم پر دل و جان سے راضی ہیں ۔‘‘
خوش نصیب عبداللہ
رسول اللہ ﷺ اپنے غریب اور مخلص صحابہؓ سے کس درجہ محبت کرتے تھے اور ان کا کتنا خیال رکھتے تھے ،اس کا اندازہ حضرت عبداللہؓ کے واقعے سے لگایا جا سکتا ہے ۔
عبداللہؓ کانام عبد العزّیٰ تھا۔وہ چھوٹے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ۔چچا نے ان کی پرورش اپنے ذمّے لے لی ۔بڑے ہوئے تو چچا نے اونٹ اور بکریاں ان کو دے دیں اور ان کی حیثیت اچھی ہو گئی ۔
یہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا ۔حضورﷺ مکّے میں توحید کا پیغام پہنچا رہے تھے ۔عبداللہؓ کے کان میں بھی یہ آواز پڑی ،سمجھ دار اور ہوشیار تھے ، طبیعت اس طرف مائل ہوئی ،دل نے گواہی دی کہ یہ سچی بات ہے ۔بُت پرستی سے نفرت اور اسلام سے محبت پیدا ہوئی ۔چچا کے زیر سایہ تھے ،وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ڈرتے تھے کہ اگر ان کو بتا چلے گا تو ناراض ہوں گے ۔چناں چہ دل کی بات دل میں رکھی ۔
اس طرح کئی سال گزر گئے ۔حضورﷺ ہجرت کر کے مدینے چلے گئے ۔عبداللہؓ انتظار کرتے رہے ۔جب بہت بے چین ہوئے تو فیصلہ کرلیا کہ اب جو کچھ بھی ہو اپنے اسلام لانے کا اظہار کر دیں گے ۔چچا کے پاس گئے اور کہنے لگے :
’’چچا جان !مجھے انتظار کرتے ہوئے برسوں گزر گئے ہیں کہ کب آپ کے د ل میں اسلام کی روشنی پھوٹے اور کب آپ مسلمان ہوں ۔ لیکن آپ کا حال وہی ہے ۔میں اب زیادہ انتظار نہیں کر سکتا ، زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ۔مجھے اجازت دیجیے کہ میں مسلمان ہوجاؤں ۔‘‘
چچایہ سُن کر غصّے میں آگئے اور کہنے لگے :’’اگر تم نے محمدﷺ کا دین قبول کیا تو میں تم سے سب کچھ چھین لو ں گا ۔تمھارے بدن پر یہ کپڑے بھی نہیں رہنے دوں گا ۔‘‘
عبداللہؓ نے جواب دیا:’’ چچا جان ! میں شرک اور بُت پرستی سے بے زار ہوں ۔اللہ ایک ہے اور وہی بندگی کے لائق ہے ۔میں نے طے کر لیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کروں گا ۔آپ جو چاہے کیجیے ۔یہ مال و دولت جو میرے پاس ہے سب لے لیجیے ۔مجھے اس کی پروا نہیں ۔میں جانتا ہوں کہ ان سب چیزوں کو آخر ایک روز یہیں چھوڑ جانا ہے ۔میں ان چیزوں کے لیے سچّا دین نہیں چھوڑ سکتا ۔‘‘
عبداللہؓ نے یہ کہہ کر اپنا سب مال اسباب چچا کے حوالے کیا۔اپنے کپڑے اتار کر دے دئیے او ر اسی حالت میں اپنی ماں کے پاس پہنچ گئے ۔
ماں نے بیٹے کو اس حال میں دیکھا تو حیران رہ گئیں ۔پوچھا،’’یہ کیا ہوا ؟‘‘
عبداللہؓ نے جواب دیا ،’’امی جان !میں مسلمان ہو گیا ہوں ۔رسول اللہ ﷺ کے پا س جانا چاہتاہوں ۔چچا نے سب کچھ لے لیا ہے ۔مجھے بدن ڈھانکنے کے لیے کچھ دیجیے ۔‘‘
ماں نے ایک کمبل بیٹے کے بدن پر ڈال دیا۔عبداللہؓ نے کمبل کے دوٹکڑے کیے ۔ایک کا تہہ بند بنا لیا اور دوسرا چادر کی طرح اوڑھ لیا ۔اس کے بعد وہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے مدینے روانہ ہو گئے ۔
عبداللہؓ راستے کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے جب مدینے پہنچے تو صبح ہونے والی تھی ۔وہ مسجد نبوی پہنچ کر ایک طرف بیٹھ گئے ۔نماز کے بعد حضورﷺ کی نگاہ ان پر پڑی تو آپﷺ نے پوچھا ،’’تم کون ہو ؟‘‘
انھوں نے جواب دیا ،’’میرا نام عبدالعُزّیٰ ہے ۔فقیر اور مسافر ہوں ۔آپﷺ سے ملنے اور اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔‘‘
حضورﷺ نے فرمایا ،’’تمھارا نام اب عبداللہ ہے اور ذو البجادین لقب ۔(یعنی دو چادروں والے) تم ہمارے پاس ہی ٹھیرو اور مسجد میں رہاکرو۔‘‘
حضورﷺ کا ارشاد سن کر عبداللہؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
عبداللہؓ اسی دن سے مسجدِ نبوی میں اس چبوترے پر رہنے لگے جہاں دین کا علم سیکھنے والے رہتے تھے ۔وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے تھے اور ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کر کے حضورﷺ سے دین سیکھنے کے لیے یہاں رہتے تھے ۔ان کواصحابِ صُفہ کہا جا تا ہے ۔
ایک بار عبداللہؓ بڑے جوش میں اونچی آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے کہ حضرت عمرؓ کہنے لگے :
’’یہ اتنی اونچی آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں ۔ اس سے دوسروں کے قرآن پڑھنے میں ہرج ہوتا ہے ۔‘‘
حضورﷺ نے یہ سنا تو فرمایا:
’’اے عمرؓ ! اسے کچھ نہ کہو ۔یہ تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے سب کچھ چھوڑ کر آیا ہے ۔‘‘
حضرت عبداللہ کو حضورﷺ سے بہت محبت تھی ۔یہ ان کی خوش نصیبی تھی کہ وہ حضورﷺ کے اتنے قریب تھے ۔حضورﷺ بھی ان پر بہت شفقت کرتے تھے ۔
۹ ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک کے لیے مدینہ سے مسلمانوں کالشکر لے کر نکلے تو عبداللہؓ بھی ساتھ تھے ۔شہادت کی تمنّا دل میں تھی ۔راستے میں حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا،’’یا رسول اللہ ﷺ !میرے لیے دعا فر مائیے کہ اللہ مجھے شہادت نصیب کرے ۔‘‘
حضورﷺ نے فرمایا:
’’جاؤ،کسی درخت کی چھال اُتار لاؤ۔‘‘
جب وہ چھال اُتار کر لائے تو حضورﷺ نے وہ چھال ان کے باندھ دی اور فرمایا ،’’اے اللہ !میں عبداللہ کاخون کافروں پر حرام کرتا ہوں ۔‘‘
حضرت عبداللہؓ نے حیران ہو کر عرض کیا،’’یا رسول اللہ ﷺ !میرے ما ں باپ آپﷺ پر قربان ہوں ، میں شہادت کا آرزو مند ہوں اور آپﷺ میرا خون کافروں پر حرام کر رہے ہیں ۔‘‘
حضورﷺ نے فرمایا،’’جب تم اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑنے کو نکلے ہو تو اگر لڑائی سے پہلے تمھیں بخار آجائے اور اس حالت میں تم مر جاؤتو بھی شہید ہو گے ۔‘‘
اللہ کی شان کہ جب اسلامی لشکر تبوک پہنچا تو حضرت عبد اللہؓ کو بخار ہو گیا اور اسی بخار میں ان کا انتقال ہو گیا ۔جب اُن کو دفن کیاجانے لگا تو رات ہونے لگی تھی۔حضرت بلالؓ کے ہاتھ میں مشعل تھی۔حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نے انھیں قبر میں اُتارا ۔حضور ﷺ بھی ان کی قبر میں اُترے ،آپﷺ فرماتے جاتے تھے :
’’ اپنے بھائی کو ادب کے ساتھ قبر میں اتارو۔‘‘
پھر آپ ﷺنے حضرت عبداللہؓ کی قبر پر اپنے ہاتھ سے اینٹیں رکھیں اور ان کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے اللہ !میں عبداللہ سے راضی تھا،تو بھی راضی ہوجا۔‘‘
حضورﷺکے صحابی حضر ت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ یہ دعا سن کر میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش عبداللہؓ کی جگہ میری موت آئی ہوتی اور حضور ﷺ میرے بارے میں یہ الفاظ کہتے ۔
ابو ہریرہ کی بھوک
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ بھوک سے بے قرار ہو کر راستے میں آبیٹھے ۔غیرت کی وجہ سے سوال تو نہ کر سکتے تھے ،سوچا کی اگر کسی نے مجھے بھوکا سمجھ کر کھلا دیا تو کھا لوں گا۔
حضر ت ابو بکر صدیقؓ اُدھر سے گزرے علیک سلیک بھی ہوئی ،مگر و ہ کچھ بولے نہیں اور نکلے چلے گئے ۔پھر حضرت عمرؓ گزرے ۔ انھوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو دیکھا مگر انھوں نے بھی کچھ نہ پوچھا۔
اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ۔آپﷺ نے ابو ہریرہؓ کو دیکھااور ا ن کو اپنے ساتھ لے آئے ۔گھر میں دودھ کاایک پیالہ کہیں سے ہدیے میں آیا تھا۔حضورﷺ نے فرمایا:
’’ابو ہریرہ !جاؤ اصحا ب صُفہ کو بلالاؤ۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ سوچنے لگے کہ تھوڑا سا دودھ ہے ،اصحاب صُفہ آئیں گے تو کیا ہو گا۔اگر حضورﷺ یہ دودھ کا پیالہ مجھے ہی دے دیتے تو اچھا ہوتا۔لیکن حضورﷺ کا حکم تھا فوراًاٹھے اور جا کر اصحاب صُفہ کو بُلا لائے ۔
سب بیٹھ گئے تو حضورﷺ نے فرمایا:
’’ان کو دودھ پلاؤ۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ نے دودھ پلانا شروع کیا۔اسی پیالے سے سب دودھ پینے لگے یہاں تک کہ سب کا پیٹ بھر گیا ۔
جب سب پی چکے تو حضورﷺ نے پیالے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر حضرت ابو ہریرہؓ سے فرمایا :
’’اب ہم اور تم باقی ہیں ۔بیٹھو اور پیو۔‘‘
حضرت ابو ہریرہؓ نے پیالے سے دودھ پیا۔
حضورﷺ نے فرمایا۔
’’ابو ہریرہ !اور پیو۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا:
’’بس یا رسول اللہ ﷺ!میں خوب سیر ہو گیا ۔‘‘
اس کے بعد حضورﷺ نے بسم اللہ کہہ کر باقی دودھ پی لیا۔
جنت کے لیے ہجرت
ایک بدّو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا،ایمان لایا اور کہنے لگا:
’’یارسو ل اللہ ﷺ !میں آپ ﷺ کے ساتھ رہوں گا اور آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا ۔‘‘
آپﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اس بدّو کاخیال رکھنا ۔ خیبر کی جنگ ہوئی تو حضورﷺ نے اس عرب بدّو کا بھی حصہ لگایا ۔یہ بدومسلمانوں کے جانور چَرایا کرتا تھا جب وہ جانور چَرا کر شام کو واپس آیا تو اس کا حصّہ اسے دیا گیا ۔اس نے یہ مال دیکھا تو پوچھا :
’’یہ کیا ہے ؟‘‘
صحابہ نے بتایا:
’’رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت میں سے یہ حصّہ تمھارے لیے رکھا ہے ۔‘‘
اس نے یہ سُن کر کہا:
’’میں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کے لیے نہیں ہوا تھا۔میں تو آپﷺ کے ساتھ اس لیے ہوا تھاکہ میرے حلق میں تیر لگے اور میں جنّت میں جا سکوں ۔‘‘
حضورﷺ نے سُنا تو فرمایا:
’’اگر اللہ سے تیرا معاملہ سچا ہے تو اللہ تیری یہ آرزو بھی پوری کرے گا ۔‘‘
جب جنگ ہوئی اور رسول ﷺ میدان جنگ سے گزرے تو اس بدّو کو شہید پایا ۔حضورﷺ نے پوچھا :
’’کیا یہ وہی اعرابی ہے ؟‘‘
لوگوں نے جواب دیا:
’’جی ہاں ،یا رسول اللہ ﷺ !‘‘
حضورﷺ نے فرمایا:
’’اس شخص کا معاملہ اللہ سے سچّا تھا،اللہ نے بھی اس کو سچّا کر دیا۔‘‘
ابو ذر غفاریؓ
اَبو ذر غفاری کو جب یہ خبر ملی کہ مکّے میں ایک صاحب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول ﷺ ہوں ،اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہ اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور بُری باتوں سے روکتے ہیں تو پہلے انھوں نے اپنے بھائی کو تحقیق کے لیے بھیجا اور پھر خو د مکّے روانہ ہو گئے ۔وہاں پہنچے تو لوگوں کو حضورﷺ کا سخت مخالف پایا۔
وہ خاموشی سے مسجد حرام میں رسول اللہ ﷺ کوتلاش کرنے لگے ۔چوں کہ آپﷺ کو پہنچانتے نہ تھے اور کسی سے پوچھنا بھی نہ چاہتے تھے ،اس لیے مل نہ سکے ۔حضرت علیؓ نے انھیں دیکھا تو سمجھا کہ کوئی مسافر ہیں ۔تیسرے دن حضرت علیؓ نے انھیں پھر دیکھا تو پوچھا کہ وہ کون ہیں اور کس کام سے آئے ہیں ؟
ابو ذر غفاریؓ نے حضرت علیؓ کو اپنے مکّے آنے کا مقصد بتایا ۔حضرت علیؓ نے کہا کہ وہ انھیں حضور ﷺ کے پا س لے چلیں گے ۔ دوسرے دن صبح حضرت علیؓ خاموشی کے ساتھ ان کو لے کر حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے ۔ابو ذر غفاریؓ نے حضورﷺ سے اللہ کا کلام سنا اور اسی وقت مسلمان ہو گئے ۔
حضورﷺ نے ان سے کہا کہ وہ اپنی قوم میں واپس جائیں اور لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں بتائیں ۔
ابو ذر غفاری نے کہا:
’’جس اللہ نے آپﷺ کو بھیجا ہے اس کی قسم ،میں مکّے کے لوگوں کو یہ بتا کر جاؤں گا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں ۔‘‘
چناں چہ وہ مسجد حرام میں پہنچے اور بلند آواز سے کلمہ پڑھنے لگے ۔ان کے کلمہ پڑھتے ہی کافر ان پر ٹوٹ پڑے اور انھیں مارنے لگے۔حضرت عباسؓ نے دیکھا تو وہ لپک کر آئے اور ان کو کافروں سے بچایا کہ یہ غفار ی ہیں اور تمھارے تجارتی قافلے قبیلہ غفار کے راستے آتے جاتے ہیں ۔اگر تم نے ان کے ساتھ بد سلوکی کی تو تجارت بند ہو جائے گی اور بھوکے مرو گے ۔دوسرے دن ابو ذر غفاریؓ نے پھر ایسا ہی کیا۔کافروں نے انھیں پھر مارا اور حضرت عباسؓ نے پھر آکر انھیں بچایا ۔
حضرت ابو ذر غفاریؓ اپنے گھرواپس آئے اور اپنے بھائی اور ما ں کو بتایا کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں بھی اسلام لے آئے ۔
حضورﷺ شمع ہیں ،صحابہ پروانے
ذی قعدہ ۶ ہجری میں رسولﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ خانہ کعبہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔نبیوں کا خواب بھی ایک طرح کی وحی ہوتی ہے ۔حضورﷺ نے اسے اللہ کی طرف سے اشارہ سمجھ کر عُمرے کی تیاری شروع کردی اور عمرے کا احرام باندھ کر اور قربانی کے جانور ساتھ لے کر چودہ سو صحابہ کے ساتھ مکّے کی طرف روانہ ہو گئے ۔
جب حضورﷺ مکّے کے قریب پہنچے تو قریش کو لڑائی کے لیے تیار پایا ۔آپﷺ اس خیال سے کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو حدیبیہ کے مقام پر پہنچ کر ٹھیر گئے ۔
قریش کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے خُزاعہ کے سردار بُدیل بن ورقہ کو یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ حضورﷺ کس مقصد سے آئے ہیں ۔آپ ﷺ نے اسے بتا دیا کہ آپ ﷺ اللہ کے گھر کی زیارت اور عمرہ کرنے آئے ہیں ،اور کوئی مقصد نہیں ہے ۔
بُدیل نے یہی بات واپس جا کر قریش کو بتادی ۔قریش مطمئن نہ ہوئے ۔انھوں نے کہا کہ ہم ہر گز اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ مسلمان زیارت اور عمرے کے بہانے آئیں اور ہمارے شہر کو فتح کر لیں ۔
انھوں نے پھر حلیس بن علقمہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا ۔حلیس نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان احرام باندھے ہوئے ہیں اور قربانی کے اونٹ ساتھ ہیں تو چُپ چاپ واپس جا کر قریش سے کہنے لگا کہ مسلمان قربانی کے اونٹ لے کر عمرہ کرنے آئے ہیں ،انھیں روکنا مناسب نہیں ۔قریش نے اس کی بات بھی نہ مانی ۔
اس کے بعد قریش نے عُروہ بن مسعود کو مسلمانوں کی آمد کا مقصد معلوم کرنے اور ان کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا۔اس نے آکر رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپﷺ کس ارادے سے آئے ہیں ؟حضورﷺ نے وہی جواب دیا جو وہ اس سے پہلے دے چُکے تھے۔
عُروہ جب حضورﷺ کے پاس سے واپس گئے تو قریش سے کہنے لگے :
’’لوگو!میں نے بہت دنیا دیکھی ہے ۔قیصر و کسریٰ کے درباروں میں گیا ہوں ،نجاشی کا دربار بھی دیکھا ہے ،مگر جو شان میں نے محمد ﷺ کی دیکھی ہے وہ کسی کی نہیں دیکھی ۔میں نے ان کے ساتھیوں کو جیسی عزت ان کی کرتے دیکھا ویسی کسی اور کی نہیں دیکھی ۔وہ ان کے وضو کے پانی کو زمین پر گرنے نہیں دیتے ۔ان کے سامنے اونچی آواز سے نہیں بو لتے ۔جب مُحمد ﷺ بولتے ہیں تو نہایت ادب اور خاموشی سے ان کی بات سنتے ہیں ۔ان کی نظریں نیچی رہتی ہیں ۔وہ ادب سے سر نہیں اُٹھاتے ۔
اے اہل قریش !تمھارے لیے یہی بہتر ہے کہ ان سے نہ اُلجھو اور جس ارادے سے وہ آئے ہیں ،وہ ان کو پورا کرنے دو۔‘‘
سعدؓ کی آرزو
رسول ﷺ جب کسی کے گھر جاتے تو دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کر اندر آنے کی اجازت چاہتے ۔آپﷺ گھر کے دروازے کے بالکل سامنے اس لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے کہ اُس وقت تک گھروں کے دروازوں پر پردہ ڈالنے کا رواج نہیں تھا ۔اگر آواز دینے پر گھر میں سے جواب نہ آتا تو حضورﷺ واپس چلے آتے ۔
ایک مرتبہ آپﷺ حضرت سَعد بن عبادہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور عادت کے مطابق دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کر اندر آنے کے لیے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘‘کہا۔
سعدؓ گھر میں موجود تھے ۔انھوں نے حضورﷺ کی آواز سنی اور اتنی آہستہ سے سلام کا جواب دیا کہ حضورﷺ نے نہیں سنا ۔
سعدؓ کے بیٹے قیسؓ نے باپ سے کہا:
’’ابّا جان !رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں ،آپ حضورﷺ کو اندر آنے کے لیے کیوں نہیں کہتے ؟‘‘
حضر ت سعدؓ نے بیٹے سے کہا:
’’چپ رہو،رسول اللہﷺ بار بار سلام کریں گے اور آپﷺ کا سلام کرنا ہمارے لیے بڑی برکت کا باعث ہو گا۔‘‘
حضورﷺ نے جب گھر کے اندر سے کوئی جواب نہیں سنا تو دوبارہ ‘‘السلام علیکم ‘‘کہا۔سعدؓ نے اس مرتبہ بھی آہستہ سے سلام کاجواب دیا ۔
حضورﷺ نے تیسری مرتبہ پھر ’’السلام علیکم‘‘کہہ کر اندر آنے کے لیے فرمایا اور جب اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہ ملا تو آپ ﷺ واپس لوٹنے لگے ۔حضرت سعدؓ نے آپﷺ کو جاتے دیکھا تو دوڑ کر حضورﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ! میں آپﷺ کا سلام سن رہا تھا لیکن آہستہ آہستہ جواب دیتا تھا تا کہ آپ ﷺبار بار مجھ پر سلامتی بھیجیں ۔‘‘
ایک صحابی کی ثابت قدمی
رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی تھے ،خالد بن سعیدؓ ۔انھیں جب معلو م ہوا کہ اُن کے باپ کو اُن کے مسلمان ہونے کا پتا چل گیا ہے تو وہ اُن کے ڈر سے چھُپ گئے ۔مگر ان کے باپ نے انھیں ڈھونڈ لیااور پکڑو ا کر بُلالیا۔جب وہ آئے تو پہلے تو ان کو خوب ڈانٹا ،پھٹکارا اور پھر ایک لکڑی لے کر مارنا شروع کر دیا ۔اتنا مارا کہ لکڑی ٹوٹ گئی ۔پھر کہنے لگے :
’’تونے محمدﷺ کی پیروی کرلی ہے ۔تو دیکھتا نہیں کہ وہ ہمارے دین کو بُرا کہتے ہیں اور ہمارے بزرگوں کو گم راہ قرار دیتے ہیں ۔‘‘
خالدؓ نے جواب دیا:
’’اللہ کی قسم ،وہ سچّے ہیں ۔میں ان کا فرماں بردار ہوں ۔‘‘خالدؓ کے باپ نے انھیں پھر مارا اور یہ کہتے ہوئے گھر سے نکال دیا۔
’’جہاں تیرا جی چاہے چلا جا ۔میرے گھر میں تجھے کھانے کو نہیں ملے گا ۔‘‘
انھوں نے کہا:
’’کوئی غم نہیں ،مجھے رزق دینے والا تو اللہ ہے ۔‘‘
پھر وہ حضوﷺ کے پاس آئے اور وہیں رہنے لگے۔
ایک روز وہ مکّے کے باہر کسی سنسان جگہ نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی نے انھیں دیکھ لیا اوران کے باپ کو جا کر خبر کی ۔باپ نے انھیں بُلوا کر پھر کہا:
’’محمدﷺ کا دین چھوڑ دے ۔‘‘
خالدؓ نے جواب دیا :
’’ہر گز نہیں ، میں اب یہ دین مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا ۔‘‘
یہ جواب سُن کر باپ نے پھر ا ن کی پٹائی شروع کر دی ۔پھر انھیں گھر میں قید کر دیااور تین دن تک بھوکا پیاسا رکھا۔مکّے کی سخت گرمی میں وہ بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کرتے رہے ۔پھو موقع پا کر گھر سے نکل بھاگے ۔کچھ دن اِدھر اُدھر چھپتے پھرتے رہے پھر جب مہاجرین کا پہلا قافلہ حبشہ کی طرف روانہ ہوا تو اس کے ساتھ چلے گئے ۔
بیٹا اور باپ
مکّے کے بزرگ لوگوں میں ایک شخص تھا جس کانام حصین تھا۔وہ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا۔ایک دفعہ وہ دل میں ایک بُرا ارادہ لے کر حضورﷺ کی مجلس میں آیا ۔
حَصین کے بیٹے عمران جو مسلمان ہو چکے تھے اُ سوقت اس مجلس میں موجود تھے اور حضورﷺ کے قریب بیٹھے تھے ۔عمران نے اپنے باپ کو آتے دیکھا تو وہ اُن کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوئے اور نہ اُن سے کوئی بات کی ،بلکہ ایسے ہو گئے جیسے وہ حصین کو پہنچانتے ہی نہ ہوں ۔ حصین چُپ چاپ آکر بیٹھ گئے ۔رسول ﷺ یہ جانتے تھے کہ یہ شخص آپﷺ کادشمن ہے اور نقصان پہنچانے کی نیت سے آیا ہے ،مگر آپﷺ نے ان کی طرف توجہ فرمائی ۔ان کو بٹھا یا ،پھر ان کو ایمان لانے کی دعوت دی اور قرآن پاک کی چند آیتیں ان کو سنائیں ۔
حصین خاموشی سے سنتے رہے ان کے دل پر اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق ،آپﷺ کی باتوں اور قرآن پاک کی آیتوں کاایسا اثر ہوا کہ اچانک بول اُٹھے :
’’آپﷺ اللہ کے سچّے نبی ہیں اور آپﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے ۔‘‘پھر اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔
جو نہی حصین کے منھ سے یہ الفاظ نکلے ،عمران بڑے ادب سے کھڑے ہو گئے ۔آگے بڑھ کر اپنے باپ سے لپٹ گئے ،ان کے سر کو چو ما اور ہاتھ پاؤں کو بوسہ دیا۔
حضورﷺ نے جب یہ منظر دیکھا تو آپﷺ رو پڑے ۔
آپﷺ کے صحابہؓ نے جو اس مجلس میں موجود تھے، حضورﷺ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو بے چین ہو گئے ،پوچھنے لگے :
’’یا رسول اللہ ﷺ !آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں ؟‘‘
حضورﷺ نے فرمایا:
’’عمران کے باپ کافر تھے اور جب وہ اس حالت میں ان کے سامنے آئے تو وہ نہ ان کی تعظیم کے لیے اٹھے اور نہ اُن کی طرف دیکھا ،لیکن جب وہ اسلام لے آئے تو انھوں نے باپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جو اُن کا حق تھا۔یہ دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہو گئی ۔‘‘
جب حصین حضورﷺ سے اجازت لے کر جانے لگے تو آپﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا :
’’جاؤ !حصین کو اُن کے گھر تک چھوڑ آؤ۔‘‘
خالدؓ اور یاسرؓ
صحابہؓ کے لیے سب سے بڑی دولت رسول اللہؓ کی اطاعت اور آپ ﷺ کی خوشنودی تھی ،اس لیے وہ اپنے جذبات کو بھی آپﷺ کی خواہش پر قربان کر دیتے تھے ۔
حضرت خالد بن ولیدؓ مزاج کے تیز تھے ، لیکن حضورﷺ کے حکم کے سامنے ان کے مزاج کی تیزی نرمی میں بدل جاتی تھی ۔ایک مرتبہ ان میں اور حضر ت عمار بن یاسرؓ میں کسی معاملے پر بحث ہوگئی ۔بحث اتنی بڑھی کہ سخت کلامی ہو نے لگی ۔حضرت عمارؓ حضورﷺ کے ان صحابہ میں سے تھے جو اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لائے ۔انھوں نے دین کی خاطر بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں ۔ہجرت کے بعد ہر غزوہ میں حضور ﷺکے ساتھ رہے اور بہادری کے جوہر دکھائے ۔انھوں نے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت خالدؓ کی شکایت کی ۔اسی وقت حضرت خالدؓ بھی آگئے ۔وہ شکایت سُن کر سخت غصّے میں آگئے اور حضرت عمارؓ کو بُرا بھلا کہنے لگے ۔
حضورﷺخاموش تھے ۔حضرت عمار بن یاسرؓ آنکھوں میں آنسو بھر لائے اور کہنے لگے:
’’حضورﷺ !آپﷺ دیکھ رہے ہیں کہ خالدمیر ے ساتھ کتنی زیادتی کر رہے ہیں ؟‘‘
حضورﷺ نے سر اٹھا کر فرمایا:
’’جو شخص عمار سے بغض رکھتا ہے ،وہ اللہ سے بغض رکھتا ہے ۔‘‘
خالدؓ حضورﷺکا یہ ارشاد سنتے ہی شرمندہ ہو گئے اور فوراًاٹھ کر حضرت عمارؓ کو منانے لگے ۔وہ کہتے تھے:
’’جب میں حضورﷺ کے پاس سے اٹھ کر آیا تو عمارؓ کی رضاجوئی سے بڑھ کر مجھے اور کوئی چیز عزیز نہ تھی ۔‘‘
خوب صورت چادر
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور ایک چادر حضورﷺ کو پیش کی جس کا کنارا بہت خوب صورت بنا ہوا تھا۔
عورت نے عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ !میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بُنا ہے اور اسے خود لے کر آئی ہوں کہ آپﷺ کو پہناؤں ۔‘‘
حضورﷺ معمولی چیز بھی جو آ پﷺ کو ہدےئے کے طور پر پیش کی جاتی تھی، قبول فرما لیتے تھے ۔آپﷺ کو اس وقت چادر کی ضرورت بھی تھی ۔آپﷺ نے وہ چادر لے لی اور اس کوپہن کر باہر تشریف لائے ۔
ایک صاحب نے چادر کو دیکھ کر بہت تعریف کی اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ! یہ چادر مجھے عطاء فرمائیے ۔‘‘
حضورﷺ نے وہ چادر اسی وقت اتار کر ان صاحب کو دے دی ۔
صحابہؓ نے جو یہ دیکھا تو اُن صاحب سے کہا ،’’تم نے یہ اچھا نہ کیا۔حضورﷺ کو اس چادر کی ضرورت تھی،آپﷺ نے اُسے پسند فرمایا تھااور پہن لیا تھا ۔اب تم نے اسے مانگ لیا حال آنکہ تمھیں معلوم تھا کہ حضورﷺ کبھی انکار نہیں فرماتے ۔‘‘
ان صاحب نے جواب دیا:
’’واللہ ،میں نے یہ چادر حضورﷺ سے اس لیے نہیں مانگی کہ میں اس کو اوڑھوں گا ۔میں نے تو یہ چادر حضورﷺ سے اس لیے لی ہے کہ یہ میرا کفن ہو۔‘‘
اُن صاحب کی یہ خواہش پوری ہوئی ۔جب وہ مرے تو اُن کو اُسی چادر میں جو حضورﷺ نے ایک بار پہن لی تھی ،دفن کیا گیا۔

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top