skip to Main Content

برف کی قیدمیں

ش کاظمی

……..

ایک کوہ پیما کی برفانی تودوں سے مقابلے کی سنسنی خیز داستان

………

۱۹۰۲ کی اس دوپہر کو قدرت نے اینوس ملز کی جرات اور استقلال کا امتحان لے ہی لیا۔ موسم نہایت خوشگوار تھا اور آسمان پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اینوس ملز نہایت مزے میں الگ سمت کی طرف جا رہا تھا۔ یکایک بارہ ہزار فٹ بلندی پر پہلی بار اسے بے چینی اور تکلیف کا احساس ہوا۔ اگر وہ وہیں رک جاتا اور آگے بڑھنے کے بجائے سورج ڈھلنے کا انتظار کر لیتا تو شاید یہ حادثہ پیش نہ آتا لیکن اسے تو اپنے تجربے، اپنے علم اور آگاہی پر بڑا بھروسہ تھا۔ سر کو بے پروائی سے جھٹک کر وہ آگے بڑھ گیا۔ ایک بار پھر اسے اپنی آنکھوں کے گرد جلن کا احساس ہوا، لیکن اس نے اسے وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
اسے اپنے گھر سے نکلے ہوئے تین دن گزر چکے تھے۔ ان تین دنوں میں اس نے تقریباً ایک سو میل کا سفر پیدل ہی طے کیا اور ابھی اتنا ہی فاصلہ طے کرنا باقی تھا۔ خوراک کا ذخیرہ گزشتہ رات ہی ختم ہو گیا تھا۔ تاہم ملز کو کوئی فکر نہ تھی۔ کھانا کھا کر وہ مغربی ڈھلوان پر اپنے گرم تھیلے نما بستر میں آرام سے سویا اسے معلوم تھا کہ کھانے پینے کی چیزیں کہاں سے مل سکتی ہیں۔ ان ہی علاقوں میں کہیں کہیں جنگل کی حفاظت پر مامور سرکاری محافظوں اور سرنگوں میں کام کرنے والوں نے اپنے مکان بنا رکھے تھے۔ وہ سب اینوس ملز کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ صبح سویرے وہ اٹھا اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اس نے کئی غیر ضروری چیزیں پھینک دیں۔
اب اس کے پاس بستری تھیلے کے علاوہ، کیمرہ، کمر سے بندھی ہوئی چمڑے کی پیٹی، چاقو، واٹر پروف ماچس بکس اور چھڑی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ آنکھوں پر دھوپ کی مضبوط اور قیمتی عینک چڑھا کر وہ سفر پر روانہ ہو گیا۔ برف پر پھسلنے کے لیے اس نے اپنے پیروں میں لکڑی کے بنے ہوئے دو پھسلواں تختے باندھ لیے تھے۔ اسے برف پر پھسلنے کی بڑی مشق تھی اور کبھی حادثہ پیش نہیں آیا تھا، لیکن اس روز پہلے ہی مرحلے پر وہ ایک درخت سے بری طرح ٹکرا کر الٹ گیا۔ درخت کی شاخوں پر جمی ہوئی برف اس ٹکر سے جھڑ گئی اور ملز نے اپنے آپ کو برف میں دبے ہوئے پایا۔ برف سے نکل کر اس نے دیکھا کہ عینک غائب ہے۔ ایک گھنٹے تک دیوانہ وار وہ عینک ڈھونڈتا رہا لیکن بے سود۔ اب پہلی بار اسے پریشانی کا احساس ہوا۔ سورج آہستہ آہستہ مشرقی پہاڑیوں کے عقب سے جھانکنے لگا اور برف پر جب اس کی کرنیں پڑیں تو ملز کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔اس کی آنکھوں کے پپوٹے سختی سے یوں بند ہو گئے جیسے دوبارہ کبھی نہ کھلیں گے۔ اسے تیز دھوپ اور برف پر منعکس ہوتی ہوئی روشنی کا احساس ہونے لگا۔ اس تیز روشنی نے تو اس پر ظلم ڈھایا تھا۔ آنکھوں کے اندر جیسے آگ لگی ہوئی تھی۔ چند لمحے بعد تکلیف ناقابل برداشت ہو گئی اور وہ بری طرح تڑپنے لگا۔آج اس کا سارا غرور ٹوٹ گیا، تجربہ ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ اپاہج اور بے بس انسان کی طرح اس ویرانے میں کھڑا اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔
وہ سوچنے لگا کہ عینک کے بغیر اتنا طویل سفر کیسے طے کیا جائے گا۔ اس نے اپنی ٹوپی کے چھجے کو ذرا آگے جھکایا اور تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ لیکن ”راکی ماؤنٹین نیشنل پارک“ کے علاقے میں پہنچنے سے تھوڑی دیر بعد ہی وہ بصارت سے قطعاً محروم ہو گیا۔
ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر وہ سوچنے لگا کہ کیا کرنا چاہیے۔ جس راستے سے واپس جا رہا تھا وہ ایسا راستہ تھا کہ شاذو نادر ہی ادھر سے کسی کا گزر ہوتا اور ویسے بھی سردیوں کے اس موسم میں جبکہ برف کا طوفان کسی وقت بھی نازل ہو سکتا تھا، کئی کئی ہفتے کوئی نہ آتا۔ وہ دل ہی دل میں اس علاقے کا نقشہ یاد کرنے لگا۔ پیچھے جانے کا تو سوال ہی نہ تھا۔ دائیں بائیں نہایت گہری ڈھلوانیں اور کھائیاں تھیں۔ اگر وہ آنکھوں سے معذور نہ ہوجاتا تب بھی ان اطراف کو جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ صرف سامنے کی راہ کھلی تھی۔ بلاشبہ اس لمبے ان دیکھے سفر میں بیشمار خطرے تھے جن سے دوچار ہوئے بغیر وہ کبھی گھر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اسے اب آنکھوں کی اہمیت کا احساس ہوا کہ انسان ان کے بغیر کتنا مجبور اور کیسا بے بس ہے۔ وہ خدا سے دعا مانگنے لگا کہ آسمان پر بادل چھا جائیں تاکہ سورج ان میں جا چھپے اور اس طرح اس تیز روشنی سے نجات ملے جو صاف شفاف برف میں سے نکل کر اسے اندھا کر گئی ہے۔ اپنی تکلیف کا احساس کیے بغیر وہ دوبارہ چلنے کے لیے تیار تھا۔ اسے یاد آیا کہ پچھلے سال جب وہ اس راستے سے گزرا تو ایک درخت کے نیچے دم لینے رکا تھا۔ بیٹھے بیٹھے اس نے درخت کے نرم تنے پر چاقو سے اپنا نام بھی کھودا تھا۔ یہ درخت کس جگہ تھا؟ اگر اس کا سراغ لگ جائے تو وہ آسانی سے اس راستے پر چل پڑے گا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ درخت کے قریب ہی بالکل پاس پاس ایک قطار میں سات دوسرے درخت بھی موجود ہیں اور ہر درخت ایک دوسرے سے پانچ سات فٹ کے فاصلے پر ہے۔ درختوں کی اس قطار کی بالکل سیدھ میں اندازاً پانچ یا چھ میل دور ایک کان کن کی جھونپڑی ہے۔ا س جھونپڑی تک پہنچ جانے کے بعد اس کی زندگی محفوظ ہوجائے گی۔
یہ تفصیلات یاد آجانے سے اسے کچھ اطمینان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اوسان بحال رکھے جائیں اور احتیاط سے کام لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنی منزل پر نہ پہنچے۔ آخر وہ کوئی انجان آدمی تو نہیں ہے۔ چپہ چپہ اس کا دیکھا بھالا ہے۔ سینکڑوں آدمیوں کی رہنمائی کر چکا ہے۔ پس نہایت جوش اور حوصلہ مندی سے وہ آہستہ آہستہ پھسلتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ دیکھے بغیر برف پر پھسلنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی مرتبہ وہ ٹھوکریں کھا کر بری طرح گرا۔ مگر وہ رکا نہیں، مسلسل پھسلتا رہا۔ وہ پندرہ بیس گز کا فاصلہ طے کرکے رکتا۔ اپنی چھڑی کے ذریعے مایوس ہو کر آگے چل دیتا۔ اسے یہ بھی خوب معلوم تھا کہ اگر راستہ بھٹک کر وہ کہیں اور نکل گیا تو کوئی شخص بھی اس کی تلاش میں نہیں نکلے گا اور اس کی قبر اسی برف کے اندر بنے گی۔
ایک گھنٹے کی جان لیوا مشقت کے بعد وہ اس قابل ہو گیا کہ گرے بغیر پھسل سکے لیکن اس کے بعد اس کی قوت جواب دے گئی۔ بھوک اور تھکن کے باعث وہ بے جان ہو کر گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔

٭……٭

اینوس ملز کو ہوش آیا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں کے پپوٹے بری طرح سوج چکے ہیں۔ ہوا کی رفتار سے اس نے اندازہ کیا کہ سورج مغرب کی طرف ڈھل رہا ہے اور برف آہستہ آہستہ گر رہی ہے۔ اس نے ٹٹول کر اپنی چھڑی اٹھائی اور پناہ کی تلاش میں ادھر ادھر لپکا۔ آخر ایک چٹان سے اس کا ہاتھ ٹکرایا۔ اس نے اسے اچھی طرح ٹٹولا۔ کوئی مانوس سا نشان؟ کوئی جانی پہچانی علامت؟ وہ سوچنے لگا کہ یہ چٹان کیا پہلے بھی اس جگہ تھی؟ نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے وہ اس کے گرد گھومنے لگا۔ اسے بہت جلد پتا چل گیا کہ اس چٹان کے اندر اتنی جگہ موجود ہے، جہاں وہ پناہ لے سکتا ہے۔ مگر فوراً ہی اس کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے۔ وہ بھوکا پیاسا کب تک زندہ رہے گا؟ کاش وہ چند لمحوں کے لیے دیکھ سکتا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، مگر بے سود۔

وہ اس کھوہ کے اندر سمٹ سمٹا کر لیٹ گیا اور سوچنے لگا کہ جان بچانے کے لیے آخر کیا کرنا چاہیے۔ اسے اپنی بے وقوفی اورجلد بازی پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔ رات کو خوب پیٹ بھر کر بچی کچھی روٹی نہ پھینکتا تو یقینا آج فاقہ نہ کرنا پڑتا۔ اس نے طے کر لیا کہ برف باری بند ہونے کے بعد دوبارہ اس مقام پر جائے گا۔ جہاں گزشتہ رات روٹی کے ٹکڑے پھینکے تھے۔ وہ جگہ زیادہ دور نہیں ہے۔ اسی طرح کے صد ہا خیالات اس کے ذہن میں گردش کرتے رہے۔ اسے اپنی بیوی اور تین معصوم بچوں کی یاد ستانے لگی، وہ سب اس وقت بڑے کمرے میں بیٹھے ہوں گے۔ آتش دان میں آگ روشن ہو گی، باورچی خانے میں کھانا پک رہا ہو گا۔ بھنے ہوئے گوشت، تازہ روٹی اور پھر خوشبو دار کافی کا تصور کرتے ہی اس کا ذہن قلابازیاں کھانے لگا۔ ساری رات اس پر بے ہوشی، نیند اور غنودگی کی سی کیفیت طاری رہی۔ عجیب عجیب ڈراؤنے خواب دکھائی دیئے اور صبح جب وہ بیدار ہوا تو اس کا بدن کا ایک ایک جوڑ فریاد کررہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نادیدہ ہاتھ نے اس کی بری طرح پٹائی کی ہے۔ آنکھیں بدستور بند تھیں۔ اس نے چھڑی اٹھائی اور کھوہ کے منہ پر جمی ہوئی برف ہٹا کر گھسیٹتا ہوا باہر نکلا۔ اس نے اپنی آنکھوں کو چھو کر دیکھا، سوجن پہلے سے کم ہو گئی تھی۔ وہ دیر تک پپوٹوں پر برف رگڑتا رہا۔ برفانی ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے۔ بھوک اور سردی کے باعث وہ حد درجہ نڈھال تھا لیکن جوں توں کرکے وہ کچھ فاصلے پر گیا۔ رات اس نے فیصلہ کیا تھا کہ جدھر سے آیا ہے ادھر جا کر روٹی کے ٹکڑے تلاش کرے گا۔ مگر ان حالات میں پیچھے جانا ناممکن بات تھی۔ ہوا کا رخ بدل چکا تھا۔ عین ممکن تھا کہ پیچھے جاتے ہوئے وہ لڑھک کر کسی گہرے کھڈ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا۔ اپنی بے چارگی اور قابل رحم حالت پر اسے خود رونا آگیا۔ یہ وہی اینوس ملز تھا جس کی رہنمائی اور تجربے کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ جسے اس سرزمین کے چپے چپے کا راز معلوم تھا، جو صنوبر کے ان ہزاروں لاکھوں درختوں کو پہچانتا تھا لیکن …… قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وہی شخص ایک معصوم بچے کی طرح اس برفانی تاریکی میں بھٹکنے کے لیے مجبور تھا۔ آج اس کا ہمہ گیر تجربہ اور علم کسی کام نہ آیا۔
خدا کا نام لے کر وہ ایک طرف چل پڑا۔ وہ مشرق کی طرف جانا چاہتا تھا۔ لیکن آدھے گھنٹے تک ایک ڈھلوان پر پھسلنے کے بعد وہ ایک چٹان سے ٹکرا کر گر پڑا۔ اس نے اندازہ کیا کہ مشرق کی طرف اس راہ میں ایسی چٹان پہلے نہ تھی۔ ایسا تو نہیں کہ وہ غلط راستے پر جا رہا ہو؟ اس نے دونوں ہاتھوں سے چٹان کو اچھی طرح ٹٹولا۔ دو فٹ گہرائی تک برف کھود ڈالی۔ اس برف کو چھونے کے بعد وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ راستہ مشرق کو نہیں جاتا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کس طرف جارہا تھا؟ وہ ایک بار پھر جانے پہچانے درختوں کی تلاش میں آگے بڑھا۔ مایوسی، بھوک اور جان جانے کے خوف نے اس کے حواس گم کر دیئے تھے۔ ایک جگہ دوبارہ اس کا پیر پھسلا اور اوندھے منہ برف پر گر پڑا۔ اس کے حلق سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔ کوئی پراسرار سخت سی چیز اس کے سر سے ٹکرائی تھی۔ اس نے پاگلوں کی طرح ہاتھ مارے اور ٹٹول کر دیکھا تو ٹین کا بنا ہوا ایک بڑا ڈبا ہے جس میں بسکٹ بھرے ہوتے ہیں اور جسے دکان سے خرید کر سیاح اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ ڈبے کے وزن سے اندازہ ہوتا تھا کہ خالی نہیں …… نہ معلوم یہ ڈبا کس بدقسمت سیاح کے سامان سے نکل کر گر پڑا تھا۔ ڈبا پا کر ملز کو جتنی مسرت ہوئی وہ شاید زندگی میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے بے تاب ہو کر چاقو جیب سے نکالا اور ڈبے کی پتلی چادر کو کاٹ ڈالا۔ اس میں واقعی بسکٹ کے ٹکڑے بھرے ہوئے تھے۔ اس نے کھانے سے پہلے یہ ٹکڑے گنے اور اسے کچھ اطمینان ہوا کہ اگر مزید تین روز تک وہ ان برفانی پہاڑوں میں بھٹکتا پھرے تب بھی ان ٹکڑوں سے پیٹ کی تھوڑی بہت آگ بجھائی جا سکتی ہے۔ اس نے صرف تین ٹکڑے کھائے اور نرم نرم برف چبا کر پیاس بجھائی۔ اس کے بدن میں کچھ جان آئی اور حوصلے اور عزم کی وہ قوت جو کچھ دیر پہلے فنا ہو چکی تھی، دوبارہ واپس آگئی۔ بسکٹوں کاڈبا نہایت احتیاط سے اپنی کمر کے گرد باندھ کر وہ اٹھا اور چھڑی ہاتھ میں لے کر نادیدہ منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔ پھسلتے پھسلتے دفعتہ اس نے محسوس کیا کہ اس کے پیروں تلے سے برف کھسکتی جا رہی ہے۔ وہ غالباً کسی ڈھلوان کے قریب پہنچ گیا تھا کیونکہ اس کی رفتار حد سے زیادہ تیز ہو گئی تھی۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی۔ مگر ناکام رہا۔ ایک زبردست جھٹکے کے ساتھ وہ گرا اور ساٹھ ستر فٹ کی گہرائی تک لڑھکنیاں کھاتا چلا گیا۔ لیکن اسے کوئی چوٹ نہ لگی، چھڑی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ اسے فوراً محسوس ہو گیا کہ وہ جس جگہ گرا ہے، وہاں برف کے نیچے سے پانی نکل رہا ہے۔ اس کا دل بیٹھ گیا، وہ جلدی سے اٹھا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ ابھری ہوئی چٹان کا ایک کنارہ اس کے ہاتھ آیا۔ وہ اس کے چاروں طرف گھوما۔ یقینا وہ کسی گہرے کھڈ میں گر گیا تھا۔ اس نے جلد ہی معلوم کر لیا کہ گڑھا پندرہ بیس فٹ چوڑا اور تقریباً اتنا ہی لمبا ہے۔ پانی آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ پہلے وہ اس کے جوتوں میں گھسا اور پھر گھٹنوں تک آگیا۔ اس کا جسم سردی سے یخ ہو گیا اور ہاتھ پیر جواب دینے لگے۔ اس نے سوچا اگر اس گڑھے سے باہر نہ نکلاتو تھوڑی دیر بعد وہ خود برف کے اندر جم جائے گا۔ وہ اپنے حافظے پر زور دینے لگا۔ مشرق کی طرف جانے والے راستے میں ایسا نشیب کس جگہ ہے؟ حافظے نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا، لیکن وہ مایوس نہ ہوا اور بڑی جدوجہد کے بعد چٹان پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگر وہ اور اوپر چڑھ سکے تو جان بچ جائے گی۔ ایک ایک انچ رینگتا ہوا، نہایت صبر و استقلال اور دھڑکتے ہوئے دل سے وہ اوپر جانے لگا۔ تیز ہوا کے جھکڑ بار بار اسے نیچے دھکیلنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ برف کے ہلتے ہوئے تودوں کو پکڑ کر اوپر چڑھتا چلا گیا۔ اس کا سانس پھول گیا اور بدن کی تمام قوت کھینچ کر اس کے سینے میں سمٹ آئی۔ اس نے سوچا، ممکن ہے یہاں سے قریب ہی کسی کان کن کا کیبن ہو۔ چند لمحے تک پھولا ہوا سانس درست کرنے کے بعد وہ پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر آوازیں دینے لگا۔
”یہاں کوئی ہے کوئی شخص جو میری مدد کرسکے۔“
وہ دیر تک آوازیں دیتا رہا، مگر اس کی آواز پہاڑیوں سے ٹکرا کر واپس آگئی۔ اسے معلوم تھا کہ بعض اوقات معمولی دھماکے کے باعث بڑے بڑے برفانی تودے لڑھک کر نیچے آنے لگتے ہیں۔کوئی ذی روح تودوں کے نیچے آکر زندہ نہیں بچ سکتا، لیکن بہرحال یہ خطرہ مول لیے بغیر چارہ نہ تھا وہ کھڑا ہو گیا اور ایک بار پھر پوری قوت سے پکارنے لگا۔ اس کی آواز اردگرد کی برفانی چوٹیوں سے ٹکراتی تو ایک عجیب سی گھن گرج دور تک پھیلتی چلی جاتی۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے دائیں جانب سے آنے والی ”صدائے بازگشت“ کچھ زیادہ ہی گونج دار ہے۔ اس نے ادھر منہ پھیر کر آواز دی۔ آہ …… بے شک آواز اسی جانب زیادہ گونج دار ہے۔ کیا ادھر کوئی درہ ہے اور یہ راستہ مشرق کی جانب ہی جاتا ہے، لیکن اس درے میں کس طرف سے داخل ہونا چاہیے۔ مزیداوپر جانے کی اس میں ہمت نہ تھی اور نشیب میں پانی تھا۔ یخ بستہ طوفانی ہواؤں کے جھکڑ اور تیزی سے چلنے لگے۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی ٹانگیں سن ہو چکی ہیں اور ارادے کے باوجود وہ آسانی سے حرکت نہیں کر سکتا۔

٭……٭

ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے کہ جنوب کی طرف سے ایک ہولناک گرج کے ساتھ برفانی تودے لڑھکنے لگے۔ اس کا دل لرز گیا اور پھر تو چاروں طرف سے تودے گرنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اینوس ملز کو یوں محسوس ہوا جیسے توپیں چل رہی ہوں۔ کان پھاڑ دینے والی گرج اور دل ہلا دینے والی گونج …… وہ برف کے اوپر اوندھا لیٹ گیا اور خدا کو یاد کرنے لگا۔
چھوٹے بڑے تودے اولوں کی طرح اس کے اردگرد، دائیں بائیں نشیب میں گر رہے تھے۔ اگرچہ وہ دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن یہ منظر اس کا جاناپہچانا اور برسوں کا دیکھا بھالا تھا۔
اسے حیرت تھی کہ کوئی تودا اسے کچلتا ہوا نہیں گرا۔ شاید زندگی کے کچھ دن ابھی باقی تھے۔ آدھے گھنٹے تک بے حس و حرکت پڑا رہنے کے بعد وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اس کا سہارا وہی پرانی چھڑی تھی جو برسوں سے ساتھ نبھا رہی تھی، وہ بھی نہ جانے برف کی کن گہرائیوں میں دفن ہو چکی تھی۔ اس کے پیروں سے پھسلنے والا ایک تختہ بھی کھل کر کہیں گر گیا تھا۔ اس نے دوسرا تختہ بھی کھول کر فضا میں دائیں جانب اچھال دیا اور اس کے گرنے کی آواز پر کان لگا دیے۔ تختہ یقینا اسی درے میں گرا اور اس کے گرنے سے جو شور پیدا ہوا اس سے ملز نے اندازہ کر لیا کہ وہ اس چوٹی کے بالکل قریب نشیب میں واقع ہے۔ اب وہ تصور کی آنکھوں سے راستے کی صحیح پوزیشن دیکھ سکتا تھا۔
آنکھیں بند ہونے کے باوجود بارہا اسے یوں نظر آیا جیسے درہ سامنے ہے اور وہ اس میں داخل ہو گیا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اتنا آسان نہ تھا۔ ایک ایک قدم پھونک کر رکھتا ہوا وہ اور بلندی کی طرف چلا۔ اسے حیرت تھی کہ اس طرف کوئی درخت نہیں لیکن پچاس ساٹھ گز کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس کا سر درخت کی کسی جھکی ہوئی لمبی شاخ سے ٹکرایا۔ اس نے فوراً اسے پکڑ لیا اور ہلکا سا زور لگا کر درخت سے الگ کر لیا۔ گمشدہ چھڑی کا نعم البدل حاصل ہوجانے پر اس کے اطمینان میں اضافہ ہو گیا۔ اب وہ پیٹ کے بل لیٹا چھپکلی کی طرح رینگ رہا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ ایسے حصے میں پہنچ گیا۔ جہاں چاروں طرف درخت ہی درخت تھے۔ اس کے بعد یکایک پھر وہ نشیب کی طرف کھسکنے لگا۔ مگر اب وہ خوف زدہ نہ تھا کیونکہ یہ نشیب اسے درے کی طرف لے جارہا تھا۔ اب اسے یاد آیا کہ یہاں ایک کے بجائے کئی درے ہیں۔ آنکھیں بند ہوجانے کے بعد اس کی دوسری باطنی قوتیں بیدار ہورہی تھیں۔ بہت فاصلے پر کسی تودے کے گرنے کی آواز سن کر اسے اندازہ ہوجاتا تھا کہ آواز کدھر سے آئی ہے۔ اسے برسوں کی بھولی ہوئی باتیں اور سفری نقشے یاد آنے لگے لیکن برف کی اس دنیا میں جہاں ہر آن تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، پرانے نقشے اور بھولی بسری یادیں ساتھ نہیں دیا کرتیں۔ اسے اتنا احساس ضرور تھا کہ قدرت کا نادیدہ ہاتھ جس نے اس کو مصیبت میں مبتلا کیا ہے، وہی اب اسے کشاں کشاں لیے منزل کی طرف لے جا رہا ہے۔
فراز کی نسبت نشیب میں اترنا نہایت جان جوکھوں کا کام ہے اور پھر ایسے آدمی کے لیے جو بصارت سے محروم ہو چکا ہو۔ یہ کام دانستہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اینوس ملز جس نشیب کی طرف بڑھ رہا تھا وہ واقعی خطرناک اور جان لیوا تھا۔ اگر ذرا بھی پیر پھسلتا تو چٹانی پتھروں سے ٹکرا کر اس کا بھیجا پاش پاش ہوجاتا۔ چنانچہ اس خطرے سے بچنے کے لیے وہ پھر برف پر لیٹ گیا اور آس پاس اگے ہوئے درختوں کا سہارا لیتا اور شاخیں پکڑتا ہوا نیچے جانے لگا۔ راہ میں کئی مرتبہ رک کر اس نے درے کی گہرائی کا اندازہ کیا اور پھر آگے بڑھنے لگا۔ اس کا خیال تھا کہ درے تک پہنچنے کے لیے ایک گھنٹہ درکار ہو گا۔ لیکن رفتار سست ہونے کے باعث اس کام میں پورے تین گھنٹے صرف ہوئے۔ بے پناہ مشقت اور چیونٹی کی رفتار سے پھسلنے کے باعث وہ بالکل ادھ موا ہو گیا۔ مگر رکا نہیں۔ وہ رات ہونے سے پہلے پہلے درے کے اندر پہنچ جانا چاہتا تھا۔

اس نے کمر سے بندھا ہوا ڈبا کھولا، بسکٹ کے تین چار ٹکڑے کھائے، کچھ دیر سستایا اور پھر نیچے پھسلنے لگا۔ یکایک اسے محسوس ہوا کہ پورا پہاڑ نیچے لڑھک رہا ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ برف کے جس تودے پر وہ لیٹا ہوا تھا وہ اچانک الگ ہو کر تیزی سے نشیب میں جا رہا تھا۔ اینوس ملز کا جسم دہشت کے مارے پتھر کا ہو گیا۔ تھوڑی دیر پہلے زندگی کی جو آس اس کے دل میں نمودار ہوئی تھی، وہ یک لخت مر گئی۔ اس نے خود کو بچانے کے لیے کوئی جدوجہد نہ کی اور اپنے آپ کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ برف کا یہ عظیم تودہ سرکتا ہوا تیزی سے نیچے ہی نیچے جا رہا تھا۔ اینوس ملز کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ فضاؤں میں اڑ رہا ہے۔ ایک گرج دار آواز کے ساتھ جو میلوں تک پہاڑوں میں پھیلتی چلی گئی، برف کا تودہ درے میں گر گیا لیکن اینوس ملز جس بھیانک موت کا منتظر تھا، وہ موت اسے نہ آئی، اس نے اپنے آپ کو چھاتی تک گہرے پانی میں ڈبکیاں کھاتے پایا۔ یہ پانی برف کی ٹھوس اور دبیز چادر پھاڑ کر باہر آرہا تھا۔ اس کا بہاؤ بڑا تیز تھا۔ اینوس ملز میں مزید مصائب برداشت کرنے کی سکت نہ تھی۔ وہ پانی کے ساتھ نیم بے ہوشی کی حالت میں بہتا ہوا طویل درے کے آخری سرے تک پہنچ گیا۔ جہاں پانی کا یہ ریلا ایک بڑی آبشار کی صورت میں ساٹھ ستر فٹ کی مزید گہرائی میں گر رہا تھا۔ پانی کے گرنے سے ایک ہولناک شور پیدا ہوا جس نے اینوس ملز کے مردہ اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ زندہ رہنے کی خواہش ایک بار پھر اس کے اندر کروٹیں لینے لگی اس نے ہاتھ پیر مارے اور پوری قوت مجتمع کرکے پانی کے بہاؤ کو کاٹتا ہوا الٹی طرف تیرنے لگا۔ اس نے آبشار گرنے کی آواز سن لی تھی اور وہ درے کے دائیں کنارے پر اگی ہوئی کائی نما گھاس کی طرف بڑھنے کی جان توڑ کوشش کررہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب اس کے ذہن کے دریچے کھل چکے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ اس درے کا پانی آگے چل کر دریائے تھامپسن میں شامل ہوجائے گا اور اگر وہ ایک مرتبہ دریا میں پہنچ گیا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے غرق ہونے سے نہیں روک سکتی۔
دفعتہ اس کے ہاتھ ایک نوکیلی چٹان سے چھو گئے۔ ملز نے فوراً اس پر اپنی گرفت مضبوط کر دی۔ پانی جھاگ اڑاتا، اس کے جسم کو سن کرتا، مسلسل آگے جا رہا تھا۔ چند منٹ بعد وہ چٹان پر پناہ لے چکا تھا۔ اس نے اپنی کمر کے گرد بندھی ہوئی پیٹی کو ٹٹولا۔ اس حادثے میں نہ صرف پیٹی کھلی تھی بلکہ بسکٹ کا ڈبا اور بستری تھیلا بھی پانی کی نذر ہو چکے تھے۔ وہ دیوانوں کی طرح چٹان کو ٹٹولتا ہوا اوپر جانے لگا۔ یکایک اسے ٹھوکر لگی اور وہ نرم نرم برف کے ایک بہت بڑے تودے کے اندر آدھا سما گیا۔ اس نے بمشکل اپنے آپ کو آزاد کیا اور اسے پتا چلا کہ قریب ہی ایک اور جسم موجود ہے۔ اس نے اسے چھوا، لمبے اور موٹے نرم بالوں کا گھچا اس کے ہاتھ آیا۔ اس نے اس انکشاف پر اور تیزی سے ادھر ادھر ہاتھ مارے۔ یہ ایک پہاڑی بھیڑ کی لاش تھی جو نہ جانے کب سے اس برف میں دبی ہوئی تھی۔
بھیڑ کی یہ لاش اس بات کا ثبوت تھی کہ کسی نہ کسی محافظ کا کیبن قریب ہی ہے۔ چنانچہ اینوس ملز نے دس پندرہ منٹ تک آوازیں لگائیں، لیکن جواب میں وہی صدائے بازگشت سنی۔ سورج غروب ہو گیا اور فضا میں خنکی بڑھتی گئی۔ حتی کہ درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے گر گیا۔ اب وہ پناہ کی تلاش میں تھا۔ اس نے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب ٹٹولی، چاقو اور واٹر پروف ماچس کی ڈبیا موجود تھی۔ اس چٹان کے دوسری جانب درے کا وہ حصہ تھا جہاں برف کے اوپر ہلکی ہلکی کائی جمی ہوئی تھی ان دراڑوں میں سے گزرتا ہوا وہ جنگل کے ایسے حصے میں جا نکلا جہاں سردی نسبتاً کم تھی اس نے ادھر ادھر سے درختوں کی خشک ٹہنیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ وہ دیر تک آگ تاپتا رہا اور پھر اس نے چاقو سے بھیڑ کا گوشت کاٹا،اسے آگ پر سینکا اور اچھی طرح پیٹ بھر لیا، رات کے آخری حصے میں جبکہ اس پر نیم غشی کا عالم طاری تھا، ایک عجیب سی آواز سن کر اسے ہوش آگیا۔ اس نے آواز کی طرف کان لگا دیئے۔ یہ آواز آہستہ آہستہ بلند ہوتی ہوئی نزدیک آرہی تھی۔ وہ یکدم اچھل کر اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور اندھا دھند گرتا پڑتا ایک جانب دوڑنے لگا، اپنی اس بروقت ہوشیاری اور چستی پر اسے بعد میں بڑی حیرت ہوئی۔ اگر وہ وہاں سے بھاگنے میں ذرا بھی تاخیر کرتا تو آٹھ ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے والا ایک عظیم برفانی تودہ اس کی ہڈی پسلی ایک کرتا ہوا نکل جاتا۔
سورج طلوع ہونے تک وہ چلتا گیا۔ اب وہ ایک کھلے میدان میں سے گزر رہا تھا۔ اس میدان کی سرزمین اس کی جانی پہچانی اور دیکھی بھالی تھی۔ اس نے کئی مرتبہ جھک کر اپنے ہاتھوں سے زمین کا معائنہ کیا اور درختوں کو ٹٹولتا ہوا آگے ہی آگے چلتا رہا۔ سوائے چلنے کے اور وہ کر بھی کیا سکتا تھا؟
اچانک وہ رکا اور کسی چالاک درندے کی مانند، جو اپنے شکار کی بو ہوا میں سونگھ لیتا ہے منہ اوپر اٹھا کر دو تین مرتبہ زور زور سے ہوا میں سونگھا۔ خوشی کے تاثرات اس کے چہرے پر پھیل گئے۔ سفیدے کی لکڑی جلنے سے جو بدبو پیدا ہوتی تھی، بالکل ویسی ہی بو اس کے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔ اس علاقے میں رہنے والے لوگ سفیدے کے درخت کی لکڑی جلاتے تھے۔ اس نے حلق پھاڑ کر آواز لگائی۔
”کیا کوئی یہاں ہے…… کوئی ہے……“ لیکن اس کی آواز ہوا کے دوش پر سفر کرتی ہوئی فضا کی وسعتوں میں گم ہو گئی۔ وہ کچھ دور چلتا اور آوازیں لگاتا۔ لکڑی کے جلنے کی بو اب اسے بالکل قریب محسوس ہور ہی تھی۔ دوپہر تک وہ رکے بغیر اسی طرح آوازیں دیتا چلتا گیا۔اب اس کے نتھنوں میں گھوڑے کی لید کی سی بو آئی۔ وہ خوشی سے بے تاب ہو کر لپکا اور لکڑی کے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے کیبن کی دیوار سے جا ٹکرایا۔ لیکن چوٹ کی پروا کیے بغیر اس نے دروازہ تلاش کیا اور اندر گھس گیا اسے امید تھی کہ فوراً کوئی شخص اس کے استقبال کو آئے گا، مگر…… اس نے کیبن کا کونا کونا چھان مارا، وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کی مسرت حد درجے مایوسی اور رنج میں بدل گئی۔ اس نے وہیں پڑی ہوئی ایک کلہاڑی اٹھائی۔ کیبن کا دروازہ توڑ کر اس کے ٹکڑے کیے اور انہیں آگ دکھا دی۔ گیلے کپڑوں کے ساتھ وہ آگ کے قریب بیٹھ گیا تاکہ کپڑوں کو سکھا سکے اور اس طرح بیٹھے بیٹھے اسے نیند آگئی۔
آنکھ کھلی تو سردی سے اس کا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔ آگ بجھ چکی تھی۔وہ چپ چاپ بیٹھا کچھ سوچتا رہا۔ آنکھوں کے پپوٹے اب بھی بند تھے۔ اس کا ذہن بالکل صاف اور آزاد تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ صدیوں سے اندھا، اس برفانی ویرانے میں گھوم رہا ہے۔ اس نے تھوڑی دیر بعد اٹھنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ پیروں نے حرکت کرنے سے انکار کر دیا۔
”نہیں ……“ وہ چیخا۔ ”نہیں …… میں اس طرح نہیں مر سکتا۔“ اس پر یک بیک جنون سوار ہو گیا اور پھر ہاتھ پاؤں کھل گئے۔ اس نے کھڑا ہونا چاہا مگر لڑکھڑا کر اوندھے منہ فرش پر گر پڑا اور دیر تک اسی طرح پڑا رہا۔ بہت دیر بعد اس کے ذہن میں دھندلی دھندلی تصویریں اور واقعات ابھرے اسے یاد آیا کہ وہ کولوریڈو کی برفانی پہاڑیوں میں بھٹک گیا ہے اور اب وہ گھر کی طرف جا رہا ہے۔ ایک دن اور ایک رات وہ اس کیبن میں آرام کرتا رہا اور لکڑیاں جلا جلا کر اپنے جسم کو حرارت پہنچاتا رہا۔ اس دوران میں اسے امید تھی کہ آنکھیں کھل جائیں گی مگر ایسا نہ ہوا۔

٭……٭

تیسرے دن وہ علی الصبح کیبن سے باہر نکلا۔ اگر وہ اس وقت اپنا حلیہ آئینے میں دیکھنے کے قابل ہوتا تو اپنے آپ کو ہر گز پہچان نہ سکتا۔ پھٹے ہوئے کپڑے، ٹوٹا ہوا جوتا، داڑھی بڑھی ہوئی، آنکھیں بند، کمر جھکی ہوئی اور چال میں لڑکھڑاہٹ جیسے برسوں کا بیمار ہو اور زندگی کے آخری دن نہایت کسمپرسی کے عالم میں کاٹ رہا ہو۔
کیبن سے نکلتے ہی وہ خودبخود صحیح راستے پر چل پڑا۔ لیکن تھوڑی دور جا کر بھٹک گیا اور پھر ایک دن اور ایک رات مسلسل چلتا رہا۔ کتنی مرتبہ وہ گرا پھسلا اور بے ہوش ہوا اور زخم کھائے۔ ان سب باتوں کا اسے کوئی احساس نہ تھا۔ وہ بھوک اور پیاس سے بھی بے نیاز ہو چکا تھا۔ پانچویں روز جب وہ ایک ڈھلوان سے گزر رہا تھا اس کا پیر پھسل گیا اور اس مرتبہ اسے اپنی دائیں ٹانگ میں درد کا شدید احساس ہوا۔ تکلیف کا احساس ہوتے ہی وہ پاگلوں کی طرح چیخیں مارنے لگا۔ اس کے منہ سے جھاگ اڑنے لگے، وہ ہمت کرکے اٹھا ٹانگ کی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر ہاتھ پھیرا اور آگے گھسیٹنے لگا۔ یہ وہ نازک لمحات تھے جو اس سے پہلے اینوس ملز کی زندگی میں نہیں آئے تھے۔ اسے حیرت تھی کہ وہ کون سی قوت ہے جو اب تک اسے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یا وہ واقعی مر چکا ہے اور اپنے گناہوں کی پاداش میں یہ عذاب جھیل رہا ہے۔
ٹانگ ٹوٹ جانے سے اس کی ہمت بالکل جواب دے گئی۔ وہ برف پر گرکر زور زور سے ہانپنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اس پر غشی طاری ہو گئی۔ بہت دیر بعد جب تازہ اور صاف ہوااس کے پھیپھڑوں میں پہنچی تو اس نے سر اٹھایا۔ اسے اپنے اردگرد روشنی کااحساس ہوا۔ اس نے جلدی سے آنکھوں کو ٹٹولا۔ سوجن پہلے سے کم ہو چکی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور چندھیائی نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا، لیکن اسے کچھ نظر نہ آیا۔ اس نے چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا اور بے دم ہو کر دوبارہ لیٹ گیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ موت و زیست کے درمیان رسا کشی جاری رہی۔ ملز میں ہلنے جلنے کی قوت بھی نہ تھی۔ وہ صرف موت کا انتظار کر رہا تھا۔
دفعتہ اس کے نتھنوں میں ایک بار پھر لکڑی جلنے کی بو آئی۔ اس مرتبہ بو بڑی تیز تھی۔ اس نے بمشکل گردن اٹھائی۔ فضا میں سونگھا، بے شک سفیدے کی لکڑی کہیں قریب ہی جل رہی تھی۔ اس نے مدد کے لیے پکارنا چاہا۔ تیز سیٹی کی مانند آواز اس کے حلق سے نکلی اور پھر اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔
”تم کون ہو؟“
اس کے کانوں میں کسی لڑکے کی آواز آئی۔
”بابا ادھر آؤ، دیکھو یہ کون ہے؟“
تھوڑی دیر بعد اینوس ملز نے برف پر بھاری جوتوں کی آواز سنی، کوئی آرہا تھا، پھر کوئی اس پر جھکا اور اس نے ایک مردانہ آواز سنی۔
”کوئی مصیبت زدہ سیاح ہے، شاید راستہ بھول گیا ہے۔“
اینوس ملز کو ہوش آیا، تو اس نے اپنے آپ کو ایسٹز پارک ہسپتال کے ایک آرام دہ کمرے میں پڑے پایا۔ اس کی بینائی لوٹ آئی تھی۔ اب وہ ہر شے بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ خوشی سے وہ رونے لگا۔ اس کی جان ایک لکڑہارے نے بچائی تھی۔ اینوس ملز کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یہ حادثہ پیش آنے کے بعددوبارہ برفانی ویرانے میں جانے سے توبہ کر لیتا، مگر وہ اگلے سال پھر روانہ ہوا اور مسلسل بیس سال تک جاتا رہا۔ مرنے سے کچھ دن پہلے جب اس نے امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں اپنے تجربات کا ذکر کیا، تو تقریر کے آخر میں ہنستے ہوئے یہ جملہ کہا تھا۔
”یاد رکھیے…… ویرانے کبھی دھوکا نہیں دیتے۔“

٭……٭……٭

Facebook Comments
error: Content is protected !!
Back To Top